کیا گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی اگلی حکومت بنانے جا رہی ہے؟


پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے 23 حلقوں پر 330 امیدواروں کے درمیان 15 نومبر کو انتخابات ہوں گے جس کے لیے سیاسی جماعتیں بھرپور مہم چلا رہی ہیں اور پہلی مرتبہ فوج کو الیکشن کے عمل سے باہر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر تو اسٹیبلشمنٹ نے وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کو برقرار رکھنا ہے تو پھر گلگت بلتستان میں برسر اقتدار حکومت ہی الیکشن میں کامیاب ہوگی لیکن اگر موجودہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کے نتیجے میں کوئی تبدیلی آنا طے ہے تو پھر گلگت میں پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کے قوی امکانات موجود ہیں۔
گلگت بلتستان میں ایک عام تاثر ہے کہ جس جماعت کی وفاق میں حکومت ہوتی ہے وہی جماعت عمومی طور پر حکومت بناتی ہے تاہم اس مرتبہ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مرکز میں برسرِ اقتدار جماعت تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہی اور ہوسکتا ہے کہ بلاول بھٹو کی جانب سے اس الیکشن میں خصوصی دلچسپی دکھانے کے باعث پیپلز پارٹی وہاں حکومت بنا لے۔ یاد رہے کہ ماضی میں گلگت بلتستان میں الیکشن نواز شریف دور میں ہوئے تھے اور وہاں نون لیگ کی حکومت وجود میں آئی تھی۔ اس سے پہلے پیپلزپارٹی کے زرداری دور حکومت میں گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تھی۔ تاہم یہ سب الیکشن فوج کی زیر نگرانی ہوئے تھے جبکہ اس مرتبہ ایسا نہیں ہے۔ لیکن باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے الیکشن کا نتیجہ اس مرتبہ بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے مطابق آئے گا کیونکہ یہ علاقہ سٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے اور یہاں کی حکومت کے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے اچھے تعلقات ہونے چاہییں۔
اس مرتبہ گلگت بلتستان میں انتخابات پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی پانچ سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد ہو رہے ہیں۔ تاہم الیکشن میں تھوڑا وقت رہ جانے کے باوجود ابھی تک برسراقتدار تحریک انصاف نے گلگت بلتستان میں کوئی قابل ذکر انتخابی مہم شروع نہیں کی جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یا تو انہیں اس علاقے کی اہمیت کا احساس نہیں اور یا وہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن مہم چلانے کے باوجود انھیں ووٹ نہیں ملیں گے۔ پی ٹی آئی کی گلگت بلتستان کے انتخابات میں عدم دلچسپی کے بعد یہ سوال نہایت اہم ہے کہ نئی حکومت کون بنائے گا؟
گلگت بلتستان اسمبلی کی کُل 33 نشستیں ہیں جن میں سے 24 پر براہِ راست انتخابات ہوں گے جب کہ چھ نشستیں خواتین اور تین ٹیکنوکریٹس کے لیے مخصوص ہیں۔ حلقہ گلگت 3 میں ایک امیدوار کی وفات کے باعث وہاں انتخابات 22 نومبر کو ہوں گے۔ گلگت بلتستان کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں جس طرح پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے الیکشن مہم میں حصہ لیا تھا، پی ٹی آئی اس لحاظ سے کہیں نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے اب تک گلگت بلتستان کا دورہ تک نہیں کیا اور نہ ہی الیکشن سے پہلے کوئی سیاسی پیکج سامنے آیا ہے اس کے برعکس پیپلز پارٹی نے 2009 میں ‘گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ ایند سیلف گوررنینس آرڈر’ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ کئی اصلاحات متعارف کروئی تھیں۔
گلگت بلتستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے بھی اپنے دورِ حکومت میں سرتاج عزیز کی سربراہی میں آئینی حقوق کمیٹی بنائی تھی تاکہ گلگت بلستان کے عوام کے آئینی حقوق پر کام کیا جا سکے۔ پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق) کے علاوہ اسلامی تحریک، مجلس وحدت المسلمین اور گلگت بلتستان کی علاقائی جماعتوں کے علاوہ بڑی تعداد میں آزاد امیدوار بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم چونکہ بلاول بھٹو سب سے پہلے گلگت پہنچے اور وہاں ایک ہفتے سے زائد قیام کے دوران جگہ جگہ انتخابی جلسے کیے اس لیے اب ہوا ایسی بنی بنتی نظر آتی ہے کہ جیسے شاید وہاں اگلی حکومت پیپلز پارٹی کی ہو گی۔گلگت بلتستان کی مجموعی آبادی تقریباً 15 لاکھ ہے اور اس کے 10 اضلاع ہیں۔ تقریباً سات لاکھ افراد رائے دہی کے استعمال کرنے کے اہل ہیں۔
سینئر تجزیہ کار اور سماجی کارکن اسرار الدین اسرار کا کہنا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں انتخابی مہم زور و شور پر ہے، ہر طرف سیاسی جماعتوں کے جھنڈے لہرا رہے ہیں، ریلیاں ہو رہی ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں ووٹرز کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ اُن کے بقول گلگت بلتستان میں اصل مقابلہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان ہے۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو کے دورے سے پیپلز پارٹی کو فائدہ ہو رہا ہے۔ ووٹرز اُنہیں سن رہے ہیں جس کا الیکشن نتائج پر بہت اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے بقول ناراض ووٹرز، کارکن اور امیدواروں کو ایسے موقع پر منا لیا جاتا ہے جو الیکشن سے قبل پارٹی کے لیے بہت مفید ثابت ہوتے ہیں۔اسرار الدین کہتے ہیں گلگت بلتستان میں مقامی سطح پر بجلی، بے روزگاری، تعلیم، انفراسٹرکچر اور سب سے بڑھ کر صحت کے مسائل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں کوئی بھی اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال نہیں ہے جس کی وجہ سے مقامی افراد کو علاج معالجے کے لیے اسلام آباد یا ملک کے دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
دوسری طرف حالیہ ہفتوں کے دوران مسلم لیگ (ن) اور دیگر سیاسی جماعتوں سے بڑی تعداد میں ‘الیکٹ ایبلز’ نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ حکومتی پارٹی نے انتخابی مہم چلانے کی بجائے پاور پالیٹیکس پر فوکس کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان اسٹرٹیجک اہمیت کا علاقہ ہے اور وہان ہمیشہ وہی جماعت حکومت بناتی ہے جس کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں۔ چنانچہ ماضی میں جس کی وفاق میں حکومت بنی اسی کی گلگت بلتستان میں بھی حکومت بنی۔ شاید اسی وجہ سے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت پر امید ہے کہ انہیں گلگت بلتستان میں زور لگانے کی ضرورت نہیں اور وہ یہ خیال کیے بیٹھے ہیں کہ الیکشن ان کی جیب میں ہے۔ لہذا تحریک انصاف کا سارا زور الیکٹیبلز کو اپنی جماعت میں شامل کرنے پر ہے۔ اب تک مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی فدا محمد ناشاد، سابق وزیرِ قانون ڈاکٹر محمد اقبال، حیدر خان، سابق صوبائی وزیر ابراہیم ثنائی سمیت کئی سیاسی رہنما پی ٹی آئی میں شامل ہوچکے ہیں جس کے بعد پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ اس کی پوزیشن کافی مستحکم ہو گئی ہے۔
تاہم اگر تو الیکٹیبلز کا ووٹ بینک قائم رہا تو پھر تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان کی انتخابی مہم کے دوران اپنی تقریروں میں بار بار یہ وارننگ دی ہے کہ الیکشن میں کسی بھی قسم کی دھاندلی سے باز رہا جائے۔پیپلز پارٹی نے 1974 میں گلگت بلتستان سے ‘ایف سی آر’ کا نظام ختم کیا تھا جس کے بعد سے اب تک اس علاقے میں جتنی بھی اصلاحات ہوئی ہیں ان میں وہی پیش پیش ہے۔ اس لحاظ سے پیپلز پارٹی کی جڑیں یہاں مضبوط ہیں اور بلاول بھٹو کی انتخابی مہم نے پارٹی کی پوزیشن مذید بہتر کی ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق دیگر کئی مسائل کی طرح گلگت بلتستان کا بڑا مسئلہ آئینی حقوق کا ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان میں 10 اضلاع ہیں جو لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے نا کافی ہیں۔ اگرچہ پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنے دور حکومت میں تین نئے اضلاع کی منظوری دی تھی تاہم اب تک اس پر عمل در آمد نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ 73 برسوں سے گلگت بلتستان کی حیثیت متنازع رہی ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں میں علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں جب کہ گلگت بلتستان وہ واحد خطہ ہے جو 73 سالوں سے پاکستان کے ساتھ الحاق کی تحریک چلا رہا ہے اور یہاں کے لوگوں کا یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ چین پاکستان اقتصادی راہ داری منصوبے اور عالمی سطح پر کشمیر کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر اب یہاں کے عوام کو امید کی کرن نظر آ رہی ہے کہ شاید اُنہیں بھی قومی دھارے میں لا کر پاکستان کا پانچواں صوبہ بنا کر آئینی حقوق سے نوازا جائے گا۔
یاد رہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری طور پر ملک کا پانچواں صوبہ بنانے کے حوالے سے حال ہی میں سیاسی رہنماؤں اور اعلیٰ فوجی حکام کے درمیان اتفاق ہوا تھا۔ تاہم سیاسی قیادت نے اس معاملے کو علاقے میں انتخابات کے بعد زیرِ بحث لانے کی بات کی تھی۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر تو اسٹیبلشمنٹ نے وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کو برقرار رکھنا ہے تو پھر گلگت بلتستان میں برسر اقتدار حکومت ہی الیکشن میں کامیاب ہوگی لیکن اگر موجودہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کے نتیجے میں کوئی تبدیلی آنی ہے تو پھر وہاں پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کے قوی امکانات ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close