گستاخانہ خاکوں پر فرانسیسی صدر کا رویہ نفاق پیدا کرنے والا ہے

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر جو رویہ اختیار کیا وہ خود اپنے ملک میں نفاق پیدا کرنے جیسا ہے۔
عید میلاد النبی ﷺ کی مناسبت سے منعقدہ رحمت للعالمین قومی کانفرنس کے موقع پر صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں انسانیت کا درس دینے والے مغربی ممالک کا طرز عمل یہ ہے کہ 100 مہاجرین کو بھی برداشت کرنے سے انکاری ہیں اور انہیں سمندر میں ڈوبنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جانب ایک مسلمان کا کردار یہ ہے کہ 35 لاکھ مہاجرین کو قبول کرنے پر آج تک کسی سیاسی رہنما نے یہ نہیں کہا کہ انہیں واپس بھیجا جائے اور وہ ہمیں انسانیت سکھانے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کے 16 ممالک میں خدا یا نبی کے انکار سے بڑا یہ قانون بنایا گیا کہ ہولوکاسٹ (یہودیوں کے قتل عام) کا انکار کرنے پر تو فوجداری مقدمہ چلایا جائے گا اور سزا ہوگی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سارے یہودیوں کو قتل کیا گیا اس لیے اگر کوئی انکار کرے تو انہیں تکلیف پہنچتی ہے، ہم مانتے ہیں اس بات کو، لیکن مسلمانوں کی تکلیف کا تمہیں احساس نہیں جب کہ ریاست کی بنیاد پر یہ کام ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مذمت کرتا ہوں کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر جو رویہ اپنایا اس سے وہ خود اپنے ملک میں نفاق پیدا کررہے ہیں۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ دنیا بدل گئی ہے اب دنیا کا حال یہ ہے کہ عالمی فورمز میں اخلاقیات اور انسانی اقدار پر نہیں بلکہ تجارت اور پیسے کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں جیسا کہ کشمیر کے معاملے پر ہوا جن ممالک کے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات تھے ان کا جھکاؤ اسی کی طرف تھا اس میں اسلامی دنیا کے ممالک بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیائے اسلام ایک قیادت کی تلاش میں ہے اور عمران خان نے پہلی مرتبہ اقوامِ متحدہ میں ناموس رسالت کے حوالے سے تقریر کرکے یہ واضح کیا کہ گستاخانہ حرکات مسلمانوں کےلیے تکلیف دہ ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ مسلمان ایک ابھرتی ہوئی اور آگے بڑھنے والی قوم ہے لیکن اس کا کردار آئمہ، منبر اور محراب کے بغیر ممکن نہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نبی ﷺ کے اس راستے پر چلنے کی کوشش کریں جس کا تعین خود رسول اکرم ﷺ نے کیا اور مسجد میں بیٹھ کر تمام مسائل حل کیے جاتے تھے۔ صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ مسجد منبر اور محراب ایسی چیزیں ہیں جو رسول ﷺ کے زمانے میں مرکز تھے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس میں پاکستانیوں نے کیا کیا جب کہ بھارت، جہاں ہمارے جیسے لوگ ہی بستے ہیں ان کے مقابلے کورونا کو شکست دی اور دنیا اب کہتی ہیں کہ پاکستان سے سیکھو۔ انہوں نے کہا کہ میرے مطابق علمائے کرام کے ساتھ مل کر ہم نے جو طے کیا تھا کہ مساجد کھلی رکھی جائیں گی، اللہ سے لو لگائے رکھیں گے، معافی مانگتے رہیں گے، نماز تراویح کی ادائیگی جاری رکھی شاید اس لیے اللہ پاک کو ہم پر رحم آیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ نبی ﷺ نے جس قدر غریب کی فکر کی وہ اشرافیہ والے اور قانونی کے اعتبار سے خواتین اور کمزوروں کے استحصال والے عرب معاشرے میں سب سے بڑی تبدیلی تھی، انہوں نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لوگوں کو اپنے گھر کا کھانا دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب کا احساس معاشرے میں سب سے بڑی تبدیلی ہے جو نبی ﷺ لے کر آئے اور کورونا کے دوران پاکستانیوں نے بھی اس پر عمل کیا، مخیر حضرات کے علاوہ حکومت نے بھی احساس پروگرام کے تحت غریبوں کی فکر کی تو اللہ پاک نے ہماری فکر کی اور دنیا نے پھر یہ منظر ملاحظہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close