نیا پاکستان بنانے کے دعویدار نے اپنی ناکامی کیسے تسلیم کی؟


اقتدار میں آنے سے پہلے چٹکی بجا کر معیشت بہتر بنانے، کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے اورپاکستان کو معاشی سپر پاور بنانے کے دعویدار عمران خان نے ڈھائی برس وزارت عظمیٰ کے مزے لینے کے بعد اب یہ مضحکہ خیزموقف اختیار کیا ہے کہ ابھی تو مجھے اقتدرا میں آئے صرف 26 مہینے ہوئے ہیں اور عوام کی یہ خواہش ہے کہ میرے بٹن دباتے ہی اچانک ایک نیا پاکستان بن جائے۔ عمران خان نے کہا کہ میں لوگوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ کوئی فیری ٹیل یا پریوں کی کہانی نہیں ہے کہ پلک جھپکتے سب کچھ بدل جائے، یہ حقیقی دنیا ہے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ تاہم عمران خان کے ناقدین یہ سوال کررہے ہیں کہ اگر ایسا نہیں ہو سکتا تھا تو پھر انہوں نے عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے کیوں کیے۔
سچ تو یہ ہے کہ عمران خان کے 26 مہینوں کے دور اقتدار میں عوام کی چیخیں نکل گئیں ہیں اور ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کا ایک طوفان برپا ہو چکا ہے۔ چنانچہ ملک کی 11 اپوزیشن جماعتوں نے کپتان کی ناکام حکومت سے جان چھڑوانے کے لیے ایک تحریک شروع کر رکھی ہے۔ ایسے وقت میں اپنے اقتدار کی نصف مدت پوری کرنے والے وزیراعظم نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ڈھائی سالوں میں تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا حالانکہ ماضی میں جناب سو دن میں نیا پاکستان کھڑا کر دینے کے دعوے کیا کرتے تھے۔
تاہم اب جب اقتدار کی آدھی مدت گزرنے کے بعد ان کو یاد دلایا گیا کہ ابھی تک نیا پاکستان نہیں بن پایا تو انہوں نے یہ توجیح پیش کر دی کہ 26 مہینوں میں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔
کپتان کے اس موقع پر ناقدین سوال کرتے ہیں کہ کیا پچھلے ڈھائی برس سے وہ سو رہے تھے۔ کیا کپتان کو نہیں معلوم کہ یہ گورننس کا معاملہ ہے، کرکٹ کا گراؤنڈ نہیں جہاں انہوں نے بال پھینکنے سے پہلے سٹارٹ لینے میں ہی ڈھائی برس لگا دیے۔ کپتان حکومت کی ڈھائی برس کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے پاکستانی عوام کو تباہی بربادی اور بدحالی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ موضوع کو ابھی تک انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ گورنس کس چڑیا کا نام ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ عمران خان نے اپنے اقتدار کو اب تک صرف اپنے ذاتی اور سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائیاں کرنے کے لئے استعمال کیا ہے جو کہ ان کی چھوٹی سوچ کا غماز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس ملک کا وزیراعظم منہ پر ہاتھ پھیر کر اپنے سیاسی مخالفین کو دھمکیاں دیتا ہوں اس سے کسی بہتری کی کیا امید کی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیا پاکستان بنانے کے دعوؤں کے حوالے سے ابھی تک صرف ہوا میں باتیں ہی کی جا رہی ہیں اور وعدوں پر عملدر آمد کی رفتار صفر ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اقتدار میں آنے سے قبل نوے دنوں میں معیشت بہتر بنانے، کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے، بے لاگ احتساب کرنے اور بیڈ گورننس ختم کرنے کے نسخے بتانے والے عمران خان کے اڑھائی سالہ دور اقتدار میں کوئی وعدہ بھی وفا نہیں ہوپایا۔ احتساب کے نام پر حکومت کی انتقامی کارروائیوں اور کرپشن کے خاتمے کے لئے وسیع اختیارات رکھنے والی نیب کی ساکھ پر سپریم کورٹ بارہا سوالات اٹھا چکی ہے۔ کپتان نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے سیاسی مخالفین کو نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے خوب رگڑا ہے مگر کابینہ میں بیٹھے چوروں پر ہاتھ ڈالنے کو کوئی تیار نہیں۔ نیب کی یکطرفہ کارروائیوں کے خلاف ملک کی اعلیٰ عدالتیں بارہا منفی ریمارکس دے چکی ہیں جس کے باعث احتساب کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
گذشتہ اڑھائی برسوں میں کپتان حکومت نے سب سے زیادہ زبانی فوکس معیشت پر کیا اور سب سے زیادہ بیڑہ غرق بھی اسی شعبے کا کیا۔ قرضوں پر قرضے، ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر، ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، بے لگام مہنگائی اور آٹے چینی کی کمیابی نے کپتان کی نااہل حکومت کو ایکسپوز کرکے رکھ دیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وزیراعظم جس چیز کے مہنگا ہونے کا نوٹس لیتے ہیں وہ مزید مہنگی ہو جاتی ہے مارکیٹ سے غائب کردی جاتی ہے۔ اس سب کے باوجود وزیراعظم اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ مافیاز سے لڑیں گے اور اصلاحات متعارف کرواکے نیا پاکستان بنائیں گے۔
دوسری طرف تحریک انصاف کے اڑھائی سالہ دور حکومت میں کرپشن کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی ہے۔ گڈ گورننس کی بجائے بیڈ گورننس کا پودا اب تناور درخت بن گیا ہے۔ کپتان کے دور اقتدار میں سرکاری اور ریاستی ادارے متنازعہ ہوچکے ہیں اور ان کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔ ملکی تاریخ میں یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں لائے گے وزیراعظم کو بچانے کے لیے فوجی قیادت نے اپنی ساکھ کو بھی داؤ پر لگا لیا ہے اور اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے کھلی تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔
سونے پر سہاگہ یہ کہ نکمے کپتان ان مسائل پر قابو پانے کا ابھی تک صرف سوچ رہے ہیں، عملی اقدامات کا آغاز نہ جانے کب ہوگا۔ ایک انتہائی کمزور حکومت کی جانب سے جو اپنی آدھی مدت گزار چکی ہو اس میں ابھی تک اصلاحات کے حوالے سے محض سوچ بچار سے ثابت ہوتا ہے کہ کپتان اینڈ کمپنی نے حکومت پر قابض ہونے سے پہلے کوئی ہوم ورک نہیں کیا تھا اس لئے اب تمام پرانے وعدوں سے راہ فرار اختیار کی جا رہی ہے۔ مگر ظلم یہ کہ اپنی تمام تر ناکامیوں اور نالائقیوں کے باوجود کپتان اب بھی اپوزیشن کو چور اورڈاکو قراردینے پر اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ ایسے رویے کے ساتھ تو صدیوں بھی تبدیلی نہیں آسکتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close