کیا حکومت عافیہ صدیقی کو زندہ واپس نہیں لانا چاہتی؟


کپتان سرکار کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی قید سے آزاد کروا کر پاکستان واپس لانے کے لیے امریکی صدر کے نام رحم کی اپیل پر ان کی بہن فوزیہ صدیقی کے اعتراض سامنے آنے کے بعد رہائی کی امیدیں دم توڑنا شروع ہوگئی ہیں۔
حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکی جیل میں قید 48 سالہ پاکستانی شہری عافیہ صدیقی نے اپنی رحم کی اپیل پر دستخط کر دیئے ہیں جو امریکی جیل حکام کے ذریعے امریکی صدر کو بھجوا دی گئی ہے۔ تاہم دوسری جانب ڈاکٹر عافیہ کی ہمشیرہ فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ رحم کی اپیل کی بجائے امریکی صدر سے سزا معاف کرنے کی درخواست کرنی چاہیے تھی لیکن شاید حکومتی وزرا کو دونوں درخواستوں میں فرق کا پتہ ہی نہیں۔ عافیہ کی بہن نے الزام لگایا کہ جیسے حکومت اس معاملے کو ڈیل کر رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ اس کا عافیہ کو زندہ واپس لانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
خیال رہے کہ آئین کے تحت امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مواخذے کے مقدمات کے علاوہ امریکہ کے خلاف جرائم کرنے والے مجرمان کی سزا میں کمی یا معافی دے سکتے ہیں۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ان اختیارات کے تحت اپنے سابق مشیر اور ساتھی روجر سٹون کی قید کی سزا ختم کی تھی جن پر انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکہ سے تعلیم حاصل کی اور بعدازاں نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے ایک رشتہ دار سے شادی کے بعد وطن واپس آ گئی تھیں۔ عافیہ صدیقی 2 مارچ، 1972 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ کراچی میں ہی ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد امریکہ کے مشہور ادارے میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے پی ایچ ڈی کی۔2002 میں پاکستان واپس آئیں مگر ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے امریکا ملازمت ڈھونڈنے کے سلسلہ میں دورہ پر گئیں۔ اس دوران میری لینڈ میں عافیہ کی ایک القاودہ لیدر سے شادی اور انکی مشکوک سرگرمیوں کی بنیاد پر امریکی خفیہ اداروں نے ان کا پیچھا شرو ع کیا تو 2003ء میں عافیہ کراچی واپس آ گئیں۔ چونکہ امریکی ابلاغ میں عافیہ صدیقی کی بطور دہشت گرد تشہیر کر دی گئی تھی لہذا عافیہ کراچی میں روپوش ہو گئیں۔ عافیہ کی گرفتاری کے حوالے سے ایک کہانی یہ ہے کہ 30 مارچ، 2003ء کو اپنے تین بچوں سمیت راولپنڈی جانے کے لیے ٹیکسی میں ہوائی اڈا کی طرف روانہ ہوئی مگر راستے سے غائب ہو گئیں بعد میں خبریں آئیں کہ ان کو امریکیوں نے اغوا کر لیا ہے۔ اس وقت ان کی عمر 30 سال تھی اور بڑے بیٹے کی عمر چار سال اور سب سے چھوٹی بچی محض ایک ماہ کی تھی۔ مقامی اخباروں میں عافیہ کی گرفتاری کی خبر شائع ہوئی مگر بعد میں حکومت نے لاعلمی کا اظہار کیا اور ان کی والدہ کو دھمکیاں دی گئیں۔
چند برس بعد عالمی ذرائع ابلاغ نے خیال ظاہر کیا کہ افغانستان کی بگرام جیل میں قیدی نمبر 650 شاید عافیہ صدیقی ہی ہے جو وہاں بے حد بری حالت میں قید تھی۔ دسمبر 2009ء میں کراچی پولیس نے عافیہ صدیقی اور ان کے بچوں کے اغوا کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ میں امریکہ نے پاکستان سے تعلق رکھنے والی نیورو سائنٹسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اقاعدہ سے وابستہ موسٹ وانٹڈ خاتون دہشتگرد قرار دیا تھا۔ امریکییوں نے انہیں القاعدہ کی ماتا ہاری او گرے لیڈی آف بگرام بھی پکارا تاہم عافیہ مسلسل پانچ برس امریکی حکام کی پہنچ سے دور رہیں۔ بعد ازاں امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ عافیہ صدیقی کو اپنے بچوں کے ہمراہ جولائی 2008 میں افغان پولیس نے غزنی صوبے میں خود کش بمبار قرار دے کر گرفتار کیا ہے۔ تب افغان سیکورٹی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ عافیہ کے پاس دھماکہ خیز مواد سے بھرے مرتبان اور ایسی تحریریں ملی ہیں جن میں امریکی شہر نیویارک پر حملے کی منصوبہ بندی کا ذکر ہے۔ حکام کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے دوران تفتیش رائفل اٹھا کر امریکی فوجیوں پر گولیاں چلائیں تاہم اس حملے میں کوئی امریکی زخمی نہیں ہوا تھا۔ عافیہ صدیقی کی امریکہ حوالگی کے بعد ایک امریکی عدالت میں کئی مہینے کیس چلا۔ ڈاکٹر عافیہ کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ عافیہ کا ہرگز القاعدہ سے تعلق نہیں اور انہوں نے بدحواسی کی کیفیت میں فوجیوں سے رائفل چھینی اور فائرنگ کی، لہذا اس عمل کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بنتا۔ افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا تھا اور انھیں 86 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ تب سے اب تک عافیہ صدیقی امریکی جیل میں قید ہیں جبکہ کئی بار ان کی موت کی افواہیں بھی پھیلائی گئیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ جون 2013ء میں امریکی فوجی زنداں فورٹ ورتھ میں عافیہ پر حملہ کیا گیا جس سے وہ دو دن بیہوش رہیں۔ بالاخر وکیل کی مداخلت پر انہیں طبی امداد دی گئی۔
عافیہ کی رہائی کے لئے پاکستان میں اپوزیشن جماعتیں خصوصاً مذہبی جماعتیں آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ ماضی قریب میں امریکی شہریوں ریمنڈ ڈیوس جیسوں کی امریکہ حوالگی کے موقع پر بھی پاکستان میں عافیہ کی واپسی کے لئے آواز اٹھائی گئی۔ ستمبر 2010ء میں پاکستانی حکومت نے دعوی کیا کہ اس نے امریکی حکام سے عافیہ صدیقی کو باعزت وطن واپس بھیجنے کا مطالبہ بذریعہ خط کیا ہے۔ اس کے بعد بھی چند مرتبہ عافیہ صدیقی کو پاکستان لانے کے حوالے سے امریکہ کے سامنے معاملہ اٹھایا گیا مگر بات آگے نہ بڑھی۔ حال ہی میں29 اکتوبر کو سینیٹ کے اجلاس کے دوران وقفہ سوالات کے دوران وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے ایوان بالا کو آگاہ کیا کہ امریکی جیل میں قید پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پہلے امریکی صدر کے نام رحم کی اپیل پر دستخط کرنے پر چند تحفظات تھے، تاہم اب انھوں نے اس درخواست پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد عافیہ کی پاسکتان واپسی کے حوالے سے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔ بابر اعوان کے مطابق عافیہ صدیقی کا اپنے وکلا اور اہلخانہ سے ای میل کے ذریعے رابطہ ہے۔
تاہم ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ حکومت کے دعوؤں سے متعلق ان کے پاس کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے رحم کی اپیل نہیں بلکہ امریکی قوانین کے مطابق کمیوٹیٹشن پارڈن یعنی سزا معافی کی درخواست دی تھی جس کو صدارتی اختیارات کے تحت معاف کیا جا سکتا ہے لیکن یہ رحم کی اپیل نہیں تھی۔فوزیہ نے بتایا کہ عافیہ صدیقی نے سزا معافی کی درخواست پر ماضی میں دو مرتبہ دستخط کیے ہیں، ایک مرتبہ صدر اوباما کے دور حکومت میں اور دوسری مرتبہ گذشتہ برس دسمبر میں سزا معافی کی درخواست دی گئی ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات اور کوشش نہیں کی۔ فوزیہ کا کہنا تھا کہ عافیہ کی سزا معافی کی درخواست تیار کروانے کے لیے میں نے بہت سی رقم خرچ کی، اور دسمبر میں عافیہ کے دستخط کے بعد حکومت نے مجھ سے یہ درخواست لیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اس کو انفرادی طور پر بھجوائیں گی تو اس کی وہ اہمیت نہیں ہو گی جو بطور ملک حکومت کی طرف سے اس درخواست پر بھجوانے پر ہو گی۔ لہذا میں نے نہ صرف ان کو ڈاکٹر عافیہ کی وہ دستخط شدہ درخواست دی بلکہ امریکہ میں موجود اپنے وکلا سے بھی مکمل تعاون کرنے کے لیے کہا۔ ڈاکٹر فوزیہ کا کہنا تھا کہ کیونکہ یہ سزا معافی کی درخواست تھی اسے امریکی محکمہ خارجہ کے ذریعے پارڈن اٹارنی کے پاس جانا چاہیے تھے، لیکن میں نے حکومت سے رواں برس مارچ میں درخواست کے متعلق پوچھا تو مجھے جواب دیا گیا کہ ہم درخواست جمع کروا رہے ہیں۔ انھوں نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ میں مہینوں ان سے مسلسل درخواست کے متعلق پوچھتی رہی لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا۔ان کا کہنا تھا کہ آخر کار میں نے اور ہمارے وکلا نے ہیوسٹن میں پاکستانی قونصلر جنرل سے رابطہ کیا کہ ہمیں جمع کروائی گئی درخواست کا کمپیوٹرائزڈ نمبر دے دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں۔ فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ اس وقت قونصلر جنرل نے میرے وکلا کو بتایا کے پاکستانی سفارت خانے نے اس معافی کی درخواست کو جیل حکام کو بطور رحم کی اپیل بنا کر بھیج دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اراکین کو یہ علم ہی نہیں تھا دونوں درخواستوں میں کیا فرق ہے، یا پھر انھوں نے ایسا جان بوجھ کر کیا کیونکہ وہ عافیہ کو زندہ پاکستان نہیں لانا چاہتے۔فوزیہ صدیقی نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس درخواست کو جمع کروائے بھی کئی ماہ گزر گئے اور گذشتہ ماہ 24 ستمبر کو جب میرا رابطہ قونصلر جنرل سے ہوا تو انھوں نے بتایا کہ امریکی جیل حکام کے مطابق وہ درخواست جیل وارڈن سے کہیں گم ہو گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے سزا معافی کی بجائے رحم کی اپیل کے حوالے سے تحفظات کے اظہار کے بعد معاملہ متنازع ہوچکا ہے اور اس ضمن میں امید کی جو ہلکی سی کرن پیدا ہوئی تھی وہ بھی کہیں گم ہوتی نظر آرہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close