غذائی قلت سے نمٹنے کے منصوبے کی منظوری

مشترکہ مفادات کونسل نے بدھ کے روز غذائی قلت اور بچوں میں غذائی قلت کے خاتمے کے لیے 350 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دے دی۔
وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے اپنے 43 ویں اجلاس میں سی سی آئی نے بچوں میں غذائیت کی کمی اور اس کی وجہ سے ہونے والی نشوونما پر سنجیدگی سے نوٹس لیا اور فیصلہ کیا کہ اس بنیادی مسئلے کو نشانہ بنانے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا جائے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے علاوہ چیف سیکرٹریز نے بھی شرکت کی۔ وزیر اعظم آفس کے مطابق سی سی آئی نے متفقہ طور پر پاکستان میں ’پاکستان میں غذائی قلت سے متاثرہ اسٹنٹنگ سے نمٹنے‘ کا ایک منصوبہ شروع کرنے پر اتفاق کیا جو پانچ سال (2020-25) تک جاری رہے گا۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ منصوبے کی لاگت کا 50 فیصد وفاقی حکومت فراہم کرے گی جبکہ باقی لاگت 5 سال تک صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ اس منصوبہ سے ملک کی 30 فیصد آبادی مستفید ہو گی جس میں ماں بننے کی عمر کی ڈیڑھ کروڑ خواتین اور دو سال تک کی عمر کے 39 لاکھ بچے شامل ہوں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت غذائیت کی حامل اشیا کی فراہمی، نئے اور موجودہ ہیلتھ ورکرز کی استعداد کار میں اضافہ، ریسرچ اور مانیٹرنگ کی ذمہ داری نبھائے گی جبکہ صوبے موجودہ لیڈی ہیلتھ ورکرز، کمیونٹی ہیلتھ ورکرز، متعلقہ آبادی کی نشاندہی، پروگرام مینجمنٹ، ادارہ جاتی انتظام، اعداد و شمار کا تجزیہ اور تبادلہ کے ذریعے منصوبہ کے نفاذ کو یقینی بنائیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے 2018 کے انتخابی منشور میں غذائیت کی کمی اور نشوونما سے نمٹنے کا عزم کیا تھا، وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد میں اپنے خطابات میں انہیں اجاگر بھی کیا تھا۔ ملک میں توانائی سے متعلق معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی اہمیت کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا آئندہ اجلاس اگلے سال پہلے ماہ طلب کیا جائے تاکہ بجلی، گیس اور ایندھن کی لاگت سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دی جائے اور پانی سے متعلق مسائل حل کیے جا سکیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ توانائی کے معاملات قومی نوعیت کے ہوتے ہیں، اس بارے میں صوبوں کے مابین اتفاق رائے پیدا کیا جائے تاکہ اس کا پاکستان کے عوام کو فائدہ پہنچے۔ مشترکہ مفادات کونسل نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ایک ایکسپلوریشن بلاک کے صوبہ میں کسی دوسرے متوقع بلاک کے ساتھ سویپ/متبادل انتظام کی ایک دفعہ کیلئے اجازت کی درخواست کا جائزہ لیا۔ مشترکہ مفادات کونسل نے اس کی مشروط اجازت دے دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close