کیا خواتین ہراسانی کو کارڈ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں؟


پاکستانی خواتین میں جنسی ہراسانی کے حوالے سے شعور بڑھنے کے بعد اب یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ بہت سی پڑھی لکھی خواتین نے ہراسانی کو مردوں کے خلاف کارڈ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا یے۔
پاکستان کے سوشل میڈیا پر گزشتہ چند دنوں سے خواتین کے ساتھ ہراسانی کے متعدد واقعات زیر بحث ہیں اور اس سب کے دوران حال ہی میں ایک نئی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے، جس میں ایک خاتون بس کے عملے کے ساتھ الجھ رہی ہیں اور ان پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کرنے کی دھمکی دیتی ہیں۔ اس ویڈیو میں پیش آنے والے واقعے کی حقیقت سے قطع نظر اس موضوع پر سوشل میڈیا پر جاری گرما گرم بحث نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ جہاں کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ خواتین جنسی ہراسانی کے کارڈ کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں، تو وہیں کئی صارفین جنسی ہراسانی کے پاکستانی قانون پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
جہاں کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ہراسانی کے جھوٹے الزامات کی وجہ سے اصل کیسز نظر انداز ہو جاتے ہیں تو وہیں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے اس ویڈیو میں موجود خاتون کے رویے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ صارف ندا فاطمہ نے لکھا ’ایسی لڑکیوں کی وجہ سے سچ میں ہراسانی کا سامنا کرنے والی لڑکیوں پر لوگ یقین نہیں کریں گے۔‘
ریونا نامی صارف نے لکھا ’ہماری 98 فیصد خواتین کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان جیسی صرف 2 فیصد خواتین کی وجہ سے باقی 98 فیصد کو غلط سمجھا جائے گا۔‘ ایک اور صارف نے لکھا ’خواتین اصل میں ہراسانی کا شکار بنتی ہیں لیکن ایسی خواتین ’میں تم ہر ہراسانی کا کیس کرواتی ہوں‘ کی وجہ سے اصل متاثرین کو انصاف نہیں ملتا۔‘
صارف نصرت شمسی نے لکھا ’ہراسانی کا الزام خواتین کے لیے بچ نکلنے کا آسان طریقہ ہے۔ ہمارے قانون بنانے والوں نے اسے اتنا آسان کیون بنا دیا ہے۔ حقیقت پسند بنیں۔ اسے ہمدردی اور شہرت حاصل کرنے کا کھیل نہ بننے دیں۔‘ رامین کمال نے لکھا ’ایسے واقعات کی وجہ سے ہراسانی کے اصل کیسز کو ہمیشہ مسترد کر دیا جاتا ہے۔‘ اس معاملے پر سینئیر صحافی ابصا کومل نے لکھا ’یہ خاتون ڈیوٹی پر موجود افسران کو ہراساں کر رہی ہیں جو کہ بہت قابل مذمت ہے۔‘عفت نامی صارف نے لکھا ’یہ خاتون ہراسمنٹ کارڈ استعمال نہیں کر سکتیں کیونکہ وہ خود ہراساں کر رہی ہیں۔‘
لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (لمز) کے شعبہ عمرانیات سے منسلک معلمہ ندا کرمانی کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر ہمیں اکثر ایسے مرد حضرات نظر آتے ہیں جن کو لگتا ہے کہ عورتیں ہراساں کے الزام کو ایک کارڈ کی طرح استعمال کرتی ہیں لیکن ’یہ بالکل غلط ہے‘۔ ’اگر ایسا کبھی ہوتا بھی ہے تو ایسی خواتین کی تعداد بہت ہی کم ہے جو اس کا غلط استعمال کرتی ہیں۔ ہراسانی کا شکار زیادہ تر خواتین تو اس بارے میں بولتی ہی نہیں ہیں۔ وہ ڈر کے مارے کچھ نہیں کہتیں کیونکہ ہمارے یہاں کلچر ہے کہ جب کوئی عورت کہتی ہے کہ مجھے ہراساں کیا گیا ہے تو کوئی یقین نہیں کرتا اور الٹا الزام ان پر لگ جاتا ہے۔‘
ندا کرمانی سمجھتی ہیں کہ ایسا بلکل نہیں کہ پاکستان میں یہ کوئی ٹرینڈ بن گیا ہے کہ خواتین ہراساں کے الزام کو غلط استعمال کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا ’می ٹو مہم کی وجہ سے اب بہت سی عورتیں زیادہ بولنے لگی ہیں تو کچھ مرد حضرات اس سے گھبراتے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے ان کی پدر شاہی سوچ چیلنج ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ کہتے ہیں کہ ہراسانی ایک کارڈ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔‘
اس معاملے پر صحافی تنزیلہ مظہر کہتی ہیں کہ پاکستان میں موجود ہر قانون کے غلط استعمال کی ہزاروں مثالیں نظر آتی ہیں۔ ’ریاستی سطح پر بھی ایسے کام ہوئے، حکومتوں نے بھی اپنے مخالفین کو ہرانے یا دبانے کے لیے غلط معاملات پر غلط پرچے کٹوائے۔ پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں جس کا غلط استعمال نہ کیا جاتا ہو اور اس میں یقیناً خواتین سے متعلق قانون کا بھی غلط استعمال ہوتا ہو گا۔‘
لیکن انھوں نے کہا کہ کسی ایک ویڈیو کو دیکھتے ہوئے اس پورے معاملے کو جانچنا ناانصافی کی بات ہے۔ ’پاکستان میں جنسی بنیادوں ہر تعصب ہمارے ساتھ ہی بڑا ہوا ہے، ہمارا پورا معاشرہ تعصب کی عینک لگا کر ہی اس معاملے کو پرکھتا ہے۔ پاکستان میں خواتین پر گھریلو تشدد، جنسی تشدد اور بچوں پر تشدد کے کیسز میں کہیں نہ کہیں کوئی کمی رہ جاتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں ایسے واقعات نہیں ہوتے ہیں۔‘
اس ویڈیو کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ پاکستان میں ہراس کے قانون کا مکمل طور پر غلط استعمال کیا جاتا ہے، ’یہ ناانصافی ہے‘۔ انھوں نے کہا کہ اس ویڈیو کو ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، بغیر دلیل کے بات کرنے کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ’جب خاتون کا معاملہ آتا ہے تو ہم سب سے پہلے ان تقاضوں اور مطالبات پر حملہ کرنا چاہتے ہیں جو پاکستان کی خواتین بہت جدوجہد کر کے منوانے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘ تنزیلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنسی ہراسانی کا شکار بننے والی خواتین کو کسی قسم کے دباؤ کی وجہ سے خاموش رہنے کی بجائے لڑنا چاہیے۔ وہ کہتی ہیں ’ہراسانی کے خلاف لڑنا بہت ضروری ہے تاکہ معاشرے کی دیگر خواتین بھی ہمت اور حوصلہ پکڑیں اور یہاں کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اپنے لیے ایک محفوظ معاشرہ تشکیل دے سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close