ذیابیطس کنٹرول کرنے والے سپر فوڈز

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 42 کروڑ سے زائد ہے جب کہ ہر سال 10 لاکھ سے زائد افراد اس مرض کے سبب موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے آپ کی روزمرہ غذا اہم کردار ادا کرتی ہے اور اگر بات کی جائے سردیوں کی غذاؤں کی تو کچھ خاص سبزیاں، پھل اور مسالہ جات ایسے بھی موجود ہیں جو ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے خاصے مقبول ہیں۔ ماہرین شوگر کے مریضوں کو بے وقت بلڈ شوگر اسپائکس سے محفوظ رہنے کے لیے کم گلیسیمک پر مشتمل غذاؤں کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں امرود کم گلیسیمک کے باعث شوگر کے مریضوں کے لیے بہترین پھل تصور کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی امرود ڈائٹری فائبر کا اہم ذخیرہ تصور کیا جاتا ہے، امرود میں موجود فائبر کی بڑی مقدار بلڈ شوگر کی بڑھتی سطح کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ دارچینی ایک ایسا طاقتور مسالہ ہے جو بے شمار فوائد سے مالا مال ہے۔ دار چینی ایک زود ہضم مسالہ ہے جو خون میں گلوکوز اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی سطح کو متوازن رکھتے ہوئےشوگر اور قلبی امراض جیسی بیماریوں کا خطرہ کم کرتا ہے۔ شوگر کے مریضوں کے لیے دارچینی کے استعمال کا سب سے بہترین طریقہ صبح کے وقت دارچینی والے پانی کا استعمال ہے۔ امریکن ڈائبٹیز ایسویسی ایشن کے مطابق ترش پھل مثلاً لیموں اور نارنگی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے سپر فوڈز کے طور پر جانے جاتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب مریض خون میں شوگر کی سطح متوازن رکھنے کے لیے کسی ڈائٹ کا انتخاب کر رہے ہوں،کم گلیسیمک کے باعث شوگر کے مریض نارنگی سلاد، جوس کے طور پر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ وٹامن سی، فائبر، پوٹاشیم اور فائدہ مند اینٹی آکسیڈینٹ سے بھرپور پھل کیوی شوگر کے مریضوں کے لیے ایک بہترین غذا ہے۔ تحقیق سے بھی ثابت ہے کہ کیوی خون میں شوگر کی سطح کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔غذائیت سے بھرپور سبزی گاجر کو بھی شوگر کنٹرول کرنے والی غذا کے طور پر جانا جاتا ہے۔گاجر میں موجود فائبر خون کے بہاؤ میں شوگر کی روانی کو سست کر دیتا ہے جب کہ گاجر میں پایا جانے والا نہایت کم مقدار گلیسیمک گاجر کو شوگر کے مریضوں کے لیے بہترین غذا بناتا ہے۔ایک تحقیق کے لیے لونگ کے جینیاتی ذیابیطس چوہوں پر اثرات کا مطالعہ کیا گیا، نتائج نے واضح کیا کہ لونگ ایکسٹریکٹ خون میں ناصرف انسولین بڑھانے میں مدد دیتا ہے بلکہ جسم میں انسولین کے ردعمل کو بھی بہتر بناتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close