خادم رضوی کے بیٹے کے خلاف پیر افضل قادری کی بغاوت


مشہور عالم دین اور تحریک لبیک پاکستان کے بانی رہنما پیر افضل قادری نے علامہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے سعد رضوی کو جماعت کا نیا امیر مقرر کرنے کے فیصلے کے خلاف کھلے عام بغاوت کر دی ہے اور سعد کو ایک نااہل اور نشئی قرار دے کر اس کی قیادت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ایک مسجد میں خطاب کرتے ہوئے پیر افضل قادری نے دعوی کیا ہے کہ خادم رضوی کو بھی وہی گائیڈ کرتے اور چلاتے تھے اور ان کی وفات کے بعد تحریک لبیک کا نیا امیر بھی وہی مقرر کریں گے جس کے لئے وہ جلد ہی ایک ملک گیر کنونشن منعقد کریں گے۔ افضل قادری نے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ میں 1965 سے دین کی خدمت کررہا ہوں اور خادم حسین رضوی کو بھی میں ہی اس جانب لیکر آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خادم جو بھی کرتے تھے اسکے پیچھے میرا ہی دماغ ہوتا تھا، ان کا اصل ماسٹر مائنڈ میں تھا اور اب ان کی وفات کے بعد جماعت کے مستقبل کا فیصلہ بھی میں ہی کروں گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خادم حسین رضوی کا بیٹا سعد حسین رضوی نشئی اور نااہل ہے۔

اپنے خطاب میں اہلسنت کے مشہور عالم دین پیر افضل قادری کا کہنا تھا کہ میں نے تحریک لبیک کے قیام کے وقت خادم حسین رضوی سے کہا تھا کہ جو جماعت بنے گی اس کی سرپرستی ہمارے بعد نہ میرے بچوں کو ملے گی اور نہ ہی آپ کے بچوں کو ملے گی، ہم نے طے کیا تھا کہ تحریک لبیک میں موروثیت نہیں ہوگی اور انہوں نے مجھ سے وعدہ بھی کیا تھا۔ پیر افضل قادری نے کہا کہ اس کے بعد میں نے خادم رضوی سے بڑے بڑے کام کروائے۔ ان کو تو کچھ پتا ہی نہیں تھا، میں ہی ماسٹر مائنڈ ہوتا تھا، میں کھڑا ہوتا تھا تو مجبوراً ان کو بھی کھڑا ہونا پڑتا تھا، جب ہماری جماعت بن گئی اور ملک بھر میں متعارف ہوگئی تو چونکہ خادم رضوی امیر تھے اس لیے ان کا نام آگے آگیا اور میرا نام پیچھے چلا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جماعت کو میں نے قائم کیا تھا، میں اس کا بانی ہوں، خادم رضوی کی وفات کے بعد مجھ سے مشاور ت کے بغیر ان کے بیٹے کو جماعت کا امیر مقرر کردیا گیا جو کہ سراسر غلط فیصلہ ہے۔

پیر افضل قادری نے کہا کہ اگر سعد رضوی کی بجائے کسی عالم دین یا کسی مولوی کو بھی امیر مقرر کردیا جاتا تو میں تسلیم کر لیتا لیکن تحریک لبیک میں موروثی سیاست کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ پیر افضل کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک کا پہلے نام تھا تحریک رہائی غازی ممتاز حسین، اس تحریک میں ہماری ان گنت قربانیاں تھیں، سلمان تاثیر کے خلاف میں نے جلوس نکالے، آسیہ کو میں نے گالیاں دیں، میری سب سے زیادہ خدمات ہیں، خادم رضوی کو تو ان معاملات کے بارے میں کچھ پتا ہی نہیں تھا۔ اس تحریک کی وجہ سے ہمارے بینک اکاؤنٹس ابھی تک سیل ہیں، اس تحریک میں میرے خلاف ایک سو سے زیادہ مقدمات درج ہوئے اور سب سے زیادہ قربانیاں میری تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد ان کو لگا کہ تحریک ختم ہونے جا رہی ہے تو میں نے اس کا نام بدل کر تحریک لبیک پاکستان رکھ دیا، خادم حسین سمیت کسی کو کچھ پتا ہی نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے، لہذا میں ہی اس جماعت کا اصل بانی ہوں، اور خادم حسین رضوی بھی مجھے ہی ساری زندگی اسکا بانی تسلیم کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں تحریک لبیک کے سرپرست اعلی کے عہدے پر ابھی بھی قائم ہوں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ خادم رضوی کی وفات کے بعد ایک قبضہ گروپ سعد رضوی کی قیادت میں جماعت پر قابض ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خادم حسین کے بیٹے کو میں بچپن سے جانتا ہوں، خادم خود مجھے کہتے تھے کہ اس کیلئے دعا کریں کیونکہ یہ نشئی ہے، نہوں نے کہا کہ سعد ان پڑھ شخص ہے، نہ اس نے درس نظامی کی تعلیم مکمل کی ہے، نہ ہی وہ حافظ ہے۔ وہسے بھی ایک ذہنی طور پر بیمار شخص کیسے تحریک لبیک کا سربراہ بن سکتا ہے۔ اس جماعت کا امیر میں مقرر کروں گا جسکے لیے جلد ایک کنونشن بلاوں گا جس کے بعد جماعت کی دوبارہ سے تنظیم سازی ہوگی، انہوں نے کہا کہ اللہ سے میری دعا ہے کہ مجھے اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی توفیق اور مہلت دے۔

تاہم دوسری طرف سعد رضوی کے قریبی رفقاء نے پیر افضل قادری کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تو دو برس پہلے تحریک لبیک سے باقاودہ علیحدگی کا اعلان کرچکے ہیں لہذا اب ان کا کا تحریک یا اس کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close