کیا جنازے میں شرکاء کی تعدادانسان کی عظمت کا فیصلہ کرتی ہے؟


کیا واقعی جنازوں کی لمبائی چوڑائی اور اسکے شرکا کی تعداد یہ فیصلہ کرتی ہے کہ مرنے والا حق پر تھا یا نہیں؟ تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم رضوی کا مینار۔پاکستان کے میدان میں پڑھایا جانے والا جنازہ دراصل اس معاشرے کا جنازہ بھی تھا جہاں اسلام کے نام پر قتل کرنے والے قاتل پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں، اس کا منہ چوما جاتا ہے اور پھر پھانسی کے بعد اس کے جنازے میں لاکھوں فرزندان توحید کا لشکر عقیدت سے شریک ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر علامہ خادم رضوی کے جنازے کا سائز زیر بحث ہے اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان سے بڑا اور جید عالم دین حالیہ تاریخ میں پیدا نہیں ہوا۔ تاہم یہاں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو سرے سے خادم رضوی کو عالم دین تسلیم کرنے کو ہی تیار نہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ خادم رضوی ایک سیاسی مولوی تھے جو کہ ایجنسیوں کے لئے کام کرتے تھے اور ان کی گالیوں بھری گفتگو سن کر کوئی بھی پڑھا لکھا شخص انہیں عالم دین قرار نہیں دے سکتا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اگر ہم خادم رضوی کے جنازے کے سائز کی بنیاد پر انہیں ایک جید عالم دین قرار دیتے ہیں اور اس پیمانے پر دنیا و آخرت کی کامیابی کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر ہمیں اس سوال کا جواب دینا ہو گا کہ کیا تاریخ میں جن شخصیات کے جنازے میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی وہ بھی ہماری اسی تشریح پر پورا اترتے ہیں۔
اس سے پہلے یہ رحجان پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل پولیس والے ممتاز قادری کے جنازے کے وقت دیکھنے میں آیا تھا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی اور وہ سب بعد میں خادم رضوی کے ساتھی بنے۔ دوسری طرف یہ بھی یاد رہے کہ علمائے دین کے ایک گروپ نے سلمان تاثیر کا جنازہ پڑھانے کے خلاف فتوی دے دیا تھا جس کی وجہ سے ان کے جنازے کے شرکاء کی تعداد بہت مختصر تھی۔ یعنی پاکستانی معاشرے کی اخلاقی پستی کا یہ حال ہے کہ قاتل کا جنازہ مقتول کے جنازے سے کئی گنا بڑا تھا۔
ناقدین کے مطابق یہ تقسیم ہماری صرف مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس میں ہی نظر نہیں آ رہی بلکہ اشرافیہ کہلانے والے انتہائی اعلٰی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل بھی خادم رضوی کے جنازے کے حجم سے متاثر نظر آتے ہیں۔ عقیدہ اور کلچر انسان کو بعض اوقات خرافات کی اندھی تقلید کی ایسی کھائی میں دھکیل دیتا ہے جہاں روشن دماغوں کی آنکھیں بھی اس طرح چندھیا جاتی ہیں جہاں وہ غلط اور صحیح میں تمیز نہیں کر پاتے۔
یہ مسئلہ صرف اندھی تقلید کرنے والے پیروکاروں تک محدود رہتا تو بھی غنیمت تھا لیکن خادم رضوی کے انتقال کی خبر منظر عام پر آتے ہی وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی تعزیتی ٹویٹ کی گئی۔ صرف یہی نہیں بلکہ کچھ ہی دیر میں آرمی چیف کی جانب سے بھی تعزیتی پیغام آ گیا۔ سرکاری ریڈیو اور ٹی وی اور چند نجی چینلز کی جانب سے مرحوم کے زبان و بیان اور قابلیت اور علمیت میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے گئے۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ فصاحت و بلاغت سے معمور ایک ایسے جید عالم کا انتقال ہے جس کی وجہ سے پیدا شدہ خلاء تا قیامت پُر نہیں کیا جا سکے گا۔ ممکن ہے کہ حکومت اور آرمی کے پاس یہ جواز ہو کہ یہ تعزیتی پیغامات ایک طرح کی علاقائی ڈپلومیسی کا حصہ ہیں کیونکہ خادم رضوی گزشتہ الیکشن میں ووٹ کے حساب سے تیسری بڑی جماعت ثابت ہوئے تھے۔ لیکن پھر سوال اٹھے گا کہ مذہبی اقلیتوں کے جو لوگ ایسے عالموں کے نفرت انگیز فتووں کی بھینٹ چڑھے اور ناحق قتل کر دیے گے، ان کے ورثا سے تعزیت کون کرے گا؟
ناقدین کہتے ہیں کہ ایک طرف پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے خطرہ رہتا ہے، گرے لسٹ سے نکل جانے کے لیے تگ و دو کی جاتی ہے، پاکستان کا سافٹ امیج بحال کرنے کے مسلسل نعرے لگائے جاتے ہیں تو دوسری جانب مینار پاکستان کے سائے میں لاکھوں لوگوں کو ۔۔ سر تن سے جدا ۔۔۔ جیسے نعرے لگانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ جہاں قرارداد پاکستان منظور کی گئی تھی وہیں نئے پاکستان میں ہزارہا لوگوں نے سر تن سے جدا کرنے کا فلک شگاف نعرہ بلند کیا۔ کیا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ریاست اتنی بانجھ ہو گئی ہے کہ سر عام ایسے پر تشدد نعرے لگانے کی اجازت دے دیتی ہے۔
کیا واقعی جنازوں کی لمبائی چو ڑائی اور جنازے میں شریک انسانوں کی تعداد یہ فیصلہ کرتی ہے کہ مرنے والا حق پر تھا؟ ایسے اوصاف و کرادر کا مالک تھا کہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ اگر ہم اس پیمانے پر دنیا و آخرت کی کامیابی کا فیصلہ کریں تو ہمیں اس سوال کا جواب دینا ہو گا کہ کیا تاریخ میں جن شخصیات کے جنازے میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی وہ بھی ہماری اسی تشریح پر پورا اترتے ہیں۔ زیادہ دور نہیں جاتے، ہم اپنے ہمسایہ ملک بھارت میں شدت پسند اینٹی مسلم ہندو نیشنلسٹ جماعت شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کے کریا کرم یا جنازے کی تصاویر پر نظر دوڑائے لیتے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق 15 سے 20 لاکھ لوگ اس جنازے میں شریک ہوئے تھے۔ کیا اس بنا پر شدت پسند رہنما جس نے ہندو نوجوانوں کو بھڑکایا تھا کہ مسلمان آبادی پر اسکواڈ بنا کر حملہ کریں، کو جنتی قرار دیا جا سکتا ہے؟
تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ جنازے میں شریک ہجوم کا تعلق مرنے والے کی شہرت سے تو ہو سکتا ہے لیکن کردار سے ہرگز نہیں کیونکہ تاریخ میں ایسی برگزیدہ ہستیاں اور پیغمبر بھی گزرے ہیں جن کے جنازے میں گنتی کے افراد شریک ہوئے لیکن ان کے اچھے کاموں سے لاکھوں لوگ فیض یاب ہوئے؟ علامہ خادم رضوی کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ان کی شہرت کی خاص وجہ وہ لب و لہجہ نظر آتا ہے جس میں وہ اپنے مخصوص پنجابی لہجے میں گالیوں سے لبریز تقاریر کیا کرتے تھے اوران کے یہ بیانات پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کے خلاف بغض عناد اور نفرت سے بھر پور ہوتے تھے۔ انھوں نے سیاست میں اپنے دھرنوں کی وجہ سے بھی شہرت پائی۔ فیض آباد دھرنا میں کہا گیا کہ فوج کی جانب سے پیسے دے کر ان کو واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ ان کو پالنے والے پروان چڑھانے والی ایک مقدس گائے ہے تو دوسری طرف ایسا موقع بھی آیا کہ خادم رضوی نے آرمی چیف اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف فتوے جاری کر دیے۔ علامہ صاحب کی وفات کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے سعد رضوی تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ بن گئے ہیں اور یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اپنے مرحوم والد کا مشن جاری رکھیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ بھی معاشرے میں نفرت اور تفرقہ ہی پھیلائیں گے یا بہتری کی طرف جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close