جسٹس وقار سیٹھ کی وفات لاپتہ افراد کے لیے ایک بری خبر


پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی اچانک وفات ایجنسیوں کی تحویل میں موجود لاپتہ افراد کے لیے ایک بری خبر ثابت ہوئی ہے کیونکہ اب عدلیہ میں انہیں ریلیف دینے والا کوئی نہیں۔پشاور ہائی کورٹ کے مرحوم چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی وفات کے ساتھ ہی ایک برس سے فوج کی تحویل میں موجود انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک کو انصاف ملنے کی امیدیں بھی کمزور پڑ گئی ہیں۔ یاد رہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ادریس خٹک کے خلاف فوجی عدالت میں جاری کاروائی کو روکنے کا حکم دیا تھا۔
انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک پچھلے سال اچانک لاپتہ ہو گئے تھے تاہم ان کی گمشدگی کے سات ماہ بعد حکومت نے ان کے فوج کی تحویل میں ہونے کی تصدیق کی تھی۔ ادریس خٹک کے وکیل لطیف آفریدی کے مطابق ان پر سکیورٹی اداروں کے بارے میں خفیہ معلومات رکھنے اور افشا کرنے کا الزام ہے اور ان کے خلاف سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا رہی تھی۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک تازہ انٹرویو میں ادریس خٹک کی صاحبزادی تالیہ نے اپنے والد سے ہونے والی ملاقات کا تفصیلی احوال بتایا ہے۔ تالیہ نے بتایا کہ پانچ اکتوبر 2020 کو انھیں ایک فون آیا اور بتایا گیا کہ ادریس خٹک کے محافظ افسر بات کر رہے ہیں۔ ‘مجھے انھوں نے سات تاریخ کو تین بجے منگلہ کینٹ کے داخلی دروازے پر بلایا اور کہا کہ اس سے آگے آپ کو اکیلے جانا پڑے گا۔’ وہ بتاتی ہیں کہ ‘ہم تھوڑے ڈرے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ میرے وکیل یا میرے انکل میرے ساتھ آسکتے ہیں لیکن انھوں نے اس سے انکار کر دیا انھوں نے کہا کہ صرف ایک بندہ اندر جائے گا۔’
تالیہ نے کہا کہ وہ اسلام آباد سے جہلم گئیں اور پھر انکل کے ساتھ طے شدہ وقت کے مطابق منگلہ کینٹ کے داخلی دروازے پر سہ پہر تین بجے پہنچ گئی۔ ‘ہمیں تھوڑا انتظار کرنا پڑا۔ یہ ملاقات تین سے پانچ بجے کے درمیان ہوئی تھی۔ داخلی دروازے پر انھوں نے میرے انکل کو روک دیا اور آگے صرف میں ہی گئی۔ ‘دو بار میری کافی زیادہ چیکنگ کی گئی۔ تلاشی لینے کے لیے وہاں خواتین بھی موجود تھیں۔ مجھے کہا گیا کہ موبائل گاڑی میں ہی چھوڑ جائیں۔’ وہ کہتی ہیں کہ جہاں انھیں لے جایا گیا ‘وہ ایک منزلہ عمارت تھی۔ وہاں شاید تین کمرے ہوں گے۔’ تالیہ نے بتایا کہ انھیں ایک کمرے میں بٹھایا گیا اور ملاقات کے حوالے سے وضاحت کی گئی کہ پشتو میں بات بالکل نہیں ہوگی۔ تالیہ خٹک یونیورسٹی میں زیر تعیلم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اپنے والد کے ساتھ ہمیشہ پشتو میں بات کی ہے لیکن اس ملاقات میں شرط تھی کہ پشتو زبان میں بات نہیں کی جا سکتی۔‘ ‘یہ بھی کہا گیا کہ کیس کے بارے میں بات کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے۔ اگر ہم کیس کے بارے میں بات کریں گے تو ملاقات ختم ہو جائے گی۔ ‘ہم اکیلے نہیں مل سکتے کمرے میں ہمارے ہمراہ دو اور آدمی ہوں گے۔ ملاقات 20 سے 25 منٹ کی ہو گی۔’
تالیہ کا کہنا تھا کہ تم انہیں ملٹری انٹیلیجنس کی تحویل میں ان کے والد کے ساتھ ملوایا گیا تو انہوں نے دیکھا کہ ادریس خٹک کے ‘بال بالکل سفید ہو چکے تھے، وہ تھوڑے سے دبلے لگے، آنکھوں کے حلقے کچھ گہرے ہو چکے تھے۔ ‘منھ پر چھوٹے چھوٹے سیاہ دھبے تھے۔ میں ایک سال بعد بابا کو دیکھ رہی تھی اور یہ ملاقات صرف 20 منٹ کی تھی۔۔۔ پھر ہمیں کہا گیا کہ تین منٹ رہتے ہیں اور پھر کہا گیا وقت ختم ہوگیا ہے۔۔۔ جب تین منٹ بولا گیا تو مجھے لگا کہا گیا ہے کہ اب ایک بار پھر تمھارے بابا تم سے الگ ہو رہے ہیں اور نہیں معلوم پھر دوبارہ کب ملاقات ہو گی۔’
تالیہ کہتی ہیں کہ وہ جب ملاقات کے لیے کمرے میں گئیں تو ‘میرے بابا پہلے سے کھڑے ہوئے تھے۔ انھوں نے بانہیں اسی طرح کھولے ہوئے تھیں جس طرح گلے لگانے کے لیے ہاتھ کھولتے ہیں۔ ‘بالکل اسی طرح جیسے چھٹیوں میں جب گھر جاتی تھی تو بابا ہمیں ایسے ہی ویلکم کرتے تھے۔ وہاں ملتے ہوئے پہلے ہی انھوں نے انگلش میں بات کرنا شروع کر دی تھی۔ ویلکم، ویلکم!’ ‘جب ہم ملے تو مجھے تھوڑی دیر لگا کہ شاید سب کچھ بالکل ٹھیک ہے۔ میں اپنے والد سے ایک سال بعد مل رہی تھی اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لیکن وہ سب بہت مختصر تھا۔’ تالیہ نے بتایا ‘ہم بیٹھے۔ ہم نے بات کرنا شروع کی۔ شاید زبان کی رکاوٹ تھی یا ہم ایک سال بعد مل رہے تھے۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا اس سب کی وہ پہلے سے ریہرسل کر چکے ہیں یا جیسے پہلے انھیں بتایا جا چکا ہے کہ کیا بولنا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘وہ تیار ہو کر آئے تھے۔ انھوں نے بالکل اسی طرح شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی جیسے عام طور پر پہنتے تھے۔ ‘انھوں نے تازہ شیو کی ہوئی تھی۔ ہیئر کٹ نیٹ تھا۔ پرفیوم بھی لگایا ہوا تھا۔ میں جب بیٹھی تو میں نے پہلی بات یہی کی کہ کیا آپ کو یہاں پرفیوم بھی ملتا ہے۔ وہ تھوڑا سا ہنسے لیکن جواب نہیں دیا۔ ایسے لگتا تھا سب کچھ تیار کیا گیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں سہمی ہوئی تھی اس لیے یا کچھ اور تھا۔’
اپنے انٹرویو میں تالیہ نے اس خیال کا اظہار کیا کہ انھیں لگتا ہے کہ ادریس خٹک کو ملٹری کورٹ میں شروع ہونے والے ان کے کیس کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ گفتگو کے دوران ادریس خٹک نے ایک جگہ بولا کہ ‘کیس بوگس ہے اور انشا اللہ ہم جلد ملیں گے۔’ جب بی بی سی نے ان سے دریافت کیا کہ ملاقات کی شرائط میں تو کیس پر بات کرنے کی اجازت نہیں تھی لیکن آپ کے درمیان جب یہ تذکرہ ہوا تو کیا اس موقع پر یا آگے وہاں موجود افسران نے ٹوکا؟ تالیہ اس کے جواب میں کہتی ہیں ‘نہیں۔ ہم نے زیادہ وقت فیملی اور روٹین کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ انھوں نے کیس کے بارے میں ایک مختصر جملہ بولا۔ پھر انھوں نے جلدی سے گفتگو کا رُخ بدل دیا تاکہ اس پر اور بات نہ ہو۔’ ان کے بقول ایسا لگتا تھا کہ ‘ادریس خٹک کے لیے وقت رُک گیا ہے۔ تالیہ کہتی ہیں کہ ایک سال بعد فقط 20 منٹ کی ملاقات ہوئی، وہ بھی اپنی زبان میں نہیں۔ ‘سب شرائط کے تحت تو یہ ایک نارمل ملاقات نہیں تھی۔’ وہ کہتی ہیں جب تین منٹ رہ گئے تھے تو انھوں نے بولا کہ ‘تین منٹ رہ گئے ہیں اور جب ٹائم ختم ہو گیا تو کہا گیا ٹائم از اپ۔’ ”تھری منٹس لیفٹ’ میرے لیے ایسا ہی تھا جیسے مجھے دوبارہ کوئی بتا رہا ہے کہ آپ کے بابا کو ہم لے جا رہے ہیں اور آپ کو نہیں پتا کہ آپ کب دوبارہ ملیں گی۔ ‘آپ ملیں گی بھی یا نہیں اور آپ کو نہیں پتا ہو گیا کہ وہ کیسے ہوں گے۔ اس بار اور بھی زیادہ مشکل تھا کیونکہ مجھے پتا تھا اس کے بعد فیملی کے لیے کیا ہوتا ہے۔’
وہ کہتی ہیں کہ ‘میں نے سوچا تھا کہ میں مضبوط رہوں گی ان کے سامنے نہیں روؤں گی انھیں یہ دکھانے کے لیے کہ باہر سب کچھ ٹھیک ہے لیکن میں جب انھیں ملی تو میں نے جیسے ہی انھیں دیکھا تو رونا شروع کر دیا۔ پوری ملاقات میں میں روتی رہی تھی۔ لیکن بابا پوری میٹنگ میں ٹھیک تھے۔ مسکرا رہے تھے شاید اس لیے کہ وہ مجھے یہ بتائیں کہ وہ بھی مضبوط ہیں۔ شاید اس لیے کہ ہمارا بھی حوصلہ بڑھے۔’ وہ کہتی ہیں کہ ملاقات کے آغاز اور اختتام پر ان کے والد نے انھیں گلے لگایا۔ بی بی سی نے تالیہ سے پوچھا کہ کیا اس ملاقات کے بعد ان لوگوں کی جانب سے جنھوں نے خود کو آپ کے والد کا محافظ افسر بتایا ہے کبھی آپ سے دوبارہ رابطہ ہوا؟ اس کے جواب میں تالیہ نے بتایا کہ ان کا رابطہ میرے چچا سے ہوا تھا۔ ’انھیں بتایا گیا تھا کہ وہ سول وکیل سے ملنا چاہتے ہیں۔ ملٹری کورٹ میں مقدمہ چل رہا تھا۔‘ بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سیٹھ وقار نے ملٹری کورٹ کی کارروائیاں روکنے کا حکم دیا تھا۔ ‘پھر اس کے بعد رابطہ نہیں ہوا۔’ تالیہ کہتی ہیں کہ ‘مجھے ایک بار اس نمبر سے کال آئی لیکن میں وہ کال ریسیو نہیں کر پائی۔ مجھے پہلی کال پر بتایا گیا تھا کہ اس نمبر پر کال وصول نہیں کی جاتی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ‘براہ راست مجھے کبھی فون پر کوئی دھمکی نہیں دی گئی۔ اگر میرے انکل کو ملتی ہے تو وہ بات نہیں کرتے۔‘ ‘شروع میں کافی زیادہ کہا جاتا تھا، مختلف ذرائع سے کہ ہمیں اس کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ بابا جلد واپس آ جائیں گے۔’ کیا پاکستان کی حکومت کی جانب سے آپ سے رابطہ کیا گیا؟ اس سوال کے جواب میں تالیہ کا کہنا تھا ‘نہیں۔ کبھی کسی نے رابطہ نہیں کیا۔’
ادریس خٹک کا کیس فی الحال معطل ہے۔ اس پر تالیہ نے بتایا کہ ‘ایسے لوگ ہیں جو سالوں سے انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اپنے باپ، بیٹے اور اپنے پیاروں سے ملیں گے۔ ‘میں بہت شکر گزار ہوں کہ کم سے کم مجھے والد سے ملنے کا موقع ملا۔ کم از کم مجھے یہ پتا چل گیا کہ وہ زندہ ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے انھیں دیکھ لیا ہے۔’ تالیہ نے بتایا کہ ‘پہلی بار جب میں نے والد کی رہائی کے لیے ویڈیو اپ لوڈ کی تو مجھے بہت نامناسب قسم کے ریمارکس دیے گئے۔‘ ‘جب ایم آئی نے تسلیم کیا کہ وہ ان کی تحویل میں ہیں کیس بھی شروع ہوا تو ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے کہا کہ انھوں نے کچھ کیا ہو گا اس لیے اٹھایا گیا۔ ‘مجھے بابا کی رہائی کے لیے آواز اٹھانے کے لیے زیادہ لوگوں کی جانب سے سپورٹ ملی ہے۔
یاد رہے کہ ادریس خٹک کو گذشتہ سال 13 نومبر کو سادہ لباس میں ملبوس افراد نے اسلام آباد پشاور موٹروے پر خیبرپختونخوا کے شہر صوابی انٹرچینج سے ان کی کار میں سے مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔ پشاور ہائیکورٹ نے 15 اکتوبر کو ادریس خٹک کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا عمل معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ادریس خٹک کی گمشدگی کے بعد ان کے اہلخانہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ایک مہم کا آغاز کیا تھا تاکہ حکام پر بین الاقوامی دباؤ ڈالا جا سکے۔ اس سلسلے میں انھوں نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے دفتر اور برطانیہ کے فارن اور دولت مشترکہ کے دفتر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایمنسٹی اینٹرنیشل بھی ان اداروں میں شامل ہے جو تسلسل کے ساتھ ادریس خٹک کی بازیابی کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close