کیا کپتان اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے اعلان پر بھی یوٹرن لے لیں گے؟


وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ایک بار پھر اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے واشگاف اعلان کے باوجود عوام کے ذہنوں میں یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ یوٹرن لینے کو عظیم لیڈروں کی نشانی قرار دینے والا کپتان مستقبل میں وسیع تر قومی مفاد کا بہانہ بنا کر اس معاملے پر بھی یوٹرن لے سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت کے ماؤتھ پیس سمجھے جانے والے نام نہاد اینکر پرسنز کامران خان اور مبشر لقمان کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے حق میں باقاعدہ میڈیا کیپین شروع کرنے کے پیچھے بھی دراصل کپتان حکومت اور اس کی اتحادی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے، جو اسرائیل کے حوالے سے عوامی جذبات نرم کرنے کے لئے رائے عامہ ہموار کر رہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اسرائیل نامی ناجائز یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے حوالےسے امریکی دبائو کے اعتراف کے بعد پاکستانی عوام کو خدشہ کہ کہیں عمران خان اس معاملے میں بھی یوٹرن لے کر اسرائیل کو تسلیم ہی نہ کر لیں۔ اہلیان پاکستان کو پاک اسرائیل تعلقات کے حوالے سے اس لئے تشویش لاحق ہوگئی ہے کہ عمران خان جو کام بھی نہ کرنے کا یقین دلاتے ہیں بعد میں یوٹرن لے کر وہی کام کر بھی جاتے ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے امریکی دبائو کے اعتراف، حال ہی میں کئی عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خفیہ دورہ سعودی عرب کی خبریں سامنے آنے کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کپتان نے یہ بیان شاید عوام کا ردعمل جانچنے کے لئے کیا ہے تاکہ مستقبل میں اس حوالے سے کوئی اہم فیصلہ کیا جائے۔ یہی نہیں بلکہ کپتان حکومت کا ماوتھ پیس اور ایجنسیوں کے گماشتے سمجھے جانے والے کامران خان اور مبشر لقمان جیسے ساکھ کے شدید بحران سے دوچار نام نہاد ٹی وی اینکرز کی جانب سے اپنے پروگرامز میں اسرائیل کو تسلیم کرلینے کے حق میں باقاعدہ رائے عامہ کو ہموار کرنے کی بھرپور کوششوں سے بھی لگتا ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ حکومت کے ناقدین کو خدشہ ہے کہ ممکنہ طور پر کپتان حکومت نے وسیع تر قومی مفاد کو بہانہ بناتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور محض اس حساس معاملے میں عوامی جذبات کا اندازہ لگانے کے لئے اپنے ہمدرد اینکرز کو اس حوالے سے کیپمین کرنے کا ٹاسک سونپا ہے۔
فی الوقت اسی سرکاری سچ کا بھرپور پروییگنڈا کیا جا رہا ہے کہ پاکستان مظلوم فلسطینی عوام کے لیے قابلِ قبول ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے قبل اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ وزارت خارجہ کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ جنوبی ایشیا کا مسلم اکثریتی آبادی کا بڑا ملک پاکستان، اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ تاہم وزارتِ خارجہ نے میڈیا میں جاری قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا کہ اسلام آباد فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کا اس سلسلے میں حالیہ بیان واضح اور غیر مبہم ہے کہ فلسطینی عوام کی خواہشات کے مطابق تنازع فلسطین کے منصفانہ حل تک پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق پائیدار اور منصفانہ امن کے لیے اقوامِ متحدہ اور اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم او آئی سی کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل ضروری ہے جس میں 1967 کی اسرائیل عرب جنگ سے پہلے کی سرحدیں ہوں جس میں القدس آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہو۔
واضح رہے کہ پاکستان نے اسرائیل کو اپنے قیام کے بعد سے ہی تسلیم نہیں کیا جب کہ پاکستان کا پاسپورٹ بھی سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کے سفر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حالیہ دنوں اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے مبینہ طور پر سعودی عرب کا ‘خفیہ دورہ’ کیا تھا جس میں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے والا ہے۔ان قیاس آرائیوں کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین ہونے والی تاریخی معاہدے کے بعد مزید تقویت ملی۔ امارات اور اسرائیل نے اگست میں تعلقات قائم کیے تھے۔سعودی حکام نے اسرائیل کے وزیرِ اعظم کے دورے کی خبروں کی تردید کی تھی۔اس مبینہ دورے کے بعد یہ افواہیں گردش کرنے لگی ہیں کہ پاکستان بھی اسی نقشِ قدم پر چلے گا اور سعودی عرب کے دباؤ پر اسرائیل کو تسلیم کر لے گا۔ خیال رہے کہ پاکستان کے روایتی طور پر سعودی عرب سے قریبی تعلقات ہیں۔ ریاض معاشی مشکلات کی صورت میں اسلام آباد کی مدد کرتا رہا ہے۔رواں ماہ ایک انٹرویو میں وزیرِ اعظم عمران خان نے تسلیم کیا تھا کہ ان کے ملک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سفارتی دباؤ ہے۔
تاہم دوسری جانب وزیرِ اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی اور مشرقِ وسطیٰ طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔طاہر اشرفی کے بقول پاکستان کا ایک مؤقف ہے پاکستان اسلامی تعاون تنطیم کا ایک اہم ملک ہے۔ وہ عالمی اُمور پر دیگر اسلامی ممالک سے مشاورت ضرور کرتا ہے۔ لیکن پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتا۔ان کے بقول پاکستان کا یہ مؤقف ہے کہ فلسطینیوں کی رضامندی کے بغیر تنازع فلسطین کا کوئی بھی حل اس کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں ہو گا جب کہ سعودی عرب کا بھی یہ اُصولی مؤقف ہے۔
بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار ہما بقائی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے فوری طور اسرائیل کو تسلیم کرنا شاید ممکن نہیں ہو گا۔ لگتا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں پاکستان ‘دیکھو اور انتظار کرو’ کی پالیسی اپنائے گا۔ہما بقائی کے بقول اگر سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کر لیتا ہے تو پھر پاکستان کے لیے ملک کے اندر اس معاملے پر رائے عامہ کو ہموار کرنے اور اپنی پالیسی تبدیل کرنے میں مدد ملی سکتی ہے۔ ہما بقائی کے بقول یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ماضی میں پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اس میں بعض وجوہات کی بنا پر پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔بقائی کہتی ہیں کہ پاکستان میں اب بھی بعض حلقے موجود ہیں جن کا خیال ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے میں کوئی حرج نہیں کیوں کہ ایسے طبقے کی رائے ہے کہ کشمیر کے تنازع کے باوجود پاکستان کے بھارت کے ساتھ بھی سفارتی تعلقات ہیں۔ ہما بقائی کہتی ہیں کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ سعودی عرب میں زیرِ بحث ضرور ہے۔ تاہم جس طرح کی مجبوریاں مشرقِ وسطیٰ کے بعض ممالک کی ہو سکتی ہے وہ مجبوریاں پاکستان کی نہیں ہیں۔
تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے بارے میں ایک اصولی مؤقف رہا ہے اور اگر اسرائیل اور فلسطینوں کے مابین دو ریاستی حل کے بارے میں کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو پھر پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کرنے میں مشکل نہیں ہو گی۔ لیکن موجودہ صورتِ حال میں پاکستان کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا مشکل ہے۔ تاہم اگر امریکہ پاکستان پر اتنا دباؤ ڈال دے کہ حکومت خطرے میں پڑ جائے تو پھر قومی مفاد کی آڑ میں اقتدار بچانے کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا کوئی بعید نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close