سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کا ریفرنس سماعت کیلئے مقرر

سپریم کورٹ نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کا ریفرنس سماعت کیلئے مقرر کرلیا ، چیف جسٹس کے سربراہی میں 5 رکنی بینچ 4 جنوری کو سماعت کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی طرف سے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کیلئے سپریم کورٹ سے رائے لینے کا فیصلہ کیا جس پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجا جو کہ سماعت کیلئے مقرر کرلیا گیا ہے ، چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ 4 جنوری کو صدارتی ریفرنس کی سماعت کرے گا ، بینچ میں جسٹس عمر عطاء بندیال ، جسٹس یحییٰ آفریدی ، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مشیر عالم شامل ہیں ، صدر مملکت کے ریفرنس پر اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیے گئے۔
واضح رہے کہ سینیٹ انتخابات شو آف ہینڈ سے کرانے کیلئے وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنےکا فیصلہ کیا تھ صدر مملکت عارف علوی نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ اور شو آف ہینڈز کے ذریعے کروانے کے معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے طلب کرلی ہے‘پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کی وزیر اعظم کی تجویز کی منظوری دیتے ہوئے ریفرنس پر دستخط کر دیے ہیں. بیان میں کہا گیا کہ صدر نے وزیر اعظم کی تجویز پر سینیٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ یا شو آف ہینڈز کے ذریعے کرانے کے عوامی اہمیت کے معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے مانگی ہے بیان کے مطابق سپریم کورٹ کو ارسال کردہ ریفرنس میں آئین میں ترمیم کیے بغیر الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 122 (6) میں ترمیم کرنے پر عدالت عظمیٰ کی رائے مانگی گئی ہے. خیال رہے کہ 15 دسمبر کو وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات فروری میں کروانے اور اوپن بیلٹ کے معاملے پر سپریم کورٹ کا مشاورتی دائرہ کار لاگو کرنے کا فیصلہ کیا تھا یہ انتخابات ایوان بالا کی 52 نشستوں پر ہوں گے کیوں کہ 104 اراکین سینیٹ 11 مارچ کو ریٹائر ہوں گے. کابینہ اجلاس کے دوران آئین کی دفعہ 186 کے تحت سپریم کورٹ کی رائے حاصل کرنے کی تجویز اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے دی تھی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن کے شیڈول کردہ انتخابات کے انعقاد سے قبل ایک آرڈیننس کے ذریعے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 112(6) میں ترمیم کردی جائے تو سینیٹ انتخابات خفیہ بیلیٹ کے بجائے کھلے عام رائے شماری کے ذریعے کیے جاسکیں گے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button