ویکسین لگوانے کے بعد ڈاکٹر ہسپتال داخل

میکسیکو میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ 32 سالہ خاتون ڈاکٹر کے کیس کا جائزہ لے رہے ہیں جنہیں فائزر بائیو این ٹیک کی کورونا وائرس کی ویکسین کی خوراک لگانے کے بعد ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ویکسین لگوانے کے بعد خاتون ڈاکٹر کو دورے پڑنے، سانس لینے میں تکلیف اور جلد پر سرخ نشانات ظاہر ہونے جیسے مسائل درپیش آئے۔خاتون ڈاکٹر جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا کو ملک کی شمالی ریاست نیوو لیون کے ایک سرکاری ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل کیا گیا۔وزارت صحت کی جانب سے جمعہ کی رات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ابتدائی تشخیص کے مطابق خاتون ڈاکٹر کو انسفیلیومائلائٹس ہے۔ اینسیفیلومائلائٹس دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی سوزش ہے۔‘وزارت صحت نے مزید کہا کہ ’ڈاکٹر الرجی کی مریضہ ہیں اور کلینیکل ٹرائلز سے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ویکسینیشن کے بعد کسی اور شخص کے دماغ میں اس طرح کی سوزش پیدا ہوئی ہو۔‘ اس معاملے پر فائزر اور بائیواین ٹیک کا موقف لینے کے لیے رابطہ نہیں ہوسکا۔
میکسیکو میں کورونا سے اب تک ایک لاکھ 26 ہزار 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
واضح رہے کہ میکسیکو میں 24 دسمبر 2020 سے طبی عملے کو کورونا ویکسین لگانے کا پہلا مرحلہ شروع کیا گیا تھا۔
دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فرانس میں لاکھوں افراد کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز پر قابو پانے کے لیے لگائے جانے والے سخت کرفیو کا سامنا کر رہے ہیں۔پولیس نے سینکڑوں افراد پر نئے سال کے جشن کے دوران غُل غپاڑہ کرکے کورونا کی روک تھام کے لیے نافذ ضوابط کی خلاف ورزی پر مقدمات درج کیے ہیں۔
کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اب تک 18 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سالِ نو کی چھٹیوں اور پارٹیوں کے ختم ہونے کے بعد کورونا کیسز اور اس سے ہونے والی اموات میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔
اُدھر تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں بارز، نائٹ کلبز اور ریستوران بند کر دیے گئے ہیں تاکہ ملک میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز پر قابو پایا جاسکے۔ شہر میں سکول بھی دو ہفتوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔دوسری جانب جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں میئر نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ نئی ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کرے تاکہ وبا کی تیسری لہر کا مقابلہ کیا جاسکے۔یاد رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اب تک 8 کروڑ 42 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ 18 لاکھ 31 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

English »گوگلیٰ
error: Content is protected !!
Close