فاطمہ جناح اور بینظیر کے بعد مریم کو بھی کردار کشی مہم کا سامنا


ماضی میں جس طرح سیاسی حریفوں کی جانب سے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اور بینظیر بھٹو کی کردار کشی کی گئی اسی طرح اب مریم نواز بھی پی ٹی آئی مخالفین کی جانب سے ایک مذموم مہم کا سامنا کررہی ہیں۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستانی سیاست اور سیاسی بحث کے دوران اکثر ایک دوسرے پر رکیک حملے کیے جاتے ہیں اور نیچا دکھانے کے لیے ذاتی اور نجی معاملات کو گھسیٹ کر سامنے لایا جاتا ہے۔ لیکن ایک مسئلہ ایسا ہے جو سیاسی بحث اور بیانیے کو باقی خرابیوں سے زیادہ داغدار کرتا ہے۔ اسے انگلش زبان میں میسوجنی کہتے ہیں یعنی ایسا بیان یا اقدام جو صنفی بنیادوں پر خواتین سے نفرت اور تعصب پر مبنی ہو۔ پاکستان کی سیاست، خاص طور پر انتخابی سیاست میں، یہ کوئی نئی بات نہیں۔ محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح نے جب جنرل ایوب خان کے مقابلے میں انتخابات میں حصہ لیا تو ان پر کئی الزامات لگائے گئے، انھیں غدار اور انڈین اور امریکی ایجنٹ تو کہا ہی گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنرل ایوب خان نے ان کے بارے میں دو ایسے الفاظ بھی کہے جو پوری طرح خواتین سے نفرت اور تعصب کے زمرے میں آتے ہیں۔جنرل ایوب خان نے فاطمہ جناح کو نسوانیت اور ممتا سے عاری خاتون قرار دیا تھا۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے کسی حلقے کی جانب سے اس بیان کی مذمت نہیں کی گئی۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ تب بھی میڈیا آزاد نہیں تھا لہذا اگر کہیں مذمت ہوئی بھی ہو گی تو سامنے نہ آ سکی۔ تاہم یہ افسوسناک سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ نصرت بھٹو کے خلاف تو صنفی بنیادوں پر کردار کشی کی پوری مہم اب تاریخ کا حصہ ہے۔ اب بھی خواتین سیاسی رہنما اور کارکن اس رویے کی زد میں رہتی ہیں۔
خواتین سے متعلق نفرت انگیز اور متعصبانہ رویہ صرف ملک کی معروف خواتین سیاسی رہنماؤں تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں پایا جاتا ہے۔ آگے بڑھنے کے لیے مردوں سے مقابلے کے دوران خواتین کو بہت گندے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سیاست دانوں کا ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرنا معمول کی بات ہے لیکن خواتین سیاستدانوں کو اپنے خلاف نفرت پر مبنی اور متعصبانہ بیانات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جو خواتین سیاستدانوں کے لیے ایک اضافی بوجھ ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مرد سیاستدانوں کا خواتین سیاستدانوں پر ان کی جنس کے حوالے سے جملے کسنے کا مقصد ان کے حوصلے پست کرنا اور انہیں ذہنی طور پر کمزور کرنا ہوتا یے۔ اگر ہم اپنی ہی تاریخ میں مزید پیجھے جائیں تو پہلے وزیر اعظم کی اہلیہ بیگم رعنا لیاقت علی کو بھی خاتونِ اول ہونے کے باوجود کئی باتیں سہنی پڑیں۔ وہ ساڑھی پہنا کرتی تھیں جس پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ انکی شخصیت اور فلاحی کاموں کے بجائے ان کے لباس پر بات کی گئی۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو خواتین کو سیاسی میدان میں برابری کی بنیاد پر مقابلے کا موقع نہیں ملتا کیونکہ انھیں اپنی ذات کے بارے میں ہر وقت ایک پریشانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
80 اور 90 کی دہائی میں بے نظیر بھٹو کو بھیآئے روز ایسے بیانات اور جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنے آپ کو بے نظیر بھٹو کہلواتی تھیں لیکن ان کے سیاسی مخالفین انھیں بے نظیر زرداری کہتے تھے۔ بے نظیر کو اپنی سیاسی جدوجہد میں ہر وقت ایک اضافی خطرے کا سامنا رہتا تھا اور ایک خاتون ہونے کے ناطے محتاط رہنا پڑتا تھا۔ جبکہ ان کے مدِمقابل مرد سیاستدان ایسی کسی پریشانی کا شکار نہیں تھے۔ اس لیے میدانِ سیاست میں مقابلہ برابر کا نہیں تھا لیکن پھر بھی انھوں نے اپنے مخالفین کو شکست دی۔اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران وہ بچوں کی پیدائش کے مرحلے سے بھی گزریں اور وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے فرائض بھی انجام دیے۔ لیکن اس پر بھی تعریف کے بجائے بعض لوگوں کی جانب سے تمسخر کا نشانہ بنیں۔
خواتین سیاستدانوں کی مشکلات کسی ایک جماعت تک محدود نہیں بلکہ یہ مسئلہ اکثر سیاسی جماعتوں میں موجود ہے۔ حال ہی میں گلگت بلتستان کے انتخابات میں مریم نواز کے بارے میں وفاقی وزیر عکی گنڈا پور نے فضول باتیں کیں اور جلسہ گاہ میں موجود حاضرین نے قہقہے لگائے۔ اسکا۔مطلب یے کہ ہمارے معاشرے میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ایسی سطحی باتوں کے چسکے لیتے ہیں اور سیاسی بحث میں ایسے بیانات کی گنجائش موجود ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر وہ خود کو مریم نواز کہلانا پسند کرتی ہیں تو کسی کو یہ حق نہیں کہ انھیں مریم صفدر کہے۔ لیکن ان کے کئی مخالف سیاستدان صرف سیاسی چسکے اور انھیں نیچا دکھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔
اسی طرح ڈاکٹر شیریں مزاری، شیری رحمان اور فردوس عاشق سمیت کئی خواتین سیاستدانوں کے خلاف تمسخر آمیز بیانات پاکستان کی سیاسی بحث کو پستی میں دکھیلنے کی واضح مثالیں ہیں۔
دراصل خواتین کے خلاف نفرت اور تعصب کی جڑیں ہمارے طبقاتی نظام میں بہت گہری ہیں۔ جب کوئی خاتون سیاست میں قدم رکھتی ہے تو بہت سے لوگوں کے لیے وہ اپنے روایتی کردار سے باہر آتی ہے۔ لہذا مرد حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ خاتون کا یہ کام نہیں کہ وہ سیاست کرے یا کسی جماعت کی قیادت کرے۔ لیکن اس سوچ کے باوجود خواتین پاکستان کے سیاسی نظام میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہیں۔حالانکہ بے نظیر بھٹو کے دو مرتبہ وزیراعظم بننے کے واقعے کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن اسے آج بھی پاکستان میں خواتین کی جدوجہد کے سفر میں ایک سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ بے نظیر کو جن لوگوں نے منتخب کیا ان میں اکثریت غریب لوگوں کی تھی۔ بے نظیر کو ووٹ دینے کی اور بھی کئی وجوہات ہوں گی لیکن عوام کا اتنی بڑی تعداد میں ایک خاتون کو ووٹ دینا ایک سماجی تبدیلی کا بھی اشارہ تھا۔جب بے نظیر کے بارے میں بحیثیت ایک خاتون ان کے سیاسی مخالفین نازیبا الفاظ کہتے تھے تو ان کے لاکھوں ووٹروں کو یہ برا لگتا تھا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس رویے کے باوجود ان کے وزیر اعظم منتخب ہونے نے خواتین کے بارے میں سماجی رویے میں کسی حد تک بہتری ظاہر کی۔
نتیجہ یہ ہے کہ آج کے سیاسی منظر نامے میں اب زیادہ خواتین نظر آ رہی ہیں۔ ایسے علاقوں سے بھی خواتین انتخابات اور سیاسی عمل کے ہر شعبے میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں جو بہت قدامت پسند سمجھے جاتے ہیں۔ ملک کے قوانین بھی میدانِ سیاست میں اترنے میں خواتین کے لیے مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ لیکن خواتین کے خلاف صنفی بنیادوں پر متعصبانہ رویے آج بھی پوری طرح موجود ہیں۔ اس مسئلے کا مقابلہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ سیاست میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شمولیت ہی اس کا حل بھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

English »گوگلیٰ
error: Content is protected !!
Close