فوج پوزیشن واضح کرے، عوام کے ساتھ ہے یا نااہل کے؟

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ فوج پوزیشن واضح کرے کہ وہ عوام کے ساتھ ہے یا نااہل کے؟ ہم اپوزیشن کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے وہ بھی ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے قوم کو آزادی اور جمہوریت کا راستہ دکھایا اور ‘جو عمران خان کا وفادار ہے، میں اسے غدار کہتا ہوں’۔
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ بنوں کے لوگوں نے آج حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا۔انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ‘مجھے نیب کے سامنے سرینڈر کرنے کا مشورہ دیا لیکن میں نے کہا وہ جنرل نیازی تھا جو سرینڈر ہو گیا’۔ مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ میرے آبا واجداد نے کبھی کسی کے سامنے سر نہیں جھکایا’ اور نہ ہی میں کسی کے سامنے سر جھکاؤں گا.
پی ڈی ایم کے صدر نے کہا کہ ہماری جہدوجہد ملک میں جمہوریت اور قانون کی عملداری کے لیے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘آج معیشت کو جس بحران کا سامنا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اور آج کہتا ہوں جو عمران خان کا وفادار ہے، میں اسے غدار کہتا ہوں۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کا قتل عام کیا گیا اور میں واقعے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ برداری کے مظلوموں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد آزاد ہیں اور جب چاہے کسی کو قتل کردیتے ہیں جبکہ ڈکیتیوں کی سب سے زیادہ شرح اسلام آباد میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف فوج کے ساتھ عوام نے بھی قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان سے فوج کو واپس بلا لیا جائے۔
سربراہ جے یو آئی نے وزیر اعظم عمران خان کے بیان کے حوالے سے کہا کہ ‘کہتا ہے میرے پاس ٹیم نہیں، مجھے حکومت نہیں آتی لیکن اصل بات یہ ہے کہ کام کرنے والے لوگ ہیں لیکن آپ کو کسی سے کام لینا نہیں آتا’۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت کا جنازے نکالنے کے لیے ایک جگہ جمع ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 21 جنوری کو کراچی میں اسرائیل نامنظور ملین مارچ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک آزاد ریاست ہے اور اب کسی طاقتور ملک کی کالونی بن کر نہیں رہ سکتے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے آباو اجداد کا نصب العین رہا ہے کہ ہم ایک آزاد اور خود مختار ملک چاہتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر میں فوج کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا، تو فوج بھی سیاسیت میں مداخلت نہ کریں.فوج کو اب پوزیشن واضح کرنا پڑے گی کہ وہ عوام کے ساتھ ہے یا نااہل کے؟ تاکہ ہماری تحریک کا رخ سلیکٹڈ کے ساتھ ان کی طرف بھی ہو. ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت مضبوط تھی تو لوگ ہم سے تجارت کرنا چاہتے تھے لیکن اس حکومت نے پاکستان دوستوں کا اعتماد ختم کردیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اب کوئی یہاں آنے کو تیار نہیں ہے۔ جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ آج اسرائیل کو تسلیم کرنے باتیں ہورہی ہیں اس لیے واضح کردوں کہ کسی کا باپ بھی ایسا نہیں کرسکتا۔
مولانا فضل الرحمٰن سے قبل مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکا نہ ڈالا جاتا تو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے آج لاکھوں روز گار پیدا کررہا ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی قیادت میں معیشت ناکارہ ہوچکی ہے۔انہوں نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کہاں گئے وہ جھوٹے لوگوں کو سبز باغ دکھاتے تھے، اب وہ منظر عام پر نہیں آتے کیونکہ انہیں عوام کا خوف ہے۔احسن اقبال نے قائد اعظم کا حوالہ دے کر کہا کہ ریاست کی کامیابی کا محور عوام ہیں، اگر وہ ریاست کے امور چلائیں گے تو ملک ترقی کرے گا۔
رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ہر وعدے پر یوٹرن لیا اور نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ موجودہ حکومت خارجہ پالیسی اور کشمیر کا دفاع کرنے میں فیل ہوچکے ہیں۔احسن اقبال نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ ورلڈ کپ تم نہیں بلکہ جاوید میانداد، وسیم اکرم، انضمام اور محمد مشتاق نے جیتا تھا۔علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نیشنل ایکشن پلان بنایا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button