کراچی میں آنکھوں کے خشک ہونے کی بیماری میں اضافہ

ایک بین الاقوامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کراچی میں آنکھوں کے خشک ہونے والے مرض کی بہت زیادہ علامات پائی گئی ہیں۔
عمر، کانٹیکٹ لینس پہننے، اوکولر الرجی، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے متعدد عوامل اس بیماری پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ‘ایک غیر کلینکل آبادی میں اوکولر سطح کی بیماریوں کے انڈیکس اسکور کی تقسیم اور ان سے وابستگی: کراچی اوکولر سطح کی بیماری کا مطالعہ’ کے عنوان سے یہ تحقیق گزشتہ برس میڈیکل سائنس کے کیوریئس جرنل میں شائع ہوئی تھی۔
پاکستان میں اس نوعیت کا پہلا مطالعہ 2019 میں ہاشمانی گروپ آف ہاسپٹلز کے ڈاکٹر نعمان ہاشمانی کی سربراہی میں محققین کی ایک ٹیم نے کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق آنکھوں کے خشک ہونے کی بیماری، جسے خشک آنکھوں کے سینڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک عام حالت ہے جو اس وقت ہوتی ہے جب آنسو آنکھوں کے لیے مناسب نمی فراہم کرنے کے لیے ناکافی ہوتے ہیں۔ آنسو کا یہ عدم استحکام متعدد وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے اور آنکھوں کی سطح کو سوزش اور نقصان پہنچاتا ہے۔ تحقیق میں آنکھوں کے کسی مرض میں مبتلا نہ ہونے کے 18 سال سے زیادہ عمر کے کل 2 ہزار 433 افراد کا مطالعہ کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ زیر مطالعہ افراد میں سے 35 سے 60 فیصد خشک آنکھوں سے دوچار ہیں جن کی اوسط عمر 30 سال سے کم ہے۔ یہ بھی پتا چلا ہے کہ بڑی عمر، سگریٹ نوشی اور ذیابیطس نے اس بیماری کے خطرے کو بڑھا دیا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ‘بہت سارے مطالعات نے خواتین کے لیے آنکھوں کی خشک بیماری کے خطرے کو زیادہ سنگین بتایا ہے، اردن میں ہونے والی ایک تحقیق میں خواتین کی چھوٹی عمر میں کوئی اثر نہیں دیکھا گیا ہے تاہم 45 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کو اس بیماری کا زیادہ خطرہ لاحق ہے’۔ کہا گیا کہ ‘لہذا یہ نظریہ پیش کیا گیا کہ خواتین میں اینڈروجن کی کم بیس لائن کی وجہ سے عمر رسیدہ خواتین میں غدود کے کام کرنے کے لیے کم سے کم مطلوبہ سطح پر جلد پہنچ جاتی ہے، مزید برآں ایسٹروجن کو میبومین غدود (چھوٹے چھوٹے تیل کے غدود جو پلکوں کے فرق میں بنتے ہیں) کی سرگرمی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو زچگی کے بعد خواتین میں اس مسئلے کو بڑھاتا ہے’۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے بین الاقوامی مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خطرے کے عوامل میں کچھ ہائی بلڈ پریشر کی دوائیں بھی شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

گوگلیٰ انگلش»
error: Content is protected !!
Close