نیب نے وزیراعظم کو ماموں بنایا اور انہوں نے قوم کو


پاکستان میں انسدادِ بدعنوانی کے قومی ادارے نیب کی جانب سے پچھلے دو برسوں میں تقریبا 389 ارب روپے ریکور کرنے کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھل گئی جنہیں وزیر اعظم عمران خان نے بھی عوام کے سامنے اپنی حکومت کے نمبر ٹانگنے کی خاطر دہرا دیا تھا.
عوامی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کرپشن کے خلاف کام کرنے والا یہ ادارہ خاص طور پر لوٹی گئی رقم کی وصولی کے بارے میں غلط اعداد وشمار پیش کر کے عوام اور حکومت کو گمراہ کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے جب کہ اس ادارے کی پہلے ہی عوام کی نظروں میں کوئی ساتھ باقی نہیں رہی ہے. سوال یہ بھی ہے کہ اگر اپنی جھوٹی کارکردگی دکھانے کی خاطر نیب نے غلط اعداد و شمار پیش کیے تھے تو وزیراعظم نے ان کو تصدیق کیے بغیر آگے کیوں دھرا دیا. یاد رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے حال ہی میں ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں دعویٰ کیا کہ اُن کے دور حکومت یعنی گذشتہ دو سال کے عرصے میں انسدادِ بدعنوانی کے ادارے قومی احتساب بیورو نے مجموعی طور پر کرپٹ افراد سے 389 ارب روپے ریکور کیے ہیں۔ تاہم نیب کی اپنی ویب سائٹ یہ کہتی ہے کہ ریکور شدہ رقم کی مد میں نیب نے براہ راست صرف 16 ارب روپے کی ریکوری کی ہے… یعنی اصل وصول کردہ رقم وزیراعظم کی جانب سے بتائی گئی رقم سے 373 ارب روپے کم ہے.
دوسری طرف عمران خان نے نیب کی کارکردگی کے حوالے سے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ سابقہ ’بدعنوان ادوار حکومت‘ کے دس برسوں میں صرف 104 ارب روپے وصول کیے جا سکے تھے۔ وزیر اعظم نے حالیہ برسوں میں نیب کی جانب سے زیادہ ریکوریز کی وجہ ان کے دورِ حکومت میں اداروں کو آزادانہ کام کرنے کی اجازت کو قرار دیا۔ عمران خان نے ایک ایسے وقت میں ٹویٹ کے ذریعے نیب کی کارکردگی کو سراہا جب حزب اختلاف کے رہنما یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ حکومت ان کے خلاف نیب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ نیب کا بنیادی کام احتساب اور بدعنوان عناصر سے لوٹی ہوئی ملکی دولت کو ریکور کرنا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنی ٹویٹ میں نیب کی صرف گذشتہ دو برس کی کارکردگی کو سراہا اور یہ تاثر کنفرم کیا کہ احتساب بیورو ان کی حکومت کے نیچے کام کرتا ہے جیسا کہ اپوزیشن بھی الزام لگاتی ہے.
جب بی بی سی نے وزیر اعظم کے ٹویٹ کی روشنی میں نیب سے دو سال کے اعداد و شمار کی تصدیق کے لیے رابطہ کیا تو نیب کے ترجمان نوازش علی نے بتایا کہ نیب ابھی ریکور ہونے والی رقوم کا تعین کر رہا ہے اور ایسا متعلقہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق نیب نے ابھی ان زمینوں کی بھی مالیت کا اندازہ لگانا ہے جو ریکور کی گئی ہیں اور اس مقصد کے لیے نیب متعلقہ محکمے کی خدمات حاصل کرے گا تاکہ کوئی یہ اعتراض نہ اٹھا سکے کہ نیب نے اپنی من مرضی سے خود ہی ان کی قیمت کا تعین کر دیا ہے۔ ان کے مطابق نیب واگزار کرائی گئی زمین کی قیمت کے تعین میں بہت احتیاط سے کام لے رہا ہے اور اس مقصد کے لیے ریونیو کے سینیئر حکام کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔ نیب ترجمان کے ساتھ جب وزیر اعظم عمران خان کا ٹویٹ شیئر کیا گیا تو اس پر انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیب نے جتنی رقم براہ راست اور بالواسطہ ریکور کرائی ہے اگر اس کی مالیت کا اندازہ لگایا جائے تو ریکور کی جانے والی رقم وزیر اعظم کی جانب سے بتائی گئی رقم سے بھی کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اپنی بات کی دلیل میں انھوں نے کہا کہ ابھی نیب سکھر، کراچی اور بلوچستان نے جو زمینیں ریکور کی ہیں اس کی مالیت ان اعدادوشمار میں شامل نہیں کی جا رہی ہے۔
دوسری طرف نیب نے 2018 سے 31 دسمبر 2020 تک کا جو ڈیٹا پریس ریلیز کی شکل میں اپنی ویب سائٹ پر جاری کیا ہے اس کے مطابق نیب کی ریکوری 321 ارب سے زائد بنتی ہے۔ نیب کی ویب سائٹ پر 2019 کی کارکردگی رپورٹ میں یہ درج ہے کہ نیب نے 2019 میں کل 137 ارب ریکور کیے ہیں، جن میں 121 ارب کی بالواسطہ ریکوریاں بھی شامل ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق نیب نے براہ راست صرف 16 ارب روپے کی ریکوری کی ہے۔ تاہم نیب کے ترجمان ان اعدادوشمار کو بھی حمتی تصور نہیں کرتے۔ انھوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ نیب نے جو اعداد و شمار پریس ریلیز کی صورت جاری کیے ہیں یا جن اعدادو شمار پر وزیر اعظم نے ٹویٹ کر کے نیب کی حوصلہ افزائی کی ہے آخر ان کی پھر بنیاد کیا ہے اور وہ خان صاحب کو کس نے فراہم کیے؟ خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب نیب کو اپنے میگا کرپشن کے مقدمات سے ریکوری میں کوئی خاص کامیابی بھی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
اس حوالے سے مسلم لیگ نون کے رُکن قومی اسمبلی قیصر شیخ کا کہنا تھا کہ نیب مختلف اوقات میں مختلف اعداد و شمار جاری کرتا رہتا ہے، جو مزید ابہام پیدا کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق فنانس کا تو اصول ہی یہی ہے کہ دعویٰ کرنے سے پہلے مکمل حساب کر لو جبکہ صورتحال یہ ہے کہ ابھی پارلیمنٹیرینز تک کو نہیں پتا کہ کس مد میں کتنی وصولیاں کی گئی ہیں۔ ان کے خیال میں نیب جس طرح کی تصویر پیش کر رہا ہے وہ بطور معیشت دان اُن کی سمجھ سے بھی بالاتر ہے۔ ان کے مطابق پارلیمینٹ ہر بار نیب کی کارکردگی کو تو ضرور زیر بحث لاتی ہے مگر نیب پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا اور وہ صرف پلی بارگین کے ذریعے سرمایہ کاروں سے رقوم وصول کرنے میں مگن رہتا ہے۔ قیصر شیخ کے مطابق جہاں نیب کے اعداد وشمار کا احتساب ہونا چاہیے وہیں اس بات کی تحقیقات بھی ہونی چاہییں کہ نیب بزنس کمیونٹی کو ڈرا اور دھمکا تو نہیں رہا ہے۔ ان کی رائے میں اکثر بیرون ملک کے سرمایہ کار احتساب کے ایسے نظام کے ڈر سے پاکستان کا رخ ہی نہیں کرتے ہیں۔ قیصر شیخ کے مطابق نیب کے اس طرح کے کنڈکٹ پر نہ صرف حزب اختلاف کے رہنماؤں نے بلکہ سپریم کورٹ نے بھی متعدد بار تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یاد رہے کہ.اکتوبر 2019 کے آغاز میں نیب نے دعویٰ کیا تھا کہ ریکور کی جانے والی رقم 71 ارب روپے ہے تاہم دو، تین ماہ کی قلیل مدت میں ریکوری کا دعویٰ 71 ارب سے بڑھ کر 153 ارب تک پہنچا دیا گیا تھا مگر نیب کے اپنے مرتب کردہ ریکارڈ سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل شاہ خاور خان نیب کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے مطابق نیب کو یہ بات واضح کرنی چائیے کہ جو پیسہ ریکور ہو وہ Federal Consolidated Funds میں جانا چاہیے جہاں سے پھر اس کا مکمل حساب ہو سکے۔ شاہ خاور کے خیال میں جب اعداد و شمار میں فرق آ رہا ہو تو پھر فارنزک آڈٹ کے ذریعے ہی حقائق کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ نیب کے سینیئر پراسیکیوٹر عمران الحق اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ نیب کا تمام ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے اور اس کا آڈٹ بھی ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ہر سال نیب نے صدر پاکستان کو اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کرنی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق نیب جتنا پیسہ ریکور کرتا ہے وہ 30 دن کے اندر متعلقہ بینک، محکمے، صوبے یا ہاؤسنگ سوسائٹی کے متاثرین کو بھیج دیتا ہے۔ ان کے مطابق ریکور کی گئی رقم کا کچھ حصہ Federal Consolidated Funds میں بھی جمع کرا دیا جاتا ہے جو بعد میں نیب سپلیمنٹری گرانٹ کی صورت میں وصول کرتا ہے۔ یب کے پاس اس وقت 179 ایسے مقدمات کی فہرست ہے جسے نیب میگا کرپشن کے مقدمات سے تعبیر کرتا ہے یعنی ان مقدمات سے نیب کو بڑی رقوم کی ریکوری کی امید ہے مگر کئی برس گزر جانے کے بعد بھی ان میں سے صرف 97 مقدمات میں ہی ریفرنس دائر کیے جا سکے ہیں جو ابھی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ان میں سے 57 مقدمات اب نیب کی فہرست سے نکال دیے گئے ہیں۔ ماتحت عدالتوں سے اب تک نیب کے حق میں صرف 17 فیصلے آ سکے ہیں۔ نیب مالی خرد برد کے27 مقدمات سے اب تک کوئی ریکوری نہیں کر سکا ہے۔ نیب ان مقدمات میں سے صرف ایک میں پلی بارگین کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے، جس میں 300 ملین رقم کی خرد بُرد کا الزام تھا۔ دستاویزات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ نیب نے بینکوں کی براہ راست ریکوری کو بھی اپنے کھاتے میں ڈال دیا ہے۔
ان میگا کرپشن کے مقدمات میں متعدد مقدمات انکوائری کے ابتدائی مرحلے میں ہی بند کر دیے گئے جبکہ چار میں نیب نے والنٹیری ریٹرن کے ذریعے کچھ رقم وصول اور اور صرف دو مقدمات میں بلی بارگین کے ذریعے محدود رقوم حاصل کر سکا۔ نیب نے کچھ عرصے قبل بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین کے داماد زین ملک سے بھی پلی بارگین کی ہے۔ گذشتہ سال تین بڑی پلی بارگین منظر عام پر آ سکیں، جن سے نیب کو چند ارب حاصل ہو سکے۔ زین ملک نے نیب کو نو ارب روپے دیے جبکہ نیب نے لکی علی سے دو ارب جبکہ جعلی بینک اکاؤنٹس میں 23 ارب روپے وصول کیے۔ اختیارات کے ناجائز استعمال کے 19 مقدمات میں نیب کو ریکوری میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ نیب نے متعدد انکوائریاں بند کر دیں ہیں اور صرف دو مقدمات میں ملزمان نے رضاکارانہ طور پر محدود رقوم واپس کی ہیں مگر ان ریکوریوں کا تعلق ماضی کے ادوار سے ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فارنزک آڈٹ سے ہی یہ حقیقت سامنے لائی جا سکتی ہے کہ دراصل نیب نے کتنی ریکوری کی ہے اور اس عرصے میں نیب پر سرکار کا کتنا پیسا خرچ ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

گوگلیٰ انگلش»
error: Content is protected !!
Close