براڈ شیٹ کا مالک کسے نواز شریف کا رشتہ دار سمجھ کر ملتا رہا؟


سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نےخفیہ اثاثے ڈھونڈنے والی فرم براڈ شیٹ ایل ایل سی کے مالک کاوے موسوی کے اس دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے کہ 2012 میں شریف فیملی کی جانب سے اسکو انکے خفیہ اثاثے نہ ڈھونڈنے کے عوض ایک رشتہ دار کے ذریعے رشوت آفر کی گئی تھا۔ حسین نواز کا کہنا ہے کہ جب حکومت پاکستان نے 2003 میں نیب کے ساتھ غیر ملکی اثاثے ڈھونڈنے کا معاہدہ منسوخ کر دیا تھا تو 2012 میں کسی کو کیا پڑی تھی کہ وہ براڈ شیٹ کو اثاثے چھپانے کے عوض رشوت کی آفر کرتا۔
یاد رہے کہ موسوی کا یہ الزام پاکستانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹ پریس آف پاکستان نے رپورٹ کیا تھا کہ اسے نواز شریف کے ایک رشتہ دار نے رشوت کی آفر کی تھی۔ بعد ازاں وزارت اطلاعات کے ایما پر پاکستانی اخبارات نے اس کہانی کو اٹھایا اور ٹاک شوز میں اس پر بحث کروائی گئی۔ دوسری طرف حسین نواز کہتے ہیں کہ برطانوی کمپنی کا یہ بھونڈا الزام دراصل وہ خفت مٹانے کی کوشش ہے جو اسے برطانوی عدالت کی ایک حالیہ فیصلے کی وجہ سے اٹھانا پڑی جب اسکی جانب سے شریف خاندان کے لندن فلیٹس ضبط کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ برطانوی عدالت کے اس فیصلے کے بعد شریف خاندان کے خفیہ اثاثے بازیافت کرانے میں ناکام رہنے والی فرم براڈ شیٹ کے ایرانی نژاد مالک کاوے موسوی نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف کا بھانجا یا بھتیجا ہونے کا دعویٰ کرنے والے ایک شخص نے ان سے 2012 میں رابطہ کیا اور ان کے خلاف تحقیقات روکنے کے لیے بطور رشوت بھاری رقم کی پیش کش کی۔ اسکا کہنا تھا کہ انجم ڈار نامی ایک آدمی خود کو نواز شریف کا بھانجا یا بھتیجا بتاتے ہوئے اس سے دو بار ملا، ایک بار کینٹربری اور پھر لندن میں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ فرد نے انہیں ڈھائی کروڑ ڈالرز کی پیش کش کی۔ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ خفیہ جائیدادوں کا سراغ لگانے والی ایک بڑی بین الاقوامی کمپنی کے سربراہ نے یہ جاننا بھی گوارا نہ کیا کہ وہ شخص واقعی نواز شریف کا رشتہ دار ہے یا نہیں۔ موسوی کے پاس نہ تو اس شخص کا کوئی فون نمبر ہے اور نہ ہی گھر یا دفتر کا کوئی ایڈریس۔
ایک حالیہ انٹرویو کے دوران جب موسوی سے پوچھا گیا کہ انہیں کیسے یقین ہوا تھا کہ جو شخص ان کے پاس رشوت کی آفر لے کر آیا وہ نواز شریف کا رشتہ دار ہے تو انہوں نے بتایا کہ ’اس شخص نے مجھے ایک تصویر دکھائی تھی جس میں نواز شریف نے انہیں گلے لگایا ہوا ہے، جب موسوی سے پوچھا گیا کہ آیا انہوں نے رشوت کی اس پیش کش پر غور کیا تھا تو اس نے کہا کہ جب ہمیں یہ احساس ہوا کہ وہ بنیادی طور پر ہمیں پیچھے ہٹنے کے لیے رقم کی پیش کش کررہا ہے تو میرا جواب تھا کہ جو بھی رقم دینے کی پیش کی جارہی ہے وہ ثالثی میں وکیلوں کے ذریعے ہمارے پاس آنی چاہیے۔
جب موسوی سے پوچھا گیا کہ اسں نے برطانیہ کے حکام یا عدالت کے ذریعہ مقرر کردہ ثالث کو اس آفر کی اطلاع کیوں نہیں دی تو انہوں نے کہا کہ میں نے یقینی طور پر اس کے بارے میں وکلا سے تبادلہ خیال کیا لیکن ہم نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو متعلقہ حکام کے سامنے نہ اٹھائیں۔ اس سوال پر کہ 2003 میں پاکستان حکومت سے اثاثے کی وصولی کا معاہدہ ختم ہونے کے 9 سال بعد شریف خاندان یا ان کے نمائندے انہیں 2012 میں رشوت کی پیش کش کیوں اور۔کس وجہ سے کریں گے تو کاوے موسوی نے کہا کہ ہم تب بھی حکومت پاکستان کے ساتھ ثالثی میں مصورف تھے اور شریف خاندان والے نہیں چاہتے تھے کہ یہ سارا معاملہ سامنے آئے۔ تاہم موسوی کا اس موقف میں کوئی وزن دکھائی نہیں دیتا۔
دوسری طرف اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے لندن میں گفتگو کرتے ہوئے موسوی کو جھوٹا قرار دیا ہے جس کی اپنی باتوں سے جھوٹ عیاں ہے۔ حسین کا کہنا تھا کہ موسوی کے دعوے کے مطابق انجم ڈار نامی ہمارا کوئی رشتے دار دنیا میں موجود نہیں ہے، اگر کوئی فرد اس طرح کا دعویٰ کرنے والا موسوی کے پاس آیا تھا تو کیا یہ اسکی تفتیشی کمپنی کے لیے کوئی مشکل کام تھا کہ وہ اس بندے کا سراغ لگاتے کہ وہ کون ہے؟۔
انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کے دو بھائی اور ایک بہن ہیں اور ان کے تمام بچوں کے نام عوامی ڈومین میں ہیں، کیا کاوے موسوی اتنا گے گزرے تفتیش کار ہیں کہ وہ نو سال بعد بھی اس حقیقت کا تعین نہیں کرسکے کہ انکو ماموں بنانے والا شخص دراصل کون تھا؟۔ حسین نواز کا کہنا تھا کہ صاف ظاہر ہے موسوی جھوٹ بول رہے ہیں اور اس کا بنیادی مقصد اپنی خفت مٹانا ہے۔
اس سے پہلے رواں ہفتے ایک انٹرویو میں براڈشیٹ کے مالک موسوی نے شریف خاندان پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے اور ایون فیلڈ ہاؤس میں کنبے کی جائیدادوں کی تحقیقات کے لیے اپنی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کے لیے حکومت پاکستان حکومت کو اپنی خدمات کی دوبارہ پیش کش کی، لیکن اب تک حکومت اس کی پیش کش میں دلچسپی لیتی دکھائی نہیں دیتی۔ اس سے پہلے ایک برطانوی عدالتی حکم کے بعد براڈشیٹ ایل ایل سی کو حکومت پاکستان کو دسمبر 2020 میں 2کروڑ 90 لاکھ روپے ادا کرنے پڑے تھے۔
یہ جرمانہ وصول کرنے کے بعد موسوی نے حکومت پاکستان کو یہ آفر کی ہے کہ اگر وہ ان کے ساتھ سیاستدانوں کے غیر ملکی اثاثے ڈھونڈنے کا معاہدہ دوبارہ کر لے تو اسکی فرم حکومت پاکستان کو جرمانے کی رقم واپس کرنے کو تیار ہے۔ تاہم اس حوالے سے شہزاد اکبر نے کہا یے کہ حکومت پاکستان کو براڈشیٹ ایل ایل سی کی خدمات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ اس نے پاکستانی خزانے میں کچھ واپس لائے بغیر الزامات سے پاکستان کا نام خراب کیا ہے۔
یاد رہے کہ اپنے حالیہ انٹرویو میں کاوے موسوی نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ وہ جب عمران خان کے مشیر احتساب شہزاد اکبر سے ملے تھے، تو انکے ساتھ آنے والا شخص مشتبہ افراد کی جائیداد کے بارے میں جاننے کی بجائے اپنے حصے کی رقم میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

گوگلیٰ انگلش»
error: Content is protected !!
Close