کیا بائیڈن کے آنے سے پاکستان میں بھی سیاسی تبدیلی آئے گی؟


نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں سابق صدر آصف علی زرداری اور پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو شرکت کی دعوت دیے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا بائیڈن کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد پاکستان میں بھی ٹرمپ کی حامی حکومت کے جانے اور سیاسی تبدیلی آنے کا امکان بڑھ گیا ہے.
سوشل میڈیا پر بائیڈن کے آنے سے پاکستانی میں ممکنہ سیاسی تبدیلی کی بحث تب شروع ہوئی جب خاتون ٹی وی اینکر پارس جہانزیب نے ایک ٹویٹ میں اس خیال کا اظہار کیا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کی بجائے جائے بلاول بھٹو اور آصف زرداری کو 20 جنوری کو اپنی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت سے ثابت ہوتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کا جھکاؤ پیپلز پارٹی کی جانب یے۔ پارس نے اپنے ٹویٹ میں یہ سوال بھی کیا کہ کیا بائیڈن انتظامیہ کے اس طرز عمل کی وجہ سے تبدیلی سرکار کو مستقبل میں پریشانی ہو سکتی ہے ؟؟؟
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے 20 جنوری کو ہونے جارہی اپنی تقریب حلف برداری میں وزیراعظم عمران خان کی بجائے پیپلز پارٹی کے صدر اور سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو دعوت دی ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق حیرت انگیز طور پر وزیراعظم عمران خان کو جو بائیڈن نے اپنی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت نہیں دی۔ جوبائیڈن انتظامیہ کی جانب سے برسراقتدار جماعت کے سربراہ اور وزیراعظم ہکو اپنی تقریب حلف برداری میں بلانے کے بجائے ملک کے سابق صدر اور اپوزیشن جماعت کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کو بلانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ مستقبل میں کپتان سرکار کی بجائے پیپلز پارٹی کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف ابھی تک دفتر خارجہ نے اس بات ہیں کی وضاحت نہیں کی کہ آیا وزیراعظم عمران خان کو امریکی صدر کی حلف برداری کی تقریب میں بلایا گیا ہے یا وہ وہاں جا رہے ہیں یا نہیں.
سوشل میڈیا پر اس خبر کے حوالے سے طرح طرح کے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ بہت سے اچھی یادداشت رکھنے والے صارفین نے اپنے ردعمل میں بتایا کہ سبکدوش ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں بھی اس وقت کے صدر کی بجائے آصف زرداری کو ہی مدعو کیا گیا تھا لیکن بعد میں امریکی انتظامیہ نے پی پی پی کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں موجود سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی دراصل امریکی انتظامیہ میں اپنے تعلقات استعمال کرکے ہر بار پیپلزپارٹی کی قیادت کے لئے خصوصی دعوت نامہ حاصل کرلیتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ بلاول نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں شرکت کر رہے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ حسین حقانی کا پیپلزپارٹی یا اس کی قیادت سے پچھلے دس برس سے نہ کوئی رابطہ ہے اور نہ کوئی تعلق اور اگر امریکی صدور پیپلز پارٹی کی قیادت کو اپنی حلف برداری کی تقاریب میں بلاتے ہیں تو یہ ان کی اپنی سیاسی سٹینڈنگ کی وجہ سے ہے.
بائیڈن کی حلف برداری تقریب میں بلاول کی شرکت سے قطع نظر پاکستان کے سیاسی حلقوں میں بائیڈن کو ایسی اصول پسند شخصیت سمجھا جاتا ہے جنہوں نے 2007 میں سابق فوجی آمر جنرل مشرف کو وردی اتارنے اور اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا تھا. یہی وجہ ہے کہ بائیڈن کی جیت سے پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کی امیدوں میں اضافہ ہوگیا ہے کہ جس طرح انہوں نے ٹرمپ کو فارغ کروایا اسی طرح عمران خان کو بھی پاکستان کی سیاست سے بیدخل کروانے میں جمہوری قوتوں کی حمایت کریں گے۔3 نومبر 2020 کو امریکی صدر منتخب ہونے والے سابق سینیٹر جو بائیڈن کم از کم 2007 سے پاکستانی سیاست پر اثر انداز ہو رہے تھے۔ 2007 میں امریکی حکومت کی ایما پر مشرف کی وردی اتروانے میں بائیڈن کا اہم کردار تھا جس نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی میں اپنا کردار ادا کیا ورنہ مشرف حکومت چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب 18 فروری 2008 کو انتخابات ہوئے تو ان میں پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی اور یوسف رضا گیلانی ملک کے وزیر اعظم منتخب ہو گئے۔ خیال رہے کہ انتخابات کے دوران جو بائیڈن نے بطور امریکی مبصر پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ سینیٹر بائیڈن نے 18 فروری 2008 کے پاکستانی الیکشن میں ایک مبصر کی حیثیت سے دو اور سینیٹروں کے ساتھ پاکستان کا دورہ کیا۔ بعد ازاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ان تینوں سینیٹروں نے الیکشن کو منصفانہ اورشفاف قراردیا اور پاکستان کے لیے امریکی امداد کی توسیع کی حمایت کی۔ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے مشرف سے وردی اتروانا اور پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے غیر فوجی امداد حکومت پاکستان کے لیے منظور کروانے کی سفارش کرنا، وہ خدمات ہیں جس پر بائیڈن کو ہلال پاکستان سے نوازا گیا جو نشانِ پاکستان کے بعد پاکستان کا دوسرا اعلیٰ ترین سول اعزاز ہے۔ صدر زرداری نے پاکستان کے لیے جو بائیڈن کی خدمات کا اعتراف کیا تھا اور امریکی سینٹ میں پاکستان کی مسلسل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔ جب صحافیوں نے پوچھا کہ بائیڈن نے ایسا کیا کیا ہے کہ انہیں ہلالِ پاکستان سے نوازا گیا ہے تو 12 جنوری 2009 کو پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے صحافیوں کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو بائیڈن پاکستان کے حمایتی ہیں اور انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی میں بہت موثر کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ میں نومبر 2020 کے حالیہ صدارتی انتخابات میں تگڑے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار سے بیدخل کروانے والے جو بائیڈن کی جیت کے بعد پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ بائیڈن اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ تحریک انصاف حکومت کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو انہوں نے مشرف اور ق لیگ کے ساتھ کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کو یقین ہے کہ عمران خان کو گھر بھجوانے میں جو بائیڈن ان کی بھرپور اخلاقی اور سیاسی مدد کریں گے۔ جو بائیڈن کی جانب سے پیپلز پارٹی کے جواں سال سربراہ بلاول بھٹو کو اپنی تقریب حلف برداری میں دعوت دینے کو ان کی نئی ترجحات سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ سیاسی حلقوں کے خیال میں جو بائیڈن نے یہ دکھایا ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستان کی جمہوری قوتوں کے ساتھ ورکنگ ریلیشن بنانے کے خواہاں ہیں نہ کہ اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ غیر مقبول حکمرانوں کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

English »گوگلیٰ
error: Content is protected !!
Close