میشا شفیع کی اپیل کی منظوری علی ظفر کے لیے ایک بڑا دھچکہ قرار


میشا شفیع کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات پر نچلی عدالتوں سے اپنے حق میں فیصلے لینے والے علی ظفر کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ نے میشا کی ایک درخواست منظور کرتے ہوئے علی ظفر کو نوٹس جاری کر دیا. عدالتی ایکشن کے بعد سے سوشل میڈیا پر ملے جلے تبصرے سامنے آ رہے ہیں لیکن زیادہ تر صارفین اسے میشا شفیع کی جیت سے تعبیر کر رہے ہیں حالانکہ ابھی تک عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں دیا. اس کیس کی وجہ سے ’می ٹو‘ ایک بار پھر سے پاکستان میں ٹوئٹر کے سرِ فہرست ٹرینڈز میں شامل ہو گیا ہے۔ حالانکہ ابھی سپریم کورٹ نے صرف میشا کی اپیل کو منظور کیا ہے لیکن سوشل میڈیا پر علی ظفر کے خلاف دوبارہ ایک مہم چل رہی ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ یہ ہر اس عورت کی جیت ہے جسے ہراساں کیا گیا، جو ہراسانی سے بچ نکلی، جس نے کبھی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو رپورٹ نہیں کیا اور وہ جسے کبھی اس نظام سے انصاف نہیں ملا.
یاد رہے کہ 18 اپریل 2018 کو میشا شفیع نے اپنی ایک ٹویٹ میں گلوکار اور اداکار علی ظفر پر انھیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔ یہ پوسٹ اس وقت کی گئی جب دنیا بھر میں ‘می ٹو’ کی مہم اپنے عروج پر تھی جس کے تحت خواتین خود کو مبینہ طور پر جنسی ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف آواز اٹھا رہی تھیں۔
گذشتہ دو برسوں کے دوران یہ مقدمہ مختلف فورمز پر لڑا گیا۔ گذشتہ برس لاہور ہائی کورٹ نے میشا شفیع کی اس حوالے سے اپیل کو اس بنیاد پر خارج کر دیا تھا کہ میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیان تعلقات کو مالک اور ملازمت تصور نہیں کیا جائے گا اور اسی بنا پر یہ کام کی جگہ ہراسانی کے زمرے میں نہیں آتی۔ اس فیصلے کے خلاف میشا نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور اب سپریم کورٹ یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا گلوکارہ کی جانب سے لگائے گئے ہراسانی کے الزامات کام کی جگہ پر ہراسانی کے قانون کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں کیونکہ میشا سیلف ایمپلائیڈ (یعنی کسی ادارے میں یا کسی کے ماتحت نوکری نہیں کرتیں) ہیں۔ بیشتر خواتین سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ اس مقدمے کا فیصلہ اپنا کام کرنے والی (سیلف ایمپلائیڈ) تمام خواتین اور آئندہ آنے والے مقدمات کے لیے بھی ایک مثال قائم کرے گا کیونکہ پہلی بار اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ معاملہ جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔ اسی حوالے سے ایک خاتون صارف لکھتی ہیں کہ انھیں واقعی خوشی ہوئی ہے کہ عدالت نے اس درخواست کو قابلِ غور سمجھتے ہوئے اسے منظور کیا ہے ’مجھے امید ہے کہ عدالت کام کی جگہ ہراساں کرنے کے ایکٹ کی وسیع پیمانے پر وضاحت کرے گی۔ اور امید ہے کہ حتمی فیصلے میں زیادہ تاخیر نہیں ہو گی۔‘
کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ ابھی اس مقدمے کا فیصلہ نہیں کیا جا رہا بلکہ صرف قانونی نکات کی وضاحت کے لیے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے میشا شفیع کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کی ابتدائی سماعت کی۔ میشا شفیع کے وکیل خواجہ احمد حسن نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے ان کی موکلہ کی درخواست کو یہ کہہ کرمسترد کر دیا تھا کہ ہراسانی کی شکایت صرف متعلقہ ادارے کے ملازمین کر سکتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت عالیہ کا حکم اپنی جگہ لیکن ہراسانی کے قانون کے تحت کسی کے خلاف شکایت کے لیے شکایت کنندہ کو اس کا ملازم ہونا ضروری نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بھی ہراسانی کا قانون لاگو ہوتا ہے۔
اس کے جواب میں علی ظفر کے وکیل نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ، حتی کہ وفاقی محتسب بھی اس حوالے سے میشا شفیع کی درخواستوں کو مسترد کر چکا ہے۔ جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میشا شفیع کی جانب سے اس درخواست میں جو نکات اٹھائے گئے ہیں وہ غور طلب ہیں۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت ابھی اس درخواست کا فیصلہ نہیں کر رہی بلکہ صرف قانونی نکات کی وضاحت کے لیے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ’جنسی ہراسانی کی تعریف‘ پر لیا گیا ازخود نوٹس بھی زیر سماعت ہے۔ سپریم کورٹ نے میشا شفیع کی درخواست کو جنسی ہراسانی کی تعریف کے لیے لیے گئے ازخود نوٹس کے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔ عدالت نے علی ظفر کے وکیل سے بھی تحریری جواب طلب کرتے ہوئے اس درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم رکن ایڈووکیٹ حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ ہراسانی کے بارے میں ملک میں دو قوانین ہیں جن میں ایک ضابطہ فوجداری کے زمرے میں اتا ہے جبکہ دوسرا ہراسانی قانون میں موجود ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ قانون کو سخت کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ عدالتوں کو کام کی جگہوں، ماحول اور واقعاتی شہادتوں کو سامنے رکھ کر ان معاملات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر استاد کسی طالب علم کو ہراساں کرتا ہے تو وہ بھی ہراسانی کے قانون میں آتا ہے۔ حنا جیلانی نے میشا شفیع کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میشا شفیع چونکہ فنکار ہیں اس لیے ان کے لیے ہر وہ جگہ ’کام کرنے کی جگہ‘ ہے جہاں پر وہ پرفارم کرنے جاتی ہیں چاہے وہ کوئی ہال ہو یا کوئی ریہرسل کی جگہ ہو۔ اُنھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ’می ٹو‘ تحریک کے بعد ہراسانی کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا ہے۔ حنا جیلانی کا کہنا تھا کہ جس طرح زنا کے مقدمات میں چار گواہوں کی موجودگی کے خلاف عورتوں نے آواز اٹھائی ہے اسی طرح ہراسانی کے معاملے میں بھی نہ صرف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے بلکہ عدالتوں کو بلخصوص انٹرٹیمنٹ انڈسٹری میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جلد اور میرٹ پر فیصلے دینے چاہییں۔ اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے رابعہ ایوب لکھتی ہیں کہ ’اس مقدمہ سے یہ طے ہو گا کہ آیا ہراسانی کا قانون زیادہ جامع ہو سکتا ہے یا یہ ہمیشہ ’تکنیکی‘ بنیادوں پر خواتین کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے گا۔‘
ایک اور صارف نے کہا کہ ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کس کے ساتھ ہیں، سپریم کورٹ کی کاروائی بہت اہمیت کی حامل ہو گی۔ یہ ہراسانی نہیں بلکہ کام کی جگہ پر ہراسانی ایکٹ سے متعلق ہے۔ بے شک آپ میشا کے خلاف رہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ عدالت اس ایکٹ کا دائرہ وسیع کرے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے اور ابہام دور ہو۔‘ ایک اور خاتون صارف لکھتی ہیں ’قانون میں اس ابہام کو دور کریں، ہماری آدھی سے زیادہ آبادی یعنی خواتین اس سے بہتر کی مستحق ہیں۔‘ خدیجہ خاکوانی اسے ہر اس عورت کی جیت قرار دے رہی ہیں جسے ہراساں کیا گیا، جو ہراسانی سے بچ نکلیں، جنھوں نے کبھی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو رپورٹ نہیں کیا اور وہ جنھیں کبھی اس نظام سے انصاف نہیں ملا اور وہ خود ملازمت پیشہ ہیں۔ ابو علیحہ نامی صارف لکھتے ہیں کہ ’علی ظفر و میشا شفیع کیس میں سچ کیا ہے یہ کوئی نہیں جانتا نہ بتا سکتا ہے۔ دونوں فریقین کا اپنا اپنا ورژن ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ دونوں پارٹیاں اپنی جنگ اب سوشل میڈیا پر بلاگرز کے ذریعے لاکھوں روپے لگا کر لڑ رہی ہیں اور مقصد فقط دوسرے فریق کا میڈیا ٹرائل کر کے اس کو بدنام کرنا ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

گوگلیٰ انگلش»
error: Content is protected !!
Close