پی ٹی ایم کے علی وزیر کو نااہل کروانے کی حکومتی کوششیں تیز تر

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو اسمبلی سے نکال باہر کرنے کی کوششں تیز کر دی ہے۔

یاد رہے کہ ایوان زریں کا کسٹوڈین بننے کی بجائے حکومتی پٹھو کا کردار ادا کرنے والے سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے علی وزیر کی نااہلی کیلئے دائر کردہ ریفرنس الیکشن کمیشن نے ابتدائی طور پر اعتراض لگا کر مسترد کردیا تھا اور علی وزیر پر لگائے گے الزامات کے بارے ثبوت مانگے تھے۔ علی وزیر ریاستی اداروں کے خلاف کراچی میں جلسے کے دوران تقریر کرنے کے الزام میں پچھلے ایک ماہ سے زیر حراست ہیں۔ لیکن یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے کسی رکن اسمبلی کے خلاف صرف ایک ایف آئی آر کی بنیاد پر نااہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا ہو۔
اس حوالے سے ایک وفاقی وزیر نے آف دی ریکارڈ یہ موقف اپنایا کہ وزیراعظم عمران خان کا اس ریفرنس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے ان کے خیر سگالی جذبات سے عوام آگاہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے علی وزیر کے خلاف ریفرنس انہی قوتوں کے کہنے پر دائر کیا ہوگا جن کے خلاف پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت اکثر اپنی تقریروں میں تنقید کرتی ہے۔

دوسری طرف الیکشن کمیشن کو سپیکر کی جانب سے علی وزیر کی خلاف موصول ہونے والے نااہلی کے ریفرنس کے ساتھ ایک ایف آئی آر منسلک کی گئی ہے اور یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسے بطور ممبر قومی اسمبلی ڈی نوٹی فائی کردیا جائے۔ سپیکر نے جواز دیتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ ایف آئی آر کراچی کے علا قے سہراب گوٹھ میں 6 دسمبر کو علی وزیر کے پی ٹی ایم جلسے میں اشتعال انگیز تقریر کے خلاف کاٹی گئی تھی اور رکن اسمبلی کی تقریر کا مواد ملک دشمنی پر مبنی تھا۔ ریفرنس میں ایف آئی آر کے ساتھ علی وزیر کی پاکستان مخالف تقاریر کی آڈیو اور ویڈیو ٹیپس بھی الیکشن کمیشن کو بھجوائی گئی ہیں۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے یہ ریفرنس آرٹیکل 62( G)کے تحت دائر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی شخص مجلس شوریٰ کے رکن کے طور پر نااہل ہو گا اگر وہ نظریہ پاکستان ، ملک کی خود مختاری اور سلامتی، عد لیہ اور مسلح افواج کے خلاف پروپیگنڈے میں ملوث ہو گا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن حکام حیران ہیں کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے انہیں اتنا کمزور ریفرنس کیوں بھجوایا ہے کیوں کہ ہر خاص و عام جانتا ہے کہ کسی بھی رکن اسمبلی کی نااہلی کے لیے آئین نے ریفرنس کو عدالتی سزا سے مشروط قرار دیا ہے۔ آرٹیکل 63( G) کے آغاز میں ہی واضح کیا گیا کہ کسی بھی منتخب رکن کی نااہلی کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی مجاز عدالت کی طرف سے سزا یافتہ ہو، اور یہ کہ محض ایف آئی آر کی بنیاد پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کسی پارلیمنٹرین کو نا اہل قرار نہیں دے سکتا۔

تاہم پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت نے سپیکر کی جانب سے علی وزیر کے خلاف بھیجے گئے ریفرنس کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسد قیصر قومی اسمبلی کے کسٹوڈین کا کردار ادا کرنے کی بجائے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ٹٹو کا رول اپنائے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سپیکر نے یہ ریفرنس غیر آئینی طور پر بھجوایا ہے کیونکہ کسی بھی رُکن کو نااہل قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی مجاز عدالت سے سزا یافتہ ہو اور اس کا تذکرہ آئین کے آرٹیکل 63 کی ذیلی شق جی میں کیا گیا ہے۔ انکا کہنا یے کہ سپیکر اور الیکشن کمیشن کا کام عدالتی فیصلے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد سپیکر /چیئر مین سینٹ کے لیے لازمی قرار دیا گیا کہ وہ 30 دن کے اندر مجرم رکن کے خلاف نا اہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجیں، اگر سپیکر 30 روز میں ریفرنس نہیں بھیجتا تو الیکشن کمیشن ازخودکاروائی کا مجاز ہو گا اور مجرم رکن کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کر کے اسکی نشست کو خالی قرار دے گا۔ تاہم ابھی تک تو علی وزیر کے خلاف کراچی میں ریاست مخالف تقریر کرنے کے الزام پر کسی عدالت سے کوئی سے نہیں ہوئی۔

پشتون تحفظ موممنٹ کے دوسرے ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے علی وزیر کے خلاف اسپیکر قومی اسمبلی کے دائر کردہ ریفرنس کو مذاق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے حربوں کا مقصد علی وزیر پر دباؤ بڑھانے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ داوڑ نے کہا کہ 2005 سے لے کر 2020 تک علی وزیر کے خاندان کے ڈیڑھ درجن افراد کو پراسرار طور پر دہشت گردی اور گھات لگا کر قتل کی وارداتوں میں نشانہ بنایا گیا جن میں ان کے والد اور معروف قبائلی سردار ملک مرزا عالم خان، بھائی انور خان اور چچازاد عارف وزیر بھی شامل ہیں۔ محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ حکومت نے تو ہمیں حال ہی میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے ذریعے مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا اور اب علی وزیر کے خلاف نا اہلی ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف ممتاز قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی نے کہا ہے کہ علی وزیر کے خلاف ریفرنس فوج کے خلاف ان کے بیانات کو بنیاد بنا کر دائر کیا گیا ہے لہذا صاف سمجھ آتی ہے کہ اس کے پیچھے خفیہ والوں کا ہاتھ ہے۔ آفریدی کا کہنا تھا کہ قانون اور آئین کی نظر میں اس ریفرنس کی بنیاد پر علی وزیر کسی بھی صورت نااہل قرار نہیں دیے جا سکتے اس لیے سپیکر قومی اسمبلی کو منہ کی کھانا پڑے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

گوگلیٰ انگلش»
error: Content is protected !!
Close