ریٹائرڈ جرنیل اور جج ملک ریاض کی کامیابی کی کنجی


بحریہ ٹاون کے سادہ مگر ارب پتہ مالک ملک ریاض حسین اعوان اپنے کاروباری مفادات کے تحفط کے لئے سیاستدانوں، میڈیا پرسنز اور بیورکریٹس پر تو پیسہ لگاتے ہی ہیں لیکن ریٹائرڈ جرنیلوں اور ججوں نے ان کی ملازمت کرکے نہ صرف خود مال کمایا ہے بلکہ ملک ریاض کو بھی مالامال ہونے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اور شاید ملک ریاض حسین کی دنیاوی کامیابی کی یہی سب سے بڑی گیدڑ سنگھی ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ملک ریاض ہمارے معاشرے کا آئینہ ہیں۔ وہ سیاست، فوج، میڈیا، بیوروکریسی سے لے کر عدلیہ تک سب کا چہرہ ہمیں بار بار دکھاتے ہیں۔ ملک کا یہ سب سے بڑا تعمیراتی ادارہ گھروں، پلاٹس اور فائلوں کے علاوہ دبئی کی طرز پر رہائش کے خواب بھی بیچتا ہے۔ قومی اخبارات میں گاہے بگاہے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے سے شائع ہونے والے ملازمت کے اشتہارات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بحریہ ٹاون کو ہمیشہ ریٹائرڈ جرنیلوں اور ججوں کی ضرورت بھی رہتی ہے۔ کچھ اشتہارات کے مطابق تو صرف تازہ تازہ ریٹائیرڈ میجر جنرل اور لیفٹیننٹ جنرل حضرات نوکری کے اہل ہوتے ہیں اور کچھ میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے حال ہی میں ریٹائیر ہونے والے جج حضرات۔ لیکن بحریہ ٹاؤن کے ان اشتہارات میں سب سے اہم شرط ایک ہی ہوتی ہے:
جرنیل یا جج تازہ تازہ ریٹائرڈ ہوا ہو۔ یاد رہے کہ ایک مرتبہ جب ملک ریاض کو ایک کیس میں سپریم کورٹ میں پیش ہونا پڑ گیا تھا تو ان کے ساتھ بحریہ ٹاون کے عملے میں اتنے ذیادہ تازہ ریٹائرڈ جرنیل تھے کہ کسی ستم ظریف نے یہ فقرہ اچھال دیا کہ اگر ملک صاحب چاہیں تو اپنا کور کمانڈرز کا اجلاس بلا سکتے ہیں۔

آج کے ارب پتی ملک ریاض کے کیریئر پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ آج کا کامیاب ترین ریئل اسٹیٹ ٹائیکون نوّے کی دہائی میں پی ڈبلیو ڈی کا ایک معمولی ٹھیکیدار ہوا کرتا تھا، ملک ریاض کئی بار اپنے ٹی وی انٹرویوز میں یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ ہر کام کے لیے فائل کو پہیے لگا دیتے ہیں اور اسی لیے ان کا کوئی بھی کام کبھی نہیں رکتا۔ عدالتوں میں ملک ریاض کے خلاف چلنے والے کیسز کے باوجود پاکستانی میڈیا بحریہ ٹاون کے معاملات بارے خاموش رہتا ہے۔ اکا دکا ٹی وی چینلز اور اخبارات سے جو واجبی سے خبریں نشر اور شائع ہوتی ہیں، وہ بہت جلد بحریہ ٹاؤن کے بھاری بھر کم اشتہارات سے جڑے نوٹوں کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں۔ حیرانی کی بات تو یہ بھی ہے کہ نجی ٹی وی چینلز کے لیے کام کرنے والی اینکرز کی فوج میں سے بھی کسی کو تاحال یہ توفیق نہیں ہوئی کے بحریہ ٹاون کے بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے سکینڈل کو بے نقاب کر سکے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس خاموشی کی بنیادی وجہ ملک ریاض کی ریٹائرڈ جرنیلوں، ججوں، سیاست دانوں، بیوروکرییٹس، پولیس اور میڈیا پرسنز کیی قیمت لگانے اور انہیں خرید لینے کی پالیسی ہے۔

ماضی میں پرویز مشرف، نواز شریف اور آصف زرداری سے دوستی کا دعوی رکھنے والے ملک ریاض آج عمران خان کے قریب ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آج ملک ریاض کے ادارے میں کئی نامور جرنیل اور ججز ملازمتیں کرتے ہیں، خفیہ اداروں میں کام کرنے والے ریٹائرڈ افسران کو بھی ترجیحی بنیادوں پر اسی ادارے میں ملازمتیں دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اخبارات اور ٹی وی چینلز کو بھاری بھر کم اشتہارات کے ذریعے خاموش کر دیا گیا ہے اور بے شمار اینکرز کے منہ مرسیڈیز کاروں سمیت قیمتی تحائف کے ذریعے بند کر دیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر بڑے ٹی وی چینل میں ایک یا دو اور کہیں کہیں تو تین تین اینکرز ایسے بھی ہیں، جو ملک ریاض کے احسانات تلے دبے ہوئے ہیں اور اپنے مالک ان کے ساتھ مل کر بحریہ ٹاون کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ویسے چشم فلک یہ نظارہ بھی دیکھ چکی ہے کہ ملک ریاض کے خلاف کیس میڈیا پر اچھلے تو وہ جناح کے نام سے اپنا اخبار نکال لیتے ہیں، اور جب الیکٹرانک میڈیا تنگ کرے تو ملک ریاض آپ جیسا پورا چینل ہی خرید لیتے ہیں۔ آج بھی جب کوئی میڈیا گروپ بحریہ ٹاون کو آنکھیں دکھائے تو ملک صاحب اس کروڑوں روپے کے اشتہارات دینا شروع کر دیتے ہیں۔ ملک صاحب کا فن یہنہے کہ انکو بولی لگانی آتی ہے، چیز چاہے نیلامی کے لیے پیش کی گئی ہو یا نہیں، چیز چاہے خریدنے کے قابل بھی ہو یا نہیں، کوئی خود کو بازار میں برائے فروخت لایا یا نہیں، یا پھر کسی نے خود کو انمول سمجھ کر کوئی قیمت ہی نہ لگائی ہو، ملک ریاض حسین وہ خریدار ہے جو قیمت خود طے کرتا ہے۔ وہ ایک ہی ملاقات، چھوٹی سی بات یا مناجات سے سمجھ جاتا ہے کہ کس شخص کو کتنے میں خریدا جا سکتا ہے اور کس فائل کے نیچے کتنے کروڑ کا پہیہ لگے گا۔

پاکستانیوں میں پلاٹ خریدنے کا پہلے ضرورت بننا، پھر فیشن بننا اور اب لت بننا، ان سب کے پیچھے ملک ریاض کا ہاتھ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جیسے ملک ریاض ایک ہی نگاہ میں بندے کی قیمت کا اندازہ لگا لیتے ہیں ویسے ہی انہوں نے اس قوم کی نبض پہ بھی ہاتھ رکھا ہوا یے۔ دراصل ہمارے متوسط طبقے کو پلاٹ کی شکل میں دنیا کی محفوظ ترین سرمایہ کاری نظر آتی ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانی چاہے برسوں میں ایک بار وطن آئے مگر اپنی کوٹھی ضرور بناتا ہے۔ جہیز میں بھی دیے گئے پلاٹوں کی بڑی دھوم ہوتی ہے، لڑکے بھی ترکے میں ملنے والے رقبوں پر بہت چوڑے ہوتے ہیں۔ ملک صاحب کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے راولپنڈی لوئی بھیر کے اطراف میں واقع جنگلات سے نئے راستے نکال لیے۔ کراچی بنجر زمین پر بھی ملک ریاض نے حسرتوں کا تاج محل کھڑا کر دیا۔ پرانے لاہور والے یونہی اپنی تاریخی عمارتوں پر اتراتے تھے، ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن لاہور بنا کر نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔
یہ سب کرنے کے دوران ملک صاحب پہ دھوکہ دہی، قتل، رشوت، جنگلات پہ قبضے، حکومتی اراضی پر قبضے کے درجنوں مقدمات بنے مگر وہ ماشاء اللہ سے ہر بار سرخرو ہوئے، کہیں مصالحت کے نتیجے میں کہیں سپریم کورٹ کو پیسے دے کر۔ بات ذرا فلمی ہو جائے گی مگر کہنے کی اجازت دیجیئے کہ ابھی تک پاکستان میں کوئی ایسا قانون ہی نہیں بن پایا جو ملک ریاض کو اپنی گرفت لے سکے۔ اسی لیے آج بھی ملک ریاض جہاں کھڑے ہو جائیں، قطار وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

گوگلیٰ انگلش»
error: Content is protected !!
Close