کے پی کے میں پہلی خاتون DPO سونیا شمروز کون ہیں؟


صوبہ خیبر پختونخوا میں تعینات ہونے والی پہلی خاتون ڈی پی او سونیا شمروز کہتی ہیں کہ قدامت پسند معاشرے سے تعلق ہونے کی بنا پر ان کےلیے خود کو منوانا ایک چیلنج تھا مگر یہ سب ان کے والد اور شوہر کی سپورٹ کی بدولت ممکن ہو پایا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لوگ جو کبھی ہمیں طعنے دیے تھے کہ دیکھو ان کے گھر کی لڑکی پولیس میں لگ گئی ہے، وہ اب ناصرف اپنے مسائل لے کر میرے پاس آتے ہیں بلکہ ان میں سے کئی اپنے بیٹیاں لے کر بھی میرے پاس آئے اور ان سے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تم بھی سونیا کی طرح بنو۔

ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی سونیا شمروز نے اپنے شوہر کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ وی خود بھی سی ایس ایس آفسیر ہیں اور ایف بی آر میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ سونیا کے بقول انہوں نے ہی شادی کے بعد سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری میں ان کی مدد کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ انہیں اس مقصد کےلیے کسی اکیڈمی جانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ سونیا بتاتی ہیں کہ سی ایس ایس امتحان کے بعد جب مجھے پولیس فورس کےلیے منتخب کر لیا گیا تو میرے خاوند اور سسرال نے میری ہمت افزائی کی کہ مجھے یہ کام کرنا چاہیئے۔ سونیا اپنے بارے میں بتاتی ہیں کہ ہم چار بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔ ہمارے والد نے ہم بیٹیوں کو بھی اُسی اسکول میں پڑھایا جس اسکول میں ہمارے اکلوتے بھائی کو داخل کروایا گیا تھا۔ انہوں نے کبھی بھی بیٹیوں اور بھائی میں فرق روا نہیں رکھا اور یہی وجہ ہے کہ میرے علاوہ میری دیگر تین بہنیں بھی انتہائی کامیاب پروفیشنل زندگی گزار رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میری بڑی پہن ڈاکٹر ہیں اور برطانیہ میں اعلی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، دوسری بہن ماہر نفسیات جب کہ تیسری بہن نے حال ہی میں مارکیٹنگ میں ایم ایس کیا ہے اور اب وہ ایک بین الاقوامی ادارے میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

سونیا نے بتایا کہ مجھے بچپن ہی سے چیلنج قبول کرنا اچھا لگتا تھا، اور میں نے ہمیشہ ہر کام میں انتھک محنت کی ہے۔ میں نے ایک ایسے معاشرے میں آنکھ کھولی تھی جو بہرحال ایک قدامت پسند معاشرہ تھا۔ جہاں پر بیٹیوں کی جگہ پر بیٹوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مگر میرے خاندان کا معاملہ تھوڑا مختلف تھا۔ میرے والد ایک پڑھے لکھے روشن خیال سیاسی شخصیت ہیں۔ ہمارے بچپن میں وہ سیاست میں فعال تھے، مگر اب اتنے فعال نہیں رہے ہیں۔ میری والدہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں مگر انہوں نے بھی ہم پر بھرپور توجہ دی، بچپن ہی میں وہ ہماری پڑھائی پر اسی طرح توجہ دیتی تھیں جس طرح بھائی کی پڑھائی پر۔ ہمارے والد ایک مصروف انسان تھے مگر اس کے باوجود اسکول سے لے کر کالج اور یونیورسٹی تک وہ ہم سب بہنوں کو خود چھوڑنے جاتے اور خود لاتے تھے اور ہر چیز کی خود نگرانی کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے بچپن ہی سے مجھے سب کہا کرتے تھے کہ میری شخصیت فورسز کےلیے زبردست ہے۔ میں نے فوج کے زیر انتظام اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کی تھی۔ مجھے وہاں وردی اچھی لگا کرتی تھی۔ میں خود بھی بچپن میں وردی پہن کر خوش ہوتی تھی۔

سونیا کہتی ہیں کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب میری منگنی ہوگئی تو میں نے سی ایس ایس کرنے کی تیاری شروع کر دی تھی۔ لیخن پھر بھی ذہن میں نہیں تھا کہ میں پولیس میں جاؤں گئی۔ میں نے پہلا امتحان دیا تو اس میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اسی دوران میری شادی ہوگئی۔ سونیا نے بتایا کہ ان کے شوہر ذیشان علی جانتے تھے کہ میں سی ایس ایس کرنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے سی ایس ایس کا امتحان دوبارہ دینا چاہیے۔ جب دوبارہ امتحان دیا تو میں کامیاب ہوگئی اور مجھے پولیس فورس کےلیے منتخب کر لیا گیا۔ پولیس فورس میں شمولیت پر میرے شوہر اور سسرال کو تو کوئی اعتراض نہیں تھا مگر میں نے دیکھا کہ معاشرے کے اندر بہرحال اس وقت اس شعبے کی قبولیت نہیں تھی۔ مجھے کہا جانے لگا کہ یہ دیکھو خانوں کی لڑکی اب پولیس میں جائے گئی۔ میری والدہ بھی کچھ زیادہ خوش نہیں تھیں۔

سونیا کے مطابق جب میں پولیس فورس کی ضروری تربیت کے بعد پہلی مرتبہ اے ایس پی مانسہرہ تعنیات ہوئی تو اس ضلع مانسہرہ میں اوپر تلے تین اندھے قتل کی وارداتیں ہوگئیں۔ مقامی میڈیا اور مقامی افراد باتیں کرنے لگے ایک مرد پولیس افسر ان وارداتوں کا سراغ نہیں لگا سکتا تو یہ خاتون کیا کر لے گئی۔ وہ کہتے تھے کہ خاتون پولیس افسر کی موجودگی میں حالات مزید خرابی کی جانب جائیں گے۔ یہ میرے کیریئر کی پہلی تعنیاتی تھی، اوپر سے لوگوں اور میڈیا کا رویہ جو مجھے ہر حال میں اس سیٹ کےلیے نااہل ثابت کرنا چاہتے تھے۔ ان حالات میں میں نے فیصلہ کیا کہ ناصرف ان تینوں قتل کی وارداتوں کا سراغ لگاؤں گئی بلکہ مانسہرہ میں امن و امان کی صورت حال کو بھی مثالی بناؤں گی۔ میں نے دن رات اس پر کام شروع کیا اور روایتی پولیس ہتھکنڈوں کے برعکس اپنی تربیت کو برؤئے کار لاتے ہوئے جدید طریقہ تفتیش اور ٹیکنالوجی کا سہارا لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 48 گھنٹے بعد ہی ہم نے پہلے قتل کی، چند دن بعد دوسرے اور پھر تیسرے قتل کا سراغ لگا لیا تھا۔ اس کے بعد لوگوں نے ناصرف مجھ پر توجہ دینا شروع کر دی بلکہ میڈیا کے اندر اس بارے میں کافی کچھ کہا اور لکھا جانے لگا۔ یہاں سے میرے خاندان والوں کو بھی پتا چل گیا کہ میں وہ سب کچھ کر سکتی ہوں جو کہ ایک اچھا اور ایماندار مرد پولیس افسر کر سکتا ہے۔ مجھے میرے افسران نے کہا تھا کہ ہم جانتے تھے کہ آپ کر سکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ڈی پی او چترال تعنیات ہونے سے پہلے میں نے اے ایس پی مانسہرہ، ایڈیشنل ایس پی ایبٹ آباد، پولیس ٹرینگ اسکول مانسہرہ اور دیگر مقامات پر مختلف فرائض انجام دیے تھے۔ جب میں ضلع مانسہرہ میں تعنیات ہوئی تو اس وقت پولیس فورس میں خواتین کی تعداد بہت کم تھی۔ میں فعال پولیسنگ کرتی تھی۔ ساری ساری رات گشت کرنا، چھاپے مارنا، ملزموں کا پیچھا کرنا، تفتیش کرنا، لوگوں سے ملاقاتیں کرنا عرض جو کچھ ایک پولیس افسر سے توقع کی جاتی تھی، وہ ساری فرائض انجام دیتی تھی۔ میری یہ فعالیت دیکھ کر بہت بڑی تعداد میں خواتین نے پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی ہے اور یہ صورت حال صرف ہزارہ ڈویژن ہی کی نہیں بلکہ پورے صوبہ کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مرتبہ تو اس طرح ہوا کہ خواتین کےلیے مختلف پوسٹوں پر تعیناتیوں کی جب آسامیوں کی تشہیر ہوئی تو والدین اپنی لڑکیوں کو لے کر میرے پاس آتے۔ مجھ سے مختلف سوالات کرتے، ان کی بچیاں مجھ سے بات کرتیں اور پھر کئی امتحان میں شریک ہوتیں اور کئی ایسی تھیں جو بعد میں مجھے فورس میں ملیں اور انہوں نے بتایا کہ انہیں فورس میں شمولیت کا حوصلہ مجھے دیکھ کر ملا ہے۔ اسی طرح ہمارے علاقے سے کئی والدین نے اپنی لڑکیوں کو سی ایس ایس امتحان میں شریک کروایا ہے۔ یہ لڑکیاں مجھ سے امتحان کی تیاری میں مدد لیتی رہی ہیں۔ اب ان میں سے کئی مختلف محکموں میں افسر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اللہ نے مجھے تین بیٹیوں سے نوازا ہے۔ میری بڑی بیٹی اب کچھ سمجھدار ہے مگر تقریباً دو سال قبل جب میں کورسز وغیرہ کر رہی تھی تو اس وقت وہ اتنی سمجھدار نہیں تھی۔ جب لوئر چترال میں میرا پہلا دن تھا اور میں نے صبح ان کو ناشتہ وغیرہ کروا کر تیاری کروائی تو اس وقت مجھے میری بڑی بیٹی نے کہا کہ ‘میری مما پولیس افسر ہیں۔ دیکھو یہ وردی میں کتنی پیاری اور اسمارٹ لگ رہی ہیں۔ مجھے ان پر فخر ہے۔’ میں اپنی بیٹی کے یہ الفاظ سن کر چند لمحوں کےلیے تو ششدر رہ گئی اور پھر مجھے خود پر بھی فخر محسوس ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

گوگلیٰ انگلش»
error: Content is protected !!
Close