کوئٹہ میں خون کے عطیات کے مرکز کی بندش پر تھیلیسیمیا کا شکار بچے متاثر

’مجھے ہر مہینے میں خون لگتا ہے، مجھے خون نہیں لگے گا تو یہ میری صحت کے لیے نقصان دہ ہو گا اور میں زندہ نہیں رہ پاؤں گا۔‘ یہ کہنا تھا کوئٹہ پریس کلب کے باہر ایک بچے کا جو ایک خیراتی ادارے کے بلڈ بینک کی بندش کے خلاف مظاہرے میں شریک ہو کر اپنی پریشانی کا اظہار کر رہا تھا۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں قائم فاطمید فاؤنڈیشن کا بلڈ بینک گذشتہ 15 سال سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے تھیلیسمیا میں مبتلا بچوں کو خون فراہم کررہا ہے۔لیکن چند دن قبل اس خیراتی ادارے کو ہی بند کر دیا گیا ہے، جس سے بچوں میں اپنی صحت کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ان بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ انھیں ابھی یہ بھی نہیں معلوم کہ اگر یہ خیراتی ادارہ بند ہو گیا ہے تو اس کے بعد ان کے بچوں کو کون اور کہاں خون کی فراہمی ممکن بنائے گا کیونکہ ابھی وہ اپنے بچوں کو یہاں لے کر آئے ہیں مگر اب گیٹ سے انھیں اندر کوئی جانے نہیں دے رہا ہے۔محمد عثمان اور اس کے چند ساتھی ہی اس ادارے کی بندش سے متاثر نہیں ہوئے ہیں۔
بند کیے جانے والے خیراتی ادارے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تھیلیسیمیا کے ایسے بچوں کی تعداد 700 بنتی ہے، جنھیں ہر مہینے یا دو بار خون لگوانے کی ضرور پیش آتی ہے۔فاطمید فاؤنڈیشن کی انتظامیہ نے مرکز کو بند کرانے کا الزام گردوں کے امراض کے علاج کے ادارے بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف نفرویورولوجی کوئٹہ پر عائد کرتی ہے جبکہ اس انسٹیٹیوٹ کے حکام اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔فاطمید فاؤنڈیشن کے مبینہ طور پر مرکز کی بندش کے خلاف بچوں اور ان کے والدین نے کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔کوئٹہ پریس کلب کے باہر ویسے تو احتجاج ہر وقت ہوتے ہیں لیکن یہ مظاہرہ اس حوالے سے منفرد تھا کہ اس میں تھیلیسمیا میں مبتلا بچوں نے حصہ لیا۔اس مظاہر ے میں شریک ایک بچے کی ماں نے بتایا کہ ‘میرا بچہ تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا ہے۔ میں کینٹ ایریا سے یہاں مہینے میں ایک بار اپنے بچے کو خون لگوانے آتی ہوں۔ اس کے ساتھ بچے کے سارے ٹیسٹ بھی ہوتے ہیں اور اس کے بعد دوائیاں ملتی ہیں۔ مگر اب ایک ہفتے سے ہمارا داخلہ معطل کر دیا گیا ہے۔ان کے مطابق ’اب ہمارے بچوں کے لیے اندر خون خراب ہو سکتا ہے اور آلات بھی خراب ہو سکتے ہیں، اگر ہم یہاں نہیں جائیں گے تو پھر یہ بچوں کی زندگی کا سوال ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس مرکزکو بند نہیں ہونا چاہیے تاکہ تھیلیسمیا کے شکار بچے اور ان کے والدین کسی مشکل سے دوچار نہ ہوں۔مظاہرے کے شرکا نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ بلڈ بینک سے ان کو علاج معالجے کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنائیں۔فاطمید فاؤنڈیشن کا کوئٹہ میں بلڈ بینک سمگلی روڈ پر واقع بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف نفرویورولوجی کے احاطے میں ہے۔کوئٹہ میں فاطمید فاؤنڈیشن نے اس مرکز سے سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ 2006 میں شروع کیا۔حکومت بلوچستان نے اس مقصد کے لیے فاطمید فاؤنڈیشن کو بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف نفرویورولوجی کی عمارت میں جگہ دے دی۔فاطمید فاؤنڈیشن کے ایڈمنسٹریٹر اسد اللہ نے بتایا کہ کوئٹہ مرکز میں تھیلیسمیا کے شکار سات سو بچوں کا تعلق کوئٹہ شہر کے علاوہ صوبے کے دور دراز دیگر علاقوں سے بھی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ان بچوں میں سے بیشتر کو مہینے میں دو مرتبہ خون لگتا تھا جبکہ انھیں دس ہزار روپے کے مفت ادویات بھی فراہم کی جاتی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ چند روز سے مرکز کے عملے، بچوں اور ان کے والدین کو ہسپتال کے اندر داخل نہیں ہونے دیا جارہا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ان کے استفسار پربلوچستان انسٹیٹیوٹ آف نفرویورولوجی کے گیٹ پر بتایا گیا کہ انسٹیٹویٹ کے سربراہ نے فاطمید فاؤنڈیشن کے عملے اور یہاں خون لگانے کے لیے آنے والے بچوں کو داخل ہونے سے روک دیا ہے۔اسد اللہ نے بتایا کہ اس اقدام سے ان سینکڑوں بچوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوگا جو کہ اس مرکز میں خون لگانے کے لیے آتے تھے۔جب اس سلسلے میں بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف میں نفرویورولوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبد الکریم زرکون سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے انسٹیٹیوٹ کی جانب سے فاطمید فاؤنڈیشن کے سینٹر کو بند کرانے کے الزام کو مسترد کیا۔انھوں نے کہا کہ ہسپتال کے عملے نے فاطمید فاؤنڈیشن جانے والے کسی فرد کو نہیں روکا۔ان کا کہنا تھاکہ جب ہم روزانہ بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے انسٹیٹیوٹ میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرتے ہیں تو ہم کیسے کسی مریض بالخصوص بچوں کی علاج معالجے کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ فاطمید فاؤنڈیشن کی انتظامیہ مرکز کو صحیح معنوں میں نہیں چلاسکتی جس کا الزام وہ بلوچستان اس انسٹیٹیوٹ پرعائد کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میڈیا والے جائیں اور خود گیٹ پر پوچھیں کہ ہم نے کس بچے یا ان کے والدین کو بلڈ بینک جانے سے روکا ہے۔کوئٹہ میں فاطمید فاؤنڈیشن سے علاج معالجے کی سہولیات کی معطلی کی وجوہات جو بھی ہوں لیکن اس سے سب سے زیادہ وہ والدین پریشان نظر آتے ہیں جن کے بچوں کو یہاں سے خون لگنے کے علاوہ علاج معالجے کی دیگر سہولیات بھی مسیر رہتی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

گوگلیٰ انگلش»
error: Content is protected !!
Close