امریکی آرٹسٹ جو پاکستانی ورثے پر فخر کرنے کے لیے فن پارے بناتی ہے

’ہم امریکہ میں رہتے ہیں لیکن یہاں کے آرٹ اور عام کلچر میں ہمیں اپنے جیسے چہرے نظر نہیں آتے۔ میری کوشش ہے میرے آرٹ میں میرے جیسے چہرے نظر آئیں اور ہمارے کلچر کے بارے میں سب کو معلوم ہو۔‘
یہ کہنا ہے 28 سالہ حفصہ خان کا جو امریکہ کی ریاست اوہائیو کے شہر کولمبس میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہیں۔
تصوف، ہپ ہاپ موسیقی اور بالی وڈ کی دیوانی حفصہ خان بہت کم عمر میں آرٹ کی دنیا میں اپنا منفرد مقائم بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔وہ امیگریشن کے شعبے میں ملازمت کرنے کے علاوہ ایک آرٹسٹ اور کاروباری خاتون ہیں۔’امیگریشن کے شعبے میں کام کرتے وقت میری ملاقات مختلف نسلوں کے لوگوں سے ہوتی ہے جس سے مجھے اپنے اردگرد کے منظر نامے اور میں کون ہوں، یہ سمجھنے میں بے حد مدد ملی۔‘حصفہ کا کہنا ہے انھیں بچپن سے ’کیلیگرافی‘ یعنی خطاطی کا شوق تھا اور ان کو ہمیشہ لگتا ہے کہ کیلیگرافی ان کی ثفافت کا اہم حصہ ہے۔ اس لیے وہ جب بھی پینٹنگز بناتی ہیں اس میں خطاطی کا استعمال بھی کرتی ہیں۔حفصہ خان کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ جب ایک سال کی تھیں تو اپنے والدین کے ساتھ امریکہ آگئی تھیں۔حفصہ نے انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ فارن ڈپلومیسی میں ڈگری مکمّل کی ہے اور اردو، ہندی، فارسی اور عربی زبانیں سیکھ رکھی ہیں۔حفصہ کا کہنا ہے کہ انھیں بچپن سے ہی آرٹ کا شوق تھا لیکن اس کے لیے انھوں نے کبھی کوئی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی۔ وہ خود کو ایک کیلیگرافر، پینٹر، اور مجسمہ ساز بتاتی ہیں۔
امریکی آرٹسٹ جو پاکستانی ورثے پر فخر کرنے کے لیے فن پارے بناتی ہے’جب میں یونیورسٹی میں انٹرنیشل سٹڈیز کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں تو شوقیہ آرٹ کی ورک شاپ میں حصہ لیتی تھیں لیکن باقاعدہ کوئی کورس نہیں کیا ہے۔‘حفصہ خان کہتی ہیں ’جب آپ میرے فن کے نمونوں پر نظر ڈالیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ ان میں بعض تھیم یا موضوعات ایسے ہیں جو بار بار نظر آئیں گے اور آپ کو لگے گا کہ وہ دہرائے جا رہے ہیں۔ وہ تھیم خواتین، میری ثقافت، اسلام اور تصوف ہیں۔‘’میں نے اپنا بچپن کراچی میں گزارا ہے۔ تو میرا پاکستانی بیک گراؤنڈ میرے آرٹ کے موضوعات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔‘حفصہ خان کہتی ہیں کہ ’جب میں امریکہ میں میوزیم یا آرٹ گیلری جاتی تھی اور وہاں جو پینٹنگز میں دیکھتی تھی ان میں مجھ جیسے لوگ نظر نہیں آتے تھے۔ ان میں ہمارے کلچر کی نمائندگی نہیں ہوتی۔‘’میرے آرٹ کا فوکس یہ ہے کہ میرے جیسے لوگ نظر آئیں اور ان کی نمائندگی ہو۔ اور دنیا دیکھے ہماری خوبصورتی کیسی ہے، ہماری خواتین کیسی لگتی ہیں وہ کیا ملبوسات پہنتی ہیں اور کس انداز میں نظر آتی ہیں۔‘
امریکی آرٹسٹ جو پاکستانی ورثے پر فخر کرنے کے لیے فن پارے بناتی ہےوہ کہتی ہیں ’میرا عقیدہ اور مذہب میرے آرٹ کے موضوعات کا اہم حصہ ہے۔ اس کے علاوہ جو ایک چیز میرے کلچر کا اہم حصہ ہے وہ ہے بالی وڈ اور وہاں کی فلمیں۔’ہم سب بالی وڈ کی فلمیں دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔ ان فلموں کے علاوہ موسیقی، اداکاروں کے ملبوسات اور ان کے زیورات بے حد دلچسپ اور خوبصورت ہوتے ہیں۔ اور یہ ساری چیزیں میری پرورش اور بچپن کی یادوں کا اہم حصہ ہے۔ اور یہ چيز میرے فن کا اہم موضوع بھی ہے۔‘حفصہ خان کہتی ہیں ’بالی وڈ کے پوسٹر والے اپنے پروجیکٹ میں، میں نے ڈیجیٹل میڈیم کے ذریعے ان فلموں کے پوسٹر اپنے تصور کے حساب سے دوبارہ بنائے ہیں جو میرے دل کے بے حد قریب ہیں۔ میں نے ان فلموں کے پوسٹر کی روح سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی ہے، بس ان کو اپنے طریقے سے بنایا ہے۔‘’اس کے لیے میں ایک آئی پیڈ کا استعمال کرتی ہوں۔ پینٹنگز میں واٹر کلر سے بناتی ہیں۔ اس پروجیکٹ کو شروع کرنے سے پہلے میں نے یہ سوچا کہ وہ کون سی فلمیں ہیں جنھیں میں بچپن میں بار بار دیکھتی تھیں اور خوش ہوتی تھیں۔ یہ وہ فلمیں ہیں جو سینما کی دنیا میں اہم مقام رکھتی ہیں۔ صرف میں ہی نہیں بیرونی ممالک میں رہنے والے انڈین اور پاکستانی بالی وڈ سے بے حد ریلیٹ کرتے ہیں۔‘حفصہ کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی پسندیدہ فلموں کی فہرست بنائی۔ ان فلموں کی فہرست بنائی جو میری امی اور ابا دیکھتے تھے اور میرے نانا اور نانی دیکھتے تھے۔ اس فہرست میں کلاسک فلمیں اور نئے دور کی فلمیں شامل تھیں۔‘
امریکی آرٹسٹ جو پاکستانی ورثے پر فخر کرنے کے لیے فن پارے بناتی ہے’میں نے اس پروجیکٹ کے لیے وہ سب فلمیں دوبارہ دیکھیں جو میں نے بچپن میں دیکھی تھیں یا جن کے نغمے سن سن کر بڑی ہوئی ہوں۔ ان فلموں کا میرے کلچر میں کتنا اہم مقام ہے اس کے بارے میں دنیا کو بتانا چاہتی تھی۔‘وہ کہتی ہیں ’شروعات میں بالی وڈ کی اہم فلموں کے بعض مناظر یا کوئی ایک اہم منظر کو پینٹ کرتی تھیں لیکن بعد میں میری نظر بعض کلاسیکل فلموں کے پوسٹرز پر گئی اور میں نے دیکھا کہ وہ اپنے آپ میں ایک فن کا نمونہ تھے۔ جس نے بھی ان پوسٹر کو ڈیزائن کیا تھا، سوچ سمجھ کر بنایا تھا۔ ان میں کیلیگرافی تھی، مختلف رنگوں کا استعمال کیا گیا تھا اور مختلف آرٹ کے نمونے اس میں موجود تھے۔‘’میں ان کلاسیکل پوسٹرز کو دوبارہ بنانا چاہتی تھی تا کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے انڈین اور پاکستانی بچے جنھوں نے وہ پوسٹر نہیں دیکھے ہیں وہ بھی محظوظ ہو سکیں۔‘حفصہ خان کہتی ہیں ’اپنی ماضی کی پینٹگز کی طرح پوسٹر پروجیکٹ کے لیے بھی ایسی فلموں کا انتخاب کیا جس میں خواتین اہم کردار میں تھیں۔ اس میں ان کے ملبوسات، ان کے بالوں کا انداز، ان کے زیورات بہت اہم تھے۔‘’ان فلموں میں مغل اعظم، پاکیزہ، دیوداس، باجی راؤ مستانہ، تال، دل والے دلہنیا لے جائیں گے، کبھی خوشی کبھی غم شامل ہیں۔‘حفصہ خان امریکہ کی آرٹ گلیری میں اپنی پینٹینگز کی نمائش کرتی تھیں اور ساتھ ہی ایسی مصنوعات بھی آن لائن فروخت کرتی ہیں جن پر ان کے ہی فن کے نمونے نقش ہوتے ہیں۔لیکن ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر قدم رکھنا ان کے لیے ایک حیران کن احساس تھا کیونکہ نئی نسل کے عوام نے انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارم پر ان کے ڈیجیٹل آرٹ کی بےحد ستائش کی۔ان کا کہنا ہے کی وہ امریکہ میں رہتی ہیں لیکن اکے لیے ان کی پاکستانی ثقافت، اپنا مذہب اور ہندوستان سے تعلق ان کے آرٹ کا اہم موضوع ہیں۔’لیکن اپنے پورے کیریئر میں ایک بات جو سیکھی ہے وہ یہ ہے کہ ایک فن کے نمونے کو بنانے سے پہلے مجھے اپنے ہی پس منظر, اپنی ثقافت کے میں بارے میں بہت پڑھنا پڑتا ہے۔‘وہ مزید کہتی ہیں ’میں اپنے آپ سے پوچھتی ہوں کی میں جس جگہ کی تصویر کشی کر رہی ہوں وہ جگہ کیا ہے، وہاں کون لوگ رہتے تھے یا میں کوئی فلم پوسٹر بناتی ہوں تو کیوں بنا رہی ہوں، اس کی اہمیت کیا اور تاریخ میں اس کا کیا مقام ہے، اور یہ جو خواتین ہیں وہ اس طرح کے زیورات کیوں پہنتی ہیں اور اسلام کی تاریخ میں یہ واقعہ کیوں ہوا تھا اور جو دعا میں پینٹ کر رہی ہوں وہ اتنی اہم کیوں ہے۔‘حفصہ مزید کہتی ہیں کہ ایک آرٹسٹ کے لیے ضروری ہے کہ اپنے ہر نمونے کو یہ سوچ کر بنائے کے وہ صرف ایک ورک آف آرٹ نہیں پیش کر رہا بلکہ اپنی شخصیت کی ایک جھلک دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے اس لیے آرٹ کو آپ کو نہ صرف دیکھنے میں اچھا لگنا چاہیے بلکہ وہ بہت کچھ سکھاتا بھی ہو۔ان کا کہنا ہے کے وہ کالج کے بعد سے ملازمت کر رہی ہیں اور نو بجے سے پانچ بجے تک دفتر میں کام کرنے کے بعد پینٹنگ بنانے کے لیے بہت کم وقت ملتا تھا ۔
امریکی آرٹسٹ جو پاکستانی ورثے پر فخر کرنے کے لیے فن پارے بناتی ہےلیکن جب انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنے آرٹ کو پیش کیا تو لوگوں نے ان کی نہ صرف تعریف کی بلکہ ’بہت سارے لوگ مجھ سے ملنا چاہتے تھے اور میرے فن پاروں کو خریدنا چاہتے تھے۔ 2018 میں، میں نے اپنا آن لائن بزنس شروع کیا۔ میرا آرٹ ورک بہت سارے کیفے، ریستورانوں اور لاؤنج میں لگا ہوا ہے، خاص طور سے نیو یارک کے ریستورانوں میں۔‘حفصہ خان کہتی ہیں ’میں اپنے فن کے ذریعے اپنی شناخت پر فخر کرنا چاہتی ہوں اور یہ شناخت جنوبی ایشین خاتون کی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ میں، میں یہ دکھانا چاہتی ہوں کہ جنوبی ایشین خواتین خوبصورت ہیں اور ان کی خوبصورتی کی تعریف مختلف طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔ میں یہ دکھانا چاہتی ہوں کہ میرے ملک میں بہت ساری خوبصورت خواتین ہیں اور وہ اپنے علاقائی اور ثقافتی پس منظر کی وجہ سے سب ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہیں۔‘بالی ووڈ کے پوسٹر پروجیکٹ میں بھی، میں نے ان خواتین کو پینٹ کیا ہے جو مرکزی کردار میں تھیں اور جنھوں نے اپنی بے مثال خوبصورتی اور کرداروں کی وجہ سے کئی نسلوں تک اپنا نشان چھوڑا ہے۔‘’میرے نزدیک مغربی معاشرے میں موجود عام انڈین اور پاکستانی خواتین کی خوبصورتی کی تعریف بھی بہت ضروری ہے لیکن کوئی بھی ان کے بارے میں بات کرنا یا ان کو اپنے فن کا حصہ نہیں بنانا چاہتا ہے۔‘حفصہ کا کہنا ہے کہ ہائی سکول میں انھوں نے مٹی سے چیزیں بنانا سیکھی تھیں لیکن گھر میں وہ پانی کے رنگ اور تیل سے پینٹ کرتی تھیں اور وہ بنیادی طور پر پینٹنگز بناتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے 2010 میں آرٹ تخلیق کرنا شروع کیا تھا اور اس کی وجہ اس فن سے اس کی محبت تھی۔لیکن حال ہی میں انھوں نے ڈیجیٹل آرٹ بنانا شروع کیا اور حفصہ کے مطابق ڈیجیٹل آرٹ ایک انتہائی تخلیقی اور تفریحی ذریعہ ہے اور اس سے فن کو مختلف فنون لطیفہ پر تجربہ کرنے کی بے حد آزادی ملتی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’کینوس پر کسی پینٹنگ کے برعکس یہاں آپ کو اپنی پہلی کوشش میں پرفیکشن حاصل کرنے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کینوس پر آپ ہر چیز کو بہت محتاط انداز سے بناتے ہیں اور کسی خاص رنگ کو ڈالنے سے پہلے دو بار سوچتے ہیں۔‘وہ کہتی ہیں ’ڈیجیٹل آرٹ میں آپ اپنی غلطیوں کو مٹا سکتے ہیں اور اس سے آپ کو فن کے مختلف طریقوں کو سیکھنے کے لیے کافی اختیارات ملتے ہیں۔‘حفصہ کہتی ہیں ’فی الحال میں اپنے بالی ووڈ فلمی پوسٹر پروجیکٹ کو بڑھا رہی ہوں۔ مجھے سوشل میڈیا پر ان کے لیے بہت اچھا رسپانس ملا ہے۔ امریکہ اور یہاں تک کہ دوسرے ممالک میں رہنے والوں کو یہ بہت پسند آئے ہیں۔‘حفصہ نے مزید کہا کہ ’اپنے موجودہ پروجیکٹ کو ختم کرنے کے بعد میں ان فلموں کی تلاش کرنا چاہوں گی جو پاکستان کے لوگوں کے لیے اہم ہیں۔ سب سے زیادہ مشہور فلمیں کون سی ہیں اور وہ امریکہ اور پاکستان میں مقیم پاکستانی عوام کے لیے کیوں اہمیت رکھتی ہیں۔ میں کچھ مشہور پاکستانی فلموں اور فلمی ستاروں کو پینٹ کرنا چاہتی ہوں۔ میں ان فلموں پر بھی زیادہ توجہ دینا چاہتی ہوں جو پاکستانی نوجوان دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ میں اس پر اپنا اگلا پراجیکٹ کرنا چاہوں گی۔‘’میرا خواب یہ ہے کہ میں اپنے فن کے ذریعے اپنے پاکستانی ورثے پر فخر کر سکوں اور اپنے کام کو بڑے بین الاقوامی میوزیمز تک پہنچاؤں تاکہ دنیا ہمارے بارے میں جان سکے۔‘حفصہ کے خیال میں انھیں ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے اور اپنے ملک اور اس کے ورثے کے بارے میں بھی بہت کچھ دریافت کرنا ہے۔ وہ زیادہ سفر کرنا چاہتی ہیں اور اپنے پس منظر کے بارے میں مزید تحقیق کرنا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’ایک فنکار ہمیشہ سیکھتا رہتا ہے اور ہر وہ فن پارہ جسے وہ تخلیق کرتی ہیں، ان کا خواب ہے۔ ‘وہ کہتی ہیں ’اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس کے لیے جذبے کی ضرورت ہے۔ بس اپنے خواب کی پیروی کریں اور انھیں حقیقت میں بدلیں۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

English »گوگلیٰ
error: Content is protected !!
Close