سینیٹ کمیٹی میں خواتین کے جائیداد کے حقوق ترمیمی بل 2020 کثرت رائے سے منظور

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے خواتین کے جائیداد کے حقوق سے متعلق انفورسمنٹ آف وویمن پراپرٹی رائٹس ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
سینٹ قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف کا اجلاس چیئرمین محمد جاوید عباسی کمیٹی کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاوس منعقد ہوا جس میں وزارت قانون و انصاف وزارت مذہبی امور کے حکام نے شرکت کی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں بچوں کی حوالگی پر وزارت مہذبی امور کے حکام نے اعتراض اٹھایا جبکہ حکومت مخالف تقاریر اور مشیروں کی کابینہ اجلاسوں میں شرکت سے متعلق بلوں کی وزرات قانون و انصاف کے حکام نے مخالفت کی۔چیرمین کمیٹی محمد جاوید عباسی نے کہا کہ سینئر وکیل سینیٹر فاروق ایچ نائیک کا بل بچوں کی ویلفیئر اور حوالگی سے متعلق ہے۔
حکام وزارت مذہبی امور کا کہنا تھا کہ عدالتیں ‘کیس ٹو کیس’ کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے اس لیے معاملے پر قانون بنانے سے مذہبی مسائل آسکتے ہیں۔سینیٹر بیرسٹر سیف نے کہا کہ عدالت کو شرعی اور فقہ کے اصولوں کو دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے اور عدالتوں کو ان معاملات پر صوابدید کو اختیار ہونا چاہیے۔اجلاس میں حکومت مخالف تقریر سے متعلق سینیٹر رضا ربانی کے بل پر بحث کی گئی۔
چیئرمین کمیٹی جاوید عباسی نے کہا کہ حکومت کے خلاف تقریر پر کیا مقدمات کا اندراج ہونا چاہیے؟ ریاستی اداروں کے خلاف بیان ہو تو الگ بات ہے اس قانون کو ختم کر دیا جائے تو کیا فرق پڑے گا؟ پینل کوڈ تو انگریز کے دور میں بنایا گیا غداری کا کیس مجھ پر یا کمیٹی کے کسی رکن کیخلاف بن جائے تو کیا عزت رہے گی۔رکن کمیٹی بیرسٹر سیف نے کہا کہ اگر قانون کا غلط استعمال ہو تو عدالتیں موجود ہے کیا ہر وہ قانون جس کا غلط استعمال ہو وہ ختم کر دینا چاہیے اب نیب کے قانون پر اعتراض ہوتا ہے کیا اس کو ختم کر دیا جائے۔
جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ90 روز کا ریمانڈ ناانصافی ہے قتل سے بڑا کوئی مقدمہ نہیں جبکہ قتل کے مقدمہ میں 14 دن کا ریمانڈ ہوتا ہے۔بعدازاں بل پر بحث اگلے اجلاس تک بات مؤخر کر دی۔علاوہ ازیںقائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف میں خواتین کا وراثت میں حصہ سے متعلق جاوید عباسی کے بل پر بحث کی گئی۔کمیٹی نے خواتین کیسز سے متعلق محمد جاوید عباسی کا بل منظور کرلیا۔مشیروں کے کابینہ اجلاس میں بیٹھنے سے متعلق سراج الحق کے بل وزارت قانون نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مشیر صرف رائے دیتے ہیں فیصلہ کابینہ ہی کرتی ہے۔سینٹر سراج الحق کے بل پر بحث آئیندہ اجلاس تک مؤخر کر دیاگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

English »گوگلیٰ
error: Content is protected !!
Close