کیا اب عمران حکومت کا خاتمہ ہی پاکستان کے حق میں بہتر ہے؟


عمران خان کی حکومت کے اقتدار میں ڈھائی برس پورے ہونے کے بعد ہمیں پاکستان کا مستقبل روشن نہیں بلکہ تاریک نظر آ رہا ہے۔ نہ صرف عمران خان کے مخالفین بلکہ بزنس مڈل کلاس کی اکثریت بھی یہ سمجھتی ہے کہ وہ معیشت کو سنبھالنے اور گورننس کے محاذ پر مکمل طور پر ناکام رہے ہیں اور اب انکی زیر قیادت معاشی ترقی میں بہتری کا کوئی امکان نہیں لہذا حکومت کا جلد از جلد خاتمہ ہی اِس پاکستان اور مہنگائی کی چکی میں پسنے والے اسکے مایوس عوام کے لئے سب سے بہتر راستہ ہے۔ سینئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ اپنی تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ کسی بھی حکومت کی اقتدار میں آدھی مدت مکمل ہونے کے وقت کارکردگی اور اہلیت کا فیصلہ نہ تو اسکے حمایتیوں نے کرنا ہوتا یے ہے اور نہ اسکے سیاسی مخالفوں نے کیونکہ اعداد و شمار اور حالات خود سچ بتا دیتے ہیں، جو چھپ نہیں سکتا اور بہرحال سامنے آکر رہتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ فرض کر لیں موجودہ حکومت اپنی 5 سالہ مدت مکمل کر لے گی۔ اُس کے خلاف پی ڈی ایم، تیسری طاقت اور تمام در پردہ یا کھلی سازشیں ناکام رہیں گی۔ عمران خان کے راستے میں کوئی بڑی رکاوٹ بھی نہیں آئے گی، اگر واقعی ایسا ہو جاتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ اڑھائی سال بعد ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟ ہمارا اگلے دو تین سال کا معاشی، سیاسی اور سماجی وژن کیا ہے؟ ہماری شرح نمو جو منفی کے قریب ہے، اڑھائی سال بعد کہاں ہو گی؟ کون سی نئی موٹر ویز بنیں گی؟ کون سے بجلی کے نئے کارخانے لگیں گے؟ پاکستان کا نظامِ تعلیم کہاں کھڑا ہوگا؟ پاکستان کی زراعت میں کتنی بہتری آچکی ہوگی؟ کتنے بیروزگار نوکریاں حاصل کر چکے ہوں گے؟ کتنے بےگھر گھر حاصل کر چکے ہوں گے؟ کتنے غریب خطِ غربت سے اوپر آ چکے ہوں گے؟ کتنے مفلس مہنگائی کے عذاب سے بچ سکیں گے؟

سہیل وڑائچ کی رائے میں ان سوالوں کے جتنے بھی مثبت جواب دینے کی کوشش کی جائے، سچ تو یہ ہے کہ اڑھائی سال بعد کی تصویر دھندلی اور غیر واضح ہے اور ہمارا مستقبل روشن نہیں بلکہ تاریک نظر آ رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی حکومت یا لیڈر کے ساتھ امید کا وابستہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح مسلمانوں کے سیاسی اور معاشی مستقبل کی نوید لے کر آئے تو قیامِ پاکستان کے مقصد میں کامیاب ٹھہرے۔ ذوالفقار علی بھٹو روٹی، کپڑا اور مکان کی امید کا نعرہ لے کر آئے اور اِس امید کے ذریعے نہ صرف اقتدار تک پہنچے بلکہ اپنے پانچ سالہ دور میں اُنہوں نے اپنے وژن کو عملی شکل بھی دی۔ اسی طرح عمران خان نئے پاکستان کی امید دلا کر اقتدار میں آئے، ان کا نعرہ تھا کہ وہ کرپشن فری پاکستان بنائیں گے جس میں لوگ باہر سے نوکریاں لینے آئیں گے۔ بیرون ملک پڑی ہوئی اربوں ڈالر کی کالی دولت کو واپس لاکر ملک کو امیر کر دیں گے، قرض اتار دیں گے، بیروز گاروں کو روزگار دیں گے، بےگھروں کو گھر بنا کر دیں گے، اب جبکہ اُن کی حکومت کی آدھی میعاد ختم ہو چکی ہے، دیکھنا یہ ہوگا کہ اڑھائی سال میں اُنہوں نے جو کچھ کیا ہے، اُس سے کتنی امید پیدا ہوئی ہے اور کتنی امیدیں مر گئی ہیں؟

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو عمران خان کی اب تک کی حکومتی کارکردگی دیکھ کر بآسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت نہ ہی اپنے اہداف پورے کر سکے گی اور نہ ہی اپنے وعدے پورے کر سکے گی۔
جن لوگوں کو اِس حکومت سے امیدیں تھیں، وہ اب تیزی سے مایوس ہو رہے ہیں اور جب 5 سال پورے ہوں گے تو وہ اِس حکومت کا دفاع کرنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔ عمران حکومت کے پہلے اڑھائی سال کرپشن کے خلاف زور دار مہم میں صرف ہوئے، بڑے بڑے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو جیلوں میں ڈالا گیا، نہ کسی سے رو رعایت کی گئی اور نہ ہی وزیر اعظم کسی کے رعب میں آئے۔ بظاہر کرپشن کے خلاف یہ مہم سیاسی طور پر کامیاب رہی۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے لئے اس کے حامیوں نے داد کے ڈونگرے برسائے، عمران کو اِس حوالے سے اخلاقی اور سیاسی برتری بھی رہی لیکن اگر مجموعی جائزہ لیا جائے تو اِس مہم سے ملک کو کوئی مالی فائدہ نہ ہوسکا کیونکہ اکثریتی کیسز میں ملزمان یا تو بری ہوگے یا ضمانتوں پر ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے الزام یہ لگایا جا رہا ہے کہ زیادہ تر مقدمات سیاسی مخالفین کے خلاف ذاتی عناد کی بناء پر دائر کیے گئے لہذا نیب انہیں ثابت کرنے میں ناکام رہا اور اب خود ساکھ کے شدید بحران سے دوچار ہوچکا ہے خصوصا سپریم کورٹ کے چند حالیہ فیصلوں کے بعد ان میں قومی احتساب بیورو کو سیاسی انجینیئرنگ کا ایک حکومتی ٹول قرار دیا گیا ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حکومت کا خیال تھا کہ اپنی اس کرپشن مخالف مہم کے ذریعے وہ باہر سے اِس قدر بلیک منی واپس لے آئے گی کہ ملک کے وارے نیارے ہو جائیں گے لیکن تاحال اِس حوالے سے ایک پائی بھی واپس نہیں لائی جا سکی، البتہ کپتان حکومت نے پاکستانی عوام کے ٹیکسوں سے بھرنے والے قومی خزانے سے سیاستدانوں کے غیر ملکی اثاثے ڈھونڈنے والی کمپنی کو بطور جرمانہ سات ارب روپے سے زائد کی ادائیگی ضرور کی ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ نیا پاکستان دراصل پاکستان کی مڈل کلاس کے مستقبل کا وژن تھا جسے عمران خان نے اپنا لیا۔ اس ویژن میں میرٹ، انصاف، پروٹوکول کے بغیر زندگی، اور کرپشن فری پاکستان شامل تھا۔
پڑھی لکھی مڈل کلاس اور کارپوریٹ کلاس کا خواب یہ تھا کہ مراعات یافتہ طبقے نے اُن کی ترقی کے جو راستے مسدود کر رکھے ہیں وہ اب کھلوائے جائیں، لیکن افسوس یہ ہے کہ اڑھائی سال گزرنے کے باوجود مڈل کلاس کی آرزئوں اور آدرشوں کو پورا کرنے کی طرف سفر کا اغاز بھی نہیں کیا جا سکا۔ پاکستانی مڈل کلاس ابھی تک امید لگائے بیٹھی ہے کہ تحریک انصاف انکی امیدوں کے مطابق ایک ایسا پاکستان بنائے گی جس میں سب کو برابری کے مواقع ملیں، سب کو انصاف ملے اور کوئی کسی دوسرے کا استحصال نہ کر سکے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پہلے اڑھائی سال میں مڈل کلاس کے وژن کی کم از کم بنیاد تو ڈالی جاتی اور پھر اگلے اڑھائی سال میں اس خواب کی تکمیل کی جاتی۔ افسوس صد افسوس کہ ابھی تک اس وژن پر ابھی تک کوئی ابتدائی کام بھی شروع نہیں ہو سکا۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حکومت کی ڈھائی سالہ مدت اقتدار کی تکمیل پر سوچنا یہ ہے کہ کیا عمران خان اپنے 5 سال پورے ہونے پر پاکستان کو آج سے اور آگے لے جانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ اگر تو خان صاحب کے دعووں کو سنا جائے تو یوں لگتا ہے پاکستان اڑھائی سال بعد جنتِ ارضی کی مانند ہوگا جہاں نہ کرپشن ہوگی اور نہ بدانتظامی، جہاں لاکھوں مکان بےگھروں کو دیے جا چکے ہوں گے، بیروزگاری اور دیگر معاشی مشکلات ختم ہو چکی ہوں گی۔ لیکن اگر حقائق پر آئیں تو ایسا لگتا ہے کہ پانچ سالہ مدت مکمل ہونے پر بھی پاکستان ویسا ہی ہو گا جیسا آج ہے۔ ہم آگے جانے کی بجائے پیچھے جا رہے ہوں گے یا اُسی جگہ کھڑے ہوں گے۔ اگر بدقسمتی سے ایسا ہوا تو پاکستان کا پانچ سالہ سفر تو رائیگاں جائے گا ہی، مڈل کلاس اور یوتھ کے خواب بھی خاک میں مل جائیں گے اور یوں امید ٹوٹ جائے گی۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ عمران خان اپنی حکومت کی کارکردگی سے قطع نظر اپنے کرپشن مخالف بیانیے کو زبان زد عام کرنے میں پوری طرح کامیاب رہے ہیں، لیکن سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی معیشت کی بربادی میں بھی اسی بیانیے نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف عمران خان کے سیاسی مخالف اور بزنس مڈل کلاس کی اکثریت بالکل مختلف سوچ کی حامل ہے، اُن کے خیال میں عمران خان کے ہوتے ہوئے معاشی ترقی اور بحالی کا کوجی امکان نہیں ہے۔
وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اِس حکومت کا جلد از جلد خاتمہ ہی اِس ملک کے لئے بہتر راستہ ہے۔ آدھی مدت مکمل ہونے کے وقت کارکردگی اور اہلیت کا فیصلہ نہ تو پرستاروں نے کرنا ہے اور نہ سیاسی مخالفوں نے۔
اعداد و شمار اور حالات خود سچ بتا دیتے ہیں، سچ چھپ نہیں سکتا وہ بہرحال سامنے آکر رہتا ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ میری ذاتی رائے بھی یہی ہے اور جمہوری راستہ بھی یہی ہے کہ موجودہ حکومت اپنے مینڈیٹ کے مطابق پانچ سالہ مدت پوری کرے لیکن اس موقع پر پارٹی لیڈر شپ کو یہ جائزہ ضرور لینا چاہیئے کہ آدھی مدت میں انہوں نے اپنے منشور کے مطابق کون سے وعدے پورے کئے ہیں؟ تحریک انصاف کو اپنی آدھی مدت مکمل ہونے کے بعد اپنی سیاسی اور معاشی کارکردگی کا جائزہ لینے کا میکنزم ضرور بنانا چاہئے کیونکہ اس جماعت کی ناکامی صرف عمران خان کی ناکامی نہیں، پوری مڈل کلاس، کارپوریٹ کلاس، اوورسیز پاکستانیوں اور تنخواہ دار طبقے کی ناکامی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

English »گوگلیٰ
error: Content is protected !!
Close