ماضی میں فارن فنڈنگ کے الزام پر ایک پارٹی پر پابندی لگ چکی ہے

اگر وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف پر غیر قانونی ذرائع سے غیر ملکی فنڈنگ لینے کا الزام ثابت ہو جائے تو یہ پاکستان کی دوسری سیاسی جماعت ہوگی جس پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اس سے پہلے نشنل عوامی پارٹی پر غیر قانونی ذرائع سے غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرکے پاکستان کو توڑنے کی سازش میں شریک ہونے کا الزام ثابت ہونے کے بعد پابندی عائد کی گئی تھی۔

تاہم سینئیر تجزیہ نگار سہیل ورائچ کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف پر ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل کرنے کے الزمات ثابت ہو گئے تو اس کے ملکی سیاست پر بُرے اثرات مرتب ہوں۔ انکا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف پر پابندی لگ گئی تو ملک میں افراتفری پھیلنے کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس پچھلے چھ برس سے زیر التوا ہے اور جس سکروٹنی کمیٹی کو پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن نے ایک مہینے کا وقت دیا تھا وہ ڈیڑھ برس گزرنے کے باوجود اپنا کام مکمل نہیں کر پائی۔ چنانچہ بعد اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر اس کیس کا فیصلہ کرنے کے لئے دباؤ بڑھا دیا ہے۔

یاد ریے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں پر مختلف ادوار میں اس طرح کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ اُنھیں دشمن ملک مالی معاونت فراہم کر رہا ہے تا کہ ملک کا نقصان پہنچایا جا سکے۔ لیکن 73 سالی ملکی تاریح میں الیکشن کمیشن نے صرف ایک سیاسی جماعت پر پابندی عائد کی تھی جس پر الزام ثابت ہو گیا تھا کہ اُس نے ممنوعہ ذرائع سے پارٹی چلانے کے لیے فنڈز اکھٹے کیے۔ یہ جماعت نیشنل عوامی پارٹی تھی جو بعد میں عوامی نیشنل پارٹی یا اے این پی بن گئی اور آج کل اس کے سربراہ خان عبدالولی خان کے صاحبزادے اسفندیارولی ہیں۔

نیشنل عوامی پارٹی دراصل ایک پراگریسو جماعت تھی جس کی بنیاد سنہ 1958 میں اس وقت کے مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں عبدالمجید خان باشانی نے رکھی تھی۔ اس جماعت نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں اپنا کردار ادا کیا جس کے بعد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس پر غداری اور انڈیا سے فنڈنگ لینے کے الزامات ثابت ہونے کے بعد پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے بعد سے اب تک کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی عائد نہیں ہوئی۔ تاہم اب اس امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کی تحریک انصاف پر عائد کردہ غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کا فیصلہ مستقبل قریب میں آ سکتا ہے خصوصا اپوزیشن اتحاد کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر دباؤ بڑھائے جانے کے بعد۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اکبر ایس بابر کی درخواست کو لے کر تحریک انصاف کی فارن فنڈنگز کے حوالے سے تحققیات کے لیے مارچ 2018 میں الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل لا کی سربراہی میں ایک تین رکنی سکروٹنی کمیٹی تشکیل دی۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور وزارت خزانہ کا ایک نمائندہ بھی اس سکروٹنی کمیٹی کا حصہ ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اب یہ معاملہ صرف تحریک انصاف تک ہی محدود نہیں بلکہ حکمراں جماعت نے حزب مخالف کی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اثاثوں کی چھان بین کے لیے بھی الیکشن کمیشن کو درخواستیں دے دیں اور اب یہ سکروٹنی کمیٹی ان جماعتوں کو بھی بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں سے ملنے والی امداد کی چھان بین کر رہی ہے۔ تاہم اب تک کی کاروائی سے یوں لگتا ہے جیسے کہ تحریک انصاف والوں نے صرف جوابی کارروائی کے طور پر اپوزیشن کی دونوں جماعتوں کے خلاف فارن فنڈنگ کے الزامات عائد کر دیے تھے کیونکہ بار بار کے مطالبے کے باوجود ابھی تک پی ٹی آئی کی جانب سے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے خلاف کسی قسم کا کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے یہ سکروٹنی کمیٹی اس لیے قائم کی تھی کہ وہ تحریک انصاف کے اکاونٹس میں مبینہ طور پر آنے والی فارن فنڈنگ کی سکروٹنی کر سکے۔ اس سکرونٹی کمیٹی کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا گیا۔ لیکن جب مقرہ مدت میں کام پورا نہ ہوا تو سکروٹنی کمیٹی کو مزید دو ماہ دے دیے گئے۔ یوں کیس کو لٹکانے کے لیے سکروٹنی کمیٹی کو بار بار ٹائم دیا جاتا رہا ہے اور اب اسے تحققیات کرتے ہوئے ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا لیکن ابھی تک کام مکمل نہیں ہوا۔ کیس کے مدعی اکبر ایس بابر کا موقف ہے کمیٹی عمران حکومت کے ایما پر معاملہ لٹکاتی چلی جارہی ہے تاکہ کیس کا فیصلہ نہ ہو پائے۔

اس سکرونٹی کمیٹی نے گذشتہ سال اگست میں جب الیکشن کمیشن کو رپورٹ بھجوائی تو الیکشن کمیشن حکام نے اس رپورٹ کو نامکمل قرار دے کر واپس کر دیا اور اس کے ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ کم از کم ہفتے میں تین دن سکروٹنی کمیٹی کا اجلاس ہو تاکہ اس معاملے کو جلد از جلد نمٹایا جا سکے۔ یہ کمیٹی اگر کسی ایکسپرٹ یا کسی ادارے کی خدمات حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کو ایسا کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ دراصل اسٹیٹ بینک نے سکروٹنی کمیٹی کو تحریک انصاف کے مختلف بینکوں میں موجود 23 اکاؤنٹس کی تفصیل دی ہیں جن کے بارے میں درخواست گزار اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ ان اکاونٹس میں بیرون ممالک سے حاصل ہونے والی رقم آتی رہی ہے۔
الیکشن کمیشن میں سب سے زیادہ اس درخواست پر سماعتیں ہوئیں جبکہ سکرونٹی کمیٹی کے اب تک 75 سے زیادہ اجلاس ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک معاملہ حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا۔

درخواست گزار اکبر ایس بابر نے بھی سکروٹنی کمیٹی کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں اور الزام عائد کیا ہے کہ سکرونٹی کمیٹی اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں تاخیری حرنے استعمال کر رہی ہے اور بظاہر ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ اس کمیٹی میں شامل ارکان پر حکمراں جماعت کا دباؤ ہے۔ ان حالات میں ناقدین کا کہنا ہے کہ جس طریقے سے یہ سکرونٹی کمیٹی کام کر رہی ہے اس سے نہیں لگتا کہ سکروٹنی کمیٹی اپنا کام جلد مکمل کرے گی کیونکہ اصل دستاویزات کے حوالے سے جن ممالک سے مبینہ طور پر ممنوعہ فنڈز حاصل کیے ہیں وہاں کے محکموں کی تصدیق ہونا بھی ضروری ہے۔

طریقہ کار کے مطابق سکرونٹی کمیٹی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اپنی سفارشات الیکشن کمیشن کو بھجوائے گی اور چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں کمیشن کے پانچ ارکان اس معاملے پر فریقین کا مؤقف سنیں گے جس کے لیے بھی ایک وقت درکار ہو گا۔ الیکشن کمیشن اس معاملے پر اپنا فیصلہ سنانے کے بعد ریفرنس وفاقی حکومت کو بھیجے گی۔ تاہم مبصرین سوال۔کرتے ہیں کہ اگر فیصلہ حکمراں جماعت کے خلاف آیا تو پھر وہ کیسے اپنے ہی خلاف ریفرنس بنا کر سپریم کورٹ کو بھیجے گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب فی الحال شاید کسی کے پاس نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

گوگلیٰ انگلش»
error: Content is protected !!
Close