حکومت کی براڈ شیٹ سکینڈل پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش


اپوزیشن قیادت کو اقتدار سے بیدخل کرنے اور نشان عبرت بنانے کے لئے چھوٹے موٹے کیسز کی تحقیقات کے لیے بھی جے آئی ٹیز اور جوڈیشل کمیشن بنا دیئے جاتے ہیں لیکن تحریک انصاف کی نرالی حکومت نے عالمی سطح پر پاکستان کی سبکی کا باعث بننے والے براڈشیٹ سکینڈل کی تحقیقات کے لئے ہومیوپیتھک قسم کی حکومتی کمیٹی بنا کر گونگلوں سے مٹی جھاڑ کر اس پر پردہ ڈالنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ براڈ شیٹ کیس نے نہ صرف قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا بلکہ اس کے کھلنے سے حکومتی اور فوجی شخصیات کی جانب سے کک بیکس کے مطالبوں کے نئے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے اپوزیشن جماعتوں کو دباؤ میں لانے کے لیے برطانوی عدالت کی جانب سے دیا جانے والا براڈ شیٹ کیس کا فیصلہ پبلک کروایا تھا لیکن اب یہ فیصلہ الٹا حکومت کے گلے کی ہڈی بنتا جا رہا ہے چنانچہ اب وزیراعظم عمران خان نے گونگلو سے مٹی جھاڑنے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے جس کی سربراہی وزیر اطلاعات شبلی فراز کو سونپی گئی ہے تاکہ مرضی کا فیصلہ دیا جا سکے۔
اس حکومتی فیصلے سے صاف ظاہر ہے کہ براڈ شیٹ کیس میں لگنے والے الزامات کی جامع تحقیقات اور کسی پر ذمہ داری عائد کرنے کے حوالے سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نیب کی جانب سے براڈ شیٹ کے ساتھ پاکستانی سیاست دانوں کے بیرون ملک خفیہ اثاثے ڈھونڈنے کا معاہدہ اچانک ختم کرنے کی پاداش میں برطانوی عدالت کے حکم پر حکومت پاکستان نے ساڑھے سات ارب روپے کا بھاری جرمانہ براڈ شیٹ کو ادا کیا ہے۔ اب مختلف حکومتی عہدیداروں کی جانب سے اس معاملے پر جو بھی بیانات دیے جا رہے ہیں ان سے اس اہم ترین معاملے پر حکومتی تضادات ہی سامنے آ رہے ہیں۔ 12 جنوری کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد، وزیر برائے اطلاعات شبلی فراز نے کہا تھا کہ براڈشیٹ سکینڈل کی تحقیقات کیلئے بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاہم حکومتی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چھ روز بعد اس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ عمران خان کی تشکیل کی گئی کمیٹی میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری، وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز اور مشیر برائے امور احتساب شہزاد اکبر شامل ہیں۔ یہ کمیٹی 2002ء سے 2018ء تک براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدے کا جائزہ لے گی اور اس بات کا تعین کرے گی کہ کس نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ شبلی فراز کے بقول لندن ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس معاملے کی مزید تحقیقات کرے گی۔ یہ کمیٹی نہ صرف باریک بینی سے اس معاملے کی تحقیقات کرے گی بلکہ یہ بھی بتائے گی کہ ملکی دولت کیسے لوٹی گئی اور کس طرح اس کمپنی سے کسی خود کو نواز شریف کا کزن ظاہر کرتے ہوئے رابطہ کیا جس نے اس معاملے سے خاندان کا نام مٹوا دیا جس کے بعد ہی کمپنی کے سی ای او نے کہا کہ ہم چوروں کیساتھ کام نہیں کرتے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف حکومتی وزرا کے ذریعے براڈ شیٹ جیسے سکینڈل کی تحقیقات کروانے کا اعلان گونگلووں سے مٹی جھاڑنے کے سوا کچھ نہیں۔ واضح رہے کہ سینٹ میں اپوزیشن اراکین اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کامطالبہ کرچکے ہیں۔
خیال رہے کہ براڈشیٹ کے مالک کاوے موساوی نے اپنے مختلف انٹرویوز میں نواز شریف کے مبینہ طور پر سنگاپور کے بینک اکائونٹ میں ایک ارب ڈالرز ہونے کا دعوی کیا اور ساتھ ہی ان کے ایک رشتہ دار کی جانب سے براڈشیٹ کو رشوت کی آفر دینے کا بھی ذکر کیا لیکن بعد میں موساوی نے نہ صرف نیب پر تنقید کی بلکہ یہ بھی بتایا کہ ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے 2019ء میں ان سے رابطہ کرکے کہا کہ اگر براڈشیٹ سے خدمات لی جاتی ہیں تو نواز شریف کے مبینہ ایک ارب ڈالرز کی ریکوری کی صورت میں اس عہدیدار کو بھی کک بیک دی جانی چاہیے۔ موساوی نے دعویٰ کیا کہ اس مطاکبے کے بعد انہوں نے حکومت سے ڈیل کرنے سے انکار کر دیا جبکہ بیریسٹر شہزاد اکبر، جنہوں نے براڈشیٹ کے مالک سے ملاقات کی تھی، کا کہنا تھا کہ براڈشیٹ کی تجویز حکومت کیلئے موزوں نہیں تھی کیونکہ مساوی کے پاس اپنے دعوے کی سپورٹ میں کسی قسم کی کوئی دستاویزات نہیں تھیں لہذا ہم صرف دعوے کی بنیاد پر براڈشیٹ کے ساتھ معاہدہ نہیں کر سکتے تھے۔
موساوی کے نواز شریف یا پھر پی ٹی آئی حکومت کے سینئر عہدیدار کے خلاف الزامات کو دیکھتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ معاملے کی تحقیقات کرائی اعلی سطح ہر کروائی جائیں۔ لیکن حکومت نے اب تک ایسا کچھ نہیں کیا اور وزرا پر مبنی ایک سرکاری کمیٹی بنا کر اس معاملے کو ٹھپ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نیب کے کردار اور اس کے براڈشیٹ کے ساتھ کیے گئے اصل معاہدے اور اس کی تنسیخ کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کی بھی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں لیکن ابھی تک ایسا کچھ نہیں کیا جا رہا۔
دوسری طرف دفتر خارجہ کی 8 جنوری 2021ء کی دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ دفتر خارجہ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کی برطانیہ میں موجود شاخ کیخلاف 29 ملین ڈالرز حکومتِ پاکستان کی اجازت کے بغیر براڈشیٹ کے اکائونٹ میں ڈالنے کے معاملے پر مہنگی قانونی مقدمہ بازی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔وزارت کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں لاکھوں ڈالرز مالیت کے برطانیہ میں لڑے جانے والے اس کیس کے حوالے سے اسے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ نیب ترجمان نے اسی خبر میں کہا تھا کہ براڈشیٹ ایشو کا احتساب بیورو کی موجودہ انتظامیہ اور چیئرمین سے کوئی لینا دینا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ چیئرمین نیب نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے براڈشیٹ سے جڑے معاملات وفاقی حکومت کے روبرو پیش کیے جس کے بعد ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو ادائیگیوں اور بقایا جات کے معاملات، اگر کوئی ہیں تو، طے کرے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کی سوشل میڈیا پر منظر عام پر آنے والی دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ 26 اکتوبر 2020 یعنی لندن ہائیکورٹ کے براڈشیٹ کیس سے ہفتوں قبل، نیب نے ای سی سی سے درخواست کی تھی کہ ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کے نام پر براڈشیٹ کو 433.091 ملین روپے ادا کرنے کی منظوری دی جائے۔ای سی سی نے 4 نومبر 2020 کو نیب کی سمری پر غور کیا اور تجویز کی منظوری دیدی۔
ان شواہد کی روشنی میں واضح نظر آرہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت براڈ شیٹ معاملے میں قوم کو اندھیروں میں ہی رکھنا چاہتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ براد شیٹ کو بلاوجہ ساڑھے سات ارب روپے ہرجانہ ادا کرنے کے بعد حکومت کیونکر بتائے قومی خزانے پر اتنا بڑا ڈاکہ خود انہوں نے ڈالا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

English »گوگلیٰ
error: Content is protected !!
Close