نیب کا براڈ شیٹ کو فرضی ریکوریز پر کمیشن دینے کا سکینڈل


براڈ شیٹ سکینڈل میں یہ نیا انکشاف سامنےآیا ہے کہ کاوے موساوی کی کمپنی کو نیب حکام نے ان ریکوریز کی مد میں بھی ناجائز طور پر کمیشن کی ادائیگی کی جو کبھی ہوئی ہی نہیں اور پھر پاکستان کو برطانوی عدالت کی طرف سے عائد کردہ جرمانے کی رقم پر مارک اپ بھی ادا کرنا پڑا۔
ایک تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ براڈ شیٹ کے ساتھ شراکت کے نتیجے میں نیب کی جانب سے جو 98 فیصد رقم اس کے کھاتے میں دکھائی گئی ہے وہ نیب نے کبھی ریکور کی ہی نہیں اور نہ ہی ایسا کیے جانے کا کوئی امکان بھی نہیں ہے کیونکہ کچھ کیسز میں ملزمان کو بری کیا جاچکا ہے جبکہ دیگر کیسز میں فیصلے ابھی تک سامنے نہیں آئے۔ اصولی طور پر بیرون ملک منتقل کی گئی ناجائز دولت پاکستان واپس آنے پر ہی اس میں سے کمیشن براڈ شیٹ کو ملنا چاہیے تھا لیکن نیب کی غفلت کے باعث محض کیسز کی نشاندہی اور خیالی ریکوریز کی بنیاد پر ہی براڈ شیٹ کو اربوں روپے ادا کر دیئے گئے۔
نیب ریکارڈ کے مطابق براڈ شیٹ کو دیے گئے 20 ملین ڈالرز شریف فیملی سے امکانی ریکوریز کے کھاتے میں دکھائے گئے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور ایڈمرل ریٹائر منصور الحق کے ساتھ جڑے شخص جمیل انصاری کے کیس میں براڈ شیٹ نے نیب کو معلومات فراہم کیں تاہم نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ نیب کی جانب سے معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کئے جانے کے بعد جب براڈشیٹ کمپنی نیب کے خلاف برطانوی عدالت گئی تو جج نے اس کیس میں ممکنہ طور پر ہونے والی رقم کا بیس فیصد بھی نیب کے کھاتے میں ڈال دیا۔ خیال رہے کہ مشرف دور میں سیاسی انجینئرنگ کے بعد آفتاب احمد خان شیرپاؤ کو نیب نے بری کر دیا تھا حالانکہ براڈشیٹ نے شیرپاؤ کے بیرون ملک تین ملین ڈالرز کے اکاؤنٹ کا سراغ لگا لیا تھا۔
جہاں تک سابق وزیراعظم نواز شریف کا تعلق ہے تو وہ براڈشیٹ اور نیب کی تحقیقات کا سب سے بڑا ٹارگٹ تھے۔ اثاثہ ریکوری کمپنی براڈ شیٹ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی شق نمبر 4 کے تحت نیب پابند تھا کہ وہ ریکور کردہ رقم سے کمپنی کو بیس فیصد حصہ ادا کرے چاہے سراغ لگانے میں کمپنی کا کوئی کردار ہو یا نہ ہو۔ علاوہ ازٰن لندن کی عدالت کے جج نے براڈشیٹ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا گیا چونکہ ریکوری پرانی تاریخوں میں ہوئی تھی اور اس کے ساتھ سود کی رقم بھی ادا کی جائے۔ یوں 21.6 ملین ڈالرز کے ساتھ سود کی اضافی رقم بھی ادا کی گئی حالانکہ جو ریکوری نیب نے کی تھی وہ اس رقم کا معمولی حصہ تھی کیونکہ پانچ لاکھ ڈالر تو صرف کمیشن کی مد میں ادا کر دیئے گئے۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ براڈ شیٹ کو جن کیسوں میں 20 فیصد کمیشن دیا گیا تھا وہ شون گروپ، سلطان لاکھانی فوزی قاسمی، اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ زاہد علی اکبر کے تھے۔ سونے پر سہاگا یہ ہے کہ مذکورہ فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ نیب کو بیس فیصد کمیشن کے ساتھ مارک اپ بھی ادا کرنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

گوگلیٰ انگلش»
error: Content is protected !!
Close