کوما میں مبتلا دو مریضوں کو الٹراساؤنڈ سے جگانے میں جزوی کامیابی

طویل کوما میں جانے والے مریض اکثر بہت مشکل سے ہوش کی جانب آتے ہیں۔ تاہم اب خاص الٹراساؤنڈ کی بدولت دو مریضوں کے دماغی حصوں کو سرگرم کرکے انہیں جگانے میں جزوی کامیابی ملی ہے۔
یہ دونوں مریض شدید بے شعوری اور بے ہوشی کی حالت میں تھے جسے طب کی زبان میں ’کم ترین شعوری کیفیت‘ یعنی ایم سی ایس کہا جاتا ہے۔ سائنسدانوں نے دماغ کے ایک حصے تھیلیمس پر الٹراساؤنڈ کے جھماکے ڈالے گئے۔ تھیلیمس وہ جگہ ہے جو پورے دماغ کے افعال کو پروسیس کرتا ہے اور کوما کے بعد یہ بہت کمزور ہوجاتا ہے۔ اس ضمن میں ایم سی ایس کے تین مریضوں کو ہفتے میں ایک مرتبہ دس دس منٹ تک الٹراساؤنڈ کی بوچھاڑ سے گزارا گیا۔ ان میں سے ایک مریض پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ ایم سی ایس میں مبتلا مریضوں میں شعور کے غیر متسلسل لیکن واضح آثار ہوتے ہیں۔ وہ حکم دینے پر آنکھوں کے پپوٹے ہلاسکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ گہرے کوما سے قدرتے مختلف کیفیت میں ہوتے ہیں۔ تجربے میں 14 ماہ سے ایم سی ایس میں مبتلا ایک 56 سالہ شخص پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوئے۔ جب اسے عزیزوں کے نام سنائے گئے تو وہ تصویر میں ان کی جانب آنکھوں سے اشارہ کرنے لگا، اس نے ہاتھ میں رکھی گیند کو حکم ملنے پر نیچے گرایا اور اپنی شناخت پر ہاں یا ناں میں سر ہلانے لگا۔ دوسری 50 سالہ خاتون قدرے گہرے ایم سی ایس میں تھی۔ ڈھائی سال تک اس کیفیت میں مبتلا ہونے کے بعد جب انہیں الٹرا ساؤنڈ سے گزارا گیا تو وہ بات چیت سننے لگی اور کنگھا اور پنسل کے درمیان فرق محسوس کرنے لگی۔ سائنسدانوں نے اس کاوش کو بہت پرامید قرار دیتے ہوئے اسے انتہائی مفید کہا ہے۔ تاہم اس پر مزید تحقیق جاری ہے یہ تحقیقی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: