بختاور بھٹو کی مہندی کے دوپٹے پر کیا لکھا ہوا تھا؟

بختاور بھٹو زرداری اور صنعت کار محمود چوہدری 29 جنوری کو شادی کے بندھن میں بندھے تھے اور ان کی شادی کی مختلف تقریبات کی تصاویر انٹرنیٹ پر گردش کررہی ہیں۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی بڑی صاحبزادی کی شادی جہاں بھٹو و زرداری خاندان میں ایک عرصے بعد خوشی کا وقت تھی وہیں یہ حالیہ دنوں میں پاکستان میں ہونے والے سب سے زیادہ ہائی پروفائل شادی بھی تھی۔
اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں بھی کی جارہی تھیں کہ بختاور بھٹو اپنی مہندی اور شادی کی تقریبات میں کس طرح کا لباس زیب تن کریں گی۔ نکاح کے موقع پر بختاور بھٹو نے فیشن ڈیزائنر وردہ سلیم کا تیار کردہ لباس پہنا تھا، جو گولڈن اور پنک رنگوں کے امتزاج سے تیار کیا گیا تھا۔اور گزشتہ روز ان کے شوہر محمود چوہدری نے انسٹاگرام پر بختاور بھٹو کے ساتھ مہندی کی تصویر شیئر کی تھی۔انہوں نے پوسٹ کے کیپشن میں بتایا تھا کہ یہ تصویر مہندی کی تقریب کی ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ بختاور بھٹو کا مہندی کا لباس ڈیزائنر زارا شاہجہاں نے تیار کیا تھا۔خیال رہے کہ بختاور بھٹو کی رسم حنا کی مرکزی تقریب 27 جنوری کو ہوئی تھی اور اجرک کے ڈیزائن کی ان کی مہندی کو بہت زیادہ پسند کیا گیا تھااب ڈیزائنر زارا شاہجہاں نے انسٹاگرام پوسٹ میں بختاور بھٹو کے مہندی کے لباس کی تفصیلات سے متعلق ایک پوسٹ جاری کی۔
ڈیزائنر زارا شاہجہاں نے انسٹاگرام پوسٹ میں بختاور بھٹو کے مہندی کے دوپٹے کی تصویر شیئر کی جس پر ایک اردو نظم ‘وہ لڑکی لال قلندر تھی’ کے اشعار سے کڑھائی ہوئی تھی۔یہ نظم ان کی والدہ، سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے لیے پڑھی جاتی ہے۔تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ بختاور بھٹو نے اپنی منگنی کی طرح شادی کے لباس کو منفرد بنانے کے لیے کچھ تفصیلات شامل کروائیں۔
بختاور بھٹو کے رسم حنا کے جوڑے کے دوپٹے کو اگر آپ غور سے دیکھیں تو اس پر کچھ خاص اشعار لکھے تھے جو یہ ہیں!
وہ دریا دیس سمندر تھی
جو تیرے میرے اندر تھی
وہ سوندھی مٹی سندھڑی کی
وہ لڑکی لال قلندر تھی
بختاور بھٹو کے دوپٹے پر لکھے جانے والے ان اشعار کو پڑھنے کے بعد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ اشعار خاص اپنی والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لیے لکھوائے ہیں۔
اس حوالے سے زارا شاہجہاں نے بتایا کہ میں نے جتنی بھی دلہنوں کے ساتھ ان میں بختاور بہت متحمل مزاج تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ‘مجھے محسوس ہوا کہ وہ اپنی والدہ سے بہت زیادہ قریب تھیں اور چاہتی تھیں کہ والدہ ان کی شادی کا حصہ ہوں، بختاور بھٹو نے خاص طور پر دوپٹے پر کڑھائی کا کہا تھا’۔ڈیزائنر زارا شاہجہاں نے بتایا کہ انہوں نے پہلی مرتبہ بختاور بھٹو کے ساتھ کام کیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ بختاور بھٹو کی ٹیم نے مجھ سے رابطہ کیا تھا اور انہوں نے میرے حالیہ برائیڈل شوٹ، غزل کا حوالہ دیا تھا۔زارا شاہجہاں کے مطابق بختاور بھٹو کو وہ لباس پسند آیا تھا جو ماڈل ایمان سلیمان نے پہنا تھا۔انہوں نے کہا اس ڈریس کا حوالہ لیتے ہوئے ، میں نے بختاور بھٹو کی خواہش کے مطابق ان کی مہندی کا لباس تیار کیا۔زارا شاہجہاں نے بتایا کہ وہ چاہتی تھیں کہ مہندی کا لباس رنگ برنگا ہو اور درحقیقت ان کی تقریب کی تھیم بھی اسی کلر اسکیم جیسی تھی جیسا انہوں نے لباس پہنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ‘لہنگے پر روایتی چٹا-پٹی تھی، میں اسے خوبصورت بنانے کے لیے سندھی کڑھائی اور شیشوں کا استعمال کیا’۔زارا شاہجہاں کے مطابق دوپٹہ اور لہنگا بھاری تھے جبکہ قمیض پر کم کام ہوا تھا۔انہوں نے بتایا تھا کہ ‘بختاور بھٹو کے لباس پر پھول بنائے گئے تھے اور پر پھول میں بختاور اور محمود چوہدری کے ناموں کی کڑھائی کی گئی تھی’۔ڈیزائنر کے مطابق یہ نقش و نگاری بہت ہی باریک تھی اور اسی وجہ سے تصاویر میں واضح نہیں تھی۔ڈیزائننگ کے دوران بختاور بھٹو اور زارا شاہجہاں نے ملاقات نہیں کی بلکہ رابطے کے لیے زوم ایپ پر انحصار کیا۔زارا شاہجہاں نے بتایا کہ انہوں نے خود سے اس لباس کے ساتھ ایک پاؤچ بھی بنایا ہے اور جب اسے کھولا جائے تو اس پر بینظیر بھٹو کا پورٹریٹ بنا ہوا ہے۔ڈیزائنر کے مطابق بختاور بھٹو کا لباس تیار کرنا ان کے لیے اعزاز تھا جو انہیں بہت پسند بھی آیا تھا۔
خیال رہے کہ نومبر 2020 میں منگنی کے موقع پر بختاور بھٹو کے لباس میں سب سے زیادہ ان کی شال نمایاں تھی اور اسے بہت زیادہ پسند بھی کیا گیا تھا۔انہوں نے منگنی کے لیے ایک منفرد انداز اپنایا جس میں ان کی شال سب سے زیادہ پسند کی گئی جس پر مختلف تصاویر سے نقش و نگاری کی گئی تھی جسے ڈیزائنز ندا ارویز نے تیار کیا تھا۔ڈیزائنر نے کہا تھا کہ بختاور بھٹو خاص طور پر چاہتی تھیں کہ ان کی والدہ کا انداز ان کے خاص دن کا حصہ بنے، جس کے لیے ہم ساتھ بیٹھے اور فیصلہ کیا وہ کس طرح کی شال چاہتی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: