کورونا وائرس: پاکستان میں ویکسین کےلیے سخت سکیورٹی انتظامات کی وجہ کیا ہے؟

حکومت پاکستان نے انٹرپول کی جانب سے ویکسین کو درپیش ممکنہ خطرات سے متعلق جاری وارننگ کے پیش نظر کورونا ویکسین کے پاکستان پہنچنے کے بعد سے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں جن میں کوئیک رسپانس فورس کے طور پر پولیس، ایف سی، رینجرز یا فوج پر مبنی دستے ویکسین کی حفاظت اور ترسیل پر معمور کیے ہیں۔ تا کہ ویکسین کو چوری ہونے اور دہشت گردانہ حملے سے محفوظ رکھا جاسکے۔
کورونا کی ویکسین لگانے کا عمل دنیا کے متعدد ممالک میں شروع ہوچکا ہے لیکن جب یہ عمل پاکستان میں شروع ہوا تو ویکسین کب آئے گی، اسے کہاں اور کیسے رکھا جائے گا اور اسے کب اور کہاں لگایا جائے گا اس سے متعلق حکام غیر معمولی رازداری کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیے۔
اور اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس رازداری کی وجہ ویکسین کو لاحق سکیورٹی خطرات ہیں۔ حکومت کی جانب سے ویکسین کی منتقلی اور محفوظ کرنے کے دوران سکیورٹی کا خاص پلان مرتب کیا گیا ہے۔ پنجاب کے محکمہ پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے جاری کردہ پلان کے مطابق ویکسین کے چوری ہونے، اس کی منتقلی کے دوران دہشت گرد حملے اور اسے جعلی ویکسین سے تبدیل کرنے کا خطرہ موجود ہے، جس کے بعد ویکسین کو سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔
این سی او سی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق ویکسین کی محفوظ منتقلی کو یقینی بنانے کےلیے ہر گاڑی کے ساتھ پولیس، ایف سی، رینجرز یا فوج کی ایک گاڑی ہونا لازمی ہے جب کہ اس کی منتقلی کا وقت، تاریخ اور گاڑی سے متعلق معلومات کو صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ جب کہ اس کی منتقلی کے دوران یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ ویکسین لے جانے والی گاڑی رستے میں کہیں نہ رکے۔
اس کے علاوہ جب یہ ویکسین کولڈ اسٹوریج منتقل کر دی جائے گی تو سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے اس کی خاص نگرانی کی جائے گی اور کسی ایمرجنسی کی صورت حال سے نمٹنے کےلیے کوئیک رسپانس فورس کے طور پر پولیس، ایف سی، رینجرز یا فوج پر مبنی دستے کو تیار رکھا جائے گا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق سکیورٹی کے یہ تمام انتظامات فرانس کے بین الاقوامی سکیورٹی کے ادارے انٹرپول کی جانب سے ویکسین کو درپیش ممکنہ خطرات سے متعلق جاری وارننگ کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے بتایا کہ ویکسین پر کسی شدت پسند حملے سے متعلق تو کوئی معلومات نہیں ہیں لیکن یہ تمام اقدامات ہر قسم کے سکیورٹی خطرات کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد کے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر یعنی این سی او سی میں ہیلتھ ورکرز کو کورونا ویکسین لگانے کی تقریب منعقد کی گئی جس میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز کے تین فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو کورونا سے بچاؤ کےلیے چینی ویکسین سائنو فارم لگائی گئی۔ ویکسین لگوانے والی پمز اسپتال کی نرس رضوانہ یاسمین کا کہنا تھا کہ وہ ویکسین لگوانے کے بعد بالکل مطمئن ہیں اور کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں آنے سے پہلے میرے بہت سے رشتے داروں نے کہا کہ ابھی یہ ویکسین مت لگوائیں کہیں اس کے کوئی منفی اثرات نہ ہوں۔ لیکن کیوں کہ میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکر ہوں اور کورونا کے مریضوں کے علاج میں پیش پیش ہوتی ہوں اس لیے بہت ضروری تھا کہ میں خود کو محفوظ بناؤں۔ رضوانہ یاسمین کا کہنا تھا کہ ان کے بہت سے ساتھی بھی ویکسین لگانے سے متعلق ہچکچاہٹ کا شکار ہیں لیکن اب میں جا کر انہیں بتاؤں گی کہ یہ ویکسین بالکل محفوظ ہے تاکہ وہ بھی یہ ویکسین لگوائیں۔
وفاقی وزیر اسد عمر نے بتایا کہ پاکستان نے انڈیا سے ویکسین درآمد کرنے سے متعلق نہ تو کوئی بات چیت کی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اس وقت چین کی دو کمپنیوں جس میں سائنو فارم اور کین سائینو بائیولوجک شامل ہیں سے ویکسین خریدنے کےلیے مذاکرات کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت کے کوویکس پروگرام کے تحت بھی اسے آکسفورڈ کی ایسٹرا زینیکا کی ایک کروڑ ستر لاکھ خوراکیں ملنے کی توقع ہے۔ تاہم پاکستان نے انڈیا سے ویکسین درآمد کرنے سے متعلق نہ تو کوئی بات چیت کی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: