چغتائی لیب ایک ہفتے میں اسپٹنک فائیو ویکیسن کی فروخت کیلئے پرامید

چغتائی لیب کو جلد روس کی تیار کردہ کووڈ-19 ویکسین اسپٹنک فائیو کمرشل بنیاد پر فروخت کے لیے مل جائے گی، جس کے بعد پاکستان نجی سطح پر ویکسین کی دستیابی والے ابتدائی ممالک میں شامل ہوگا۔
خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے ویکسین کی شفافیت اور مہنگی ہونے کے خدشات کے باوجود رواں ہفتے کمرشل بنیاد پر درآمد کرنے کی اور قیمت کی شرائط سے استثنیٰ کے ساتھ فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر چغتائی لیب کے ڈائریکٹر عمر چغتائی نے کہا کہ ‘ہمیں بتایا گیا ہے کہ پہلی کھیپ اگلے ایک ہفتے میں ملنے کی امید ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ اس کھیپ میں کئی خوراکیں شامل ہیں، اسپٹنک فائیو ویکسین 91.6 فیصد مؤثر ہے اور پاکستان میں پہلے ہی استعال کی اجازت دی جاچکی ہے۔
دوسری جانب 22 کروڑ آبادی کے حامل ملک پاکستان میں قیمت کی سرکاری شرط کو لاگو کیے گئے بغیر نجی سطح پر ویکسین کی فروخت کی اجازت دینے پر حکومت کو تنقید کا بھی سامنا ہے۔وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے حکومت کے اقدامات کی تعریف کی لیکن کہا کہ اس فیصلے میں معاشرے میں عدام مساوات مزید گہرا کی بنیاد مضبوط ہوگی اور ایک ایسے وقت میں جب وسیع پیمانے پر کوریج کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ حکومت نے رواں ماہ کے اوائل میں ملک بھر میں ویکسین لگانے کے عمل کا آغاز کیا تھا اور چین نے 5 لاکھ خوراکیں عطیہ کی تھیں لیکن حکومت کی جانب سے ویکیسین کی خریداری کے لیے تاحال کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا۔
پاکستان میں ہنگامی بنیاد پر جن ویکیسنز کے استعمال کی اجازت دی ہے ان میں چین کی سینوفارما، کینسینو بائیو اور ایسٹرا زینیکا کے ساتھ ساتھ روسی ویکسین اسپٹنک فائیو بھی شامل ہے۔چغتائی لیب کا کہنا ہے کہ اسپٹنک فائیو کے ساتھ ساتھ دیگر ویکسین درآمد کرنے کا منصوبہ ہے لیکن اسپٹنک فائیو کی دستیابی پہلے ہوگی۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ‘وہ براہ راست معاہدے سے لاعلم ہیں’۔رپورٹ کے مطابق چغتائی لیب نے ویکسین کی درآمدی قیمت یا لاگت کے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیا لیکن کہا کہ عالمی سطح پر اسپٹنک فائیو کی جو قیمت ہے ‘اس کے مقابلے میں زیادہ ہوگی’۔اسپٹنک فائیو تیار کرنے والی کمپنی کا کہنا تھا کہ ویکسین کی دو خوراکیں ہوں گی اور فی خوراک قیمت 10 ڈالر ہوگی۔
چغتائی لیب نے کہا کہ ‘عالمی سطح پر طلب بہت زیادہ ہے اور اگر آج قیمت زیادہ ہوئی تو ہمیں حیران نہیں ہوگی، اگلے تین سے چار ماہ میں جب زیادہ ویکسین دستیاب ہوگی تو قیمتیں کم ہوں گی’۔بیان میں کہا گیا کہ ‘دنیا میں اس وقت سب سے بڑا چیلنج خاص ممالک کے لیے ویکسین کے تعین کے حوالے سے ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک سے کئی لوگوں کی ویکسین کو قانونی راستوں کے علاوہ دیگر ذرائع سے فراہم کرنے کی پیش کش کو ٹھکرا دیا گیا جن کے پاس اضافی ویکسین موجود ہے۔
چغتائی لیب پاکستان میں علی گوہر فارماسیوٹیکل اور دنیا میں ویکسین کی مارکیٹنگ کے ذمہ ادارے روسی ڈائریکٹ انوسٹمنٹ فنڈ کے ذریعے درآمد کر رہی ہے۔لیب کا کہنا تھا کہ سرکاری سطح پر باقاعدہ طور پر اگلے دو ہفتوں کے دوران اعلامیہ جاری کیا جائے گا، جس میں نجی شعبے کے لیے قواعد بھی واضح کیے جائیں گے۔ لاہور میں قائم نجی لیبارٹری کو اگلے چار یا پانچ دنوں میں ویکسین کی پہلی کھیپ ملنے کی توقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: