پارٹی کرنے والی ویڈیو کس لڑکی نے بنائی؟

اپنے بارے میں یا اپنی پسندیدہ اشیا اور سرگرمیوں کے بارے میں دوسروں کو بتانا کوئی انوکھی عادت نہیں ہے۔ لیکن بعض اوقات بتانے کا یہ عمل یا اس کا انداز اپنی دلچسپی کی وجہ سے اتنا عام ہو جاتا ہے کہ دوسرے بھی اسے فالو کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ ہوا جنہیں ایک ویڈیو کلپ عام لوگوں کو اتنا پسند آیا کہ انہوں نے اس سے ملتے جلتے میمز کے ڈھیر لگا دیے گئے۔ یہ ویڈیو کلپ ایک لڑکی نے ’یہ ہماری کار ہے، یہ ہم ہیں اور یہ ہماری پاوری ہو رہی ہے‘ کہہ کر بنایا تھا جس نے وائرل ہو کر میمز کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع کر دیا۔
دراصل 6 فروری کو یوٹیوبر اور ویلاگر لڑکی کی محض 5 سیکنڈ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ اردو کا ایک فقرہ سٹائلش بوگر انگریزی لہجے میں بولتی ہوئی دکھائی دیں۔ اسکے بعد محض ایک ہفتے میں اس ویڈیو پر نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت سمیت دیگر ممالک میں بھی ہزاروں مزاحیہ ویڈیوز اور میمز بنا دی گئیں۔ اس پانچ سیکنڈ کی ویڈیو میں ایک نوجوان لڑکی نے اپنے ہاتھ میں کیمرہ پکڑ رکھا ہے جو پہلے اپنے پیچھے کھڑی ایک گاڑی دکھاتی ہے، پھر اپنے چند دوست دکھاتی ہے اور ساتھ ساتھ ہی کہتی ہیں: ’یہ ہماری کار ہے، یہ ہم ہیں اور یہ ہماری پارری (یعنی پارٹی) ہو رہی ہے‘۔ اپنے دوستوں کے ساتھ بنائی گئی یہ عام سی ویڈیو بنانے والی لڑکی دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر اتنی وائرل ہو گئیں کہ ناصرف انٹرنیٹ پر ہر دوسرے شخص نے اس کے میمز بنا ڈالے بلکہ یہ سرحد پار انڈیا بھی جا پہنچیں جہاں ایک بھارتی گلوکار نے ان کی ویڈیو کو استعمال کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں ایک ’میش اپ‘ گانا بھی بنا لیا ہے۔ ویلاگر کی جانب سے انگریزی لہجے میں اردو بولنے کی وجہ سے ویڈیو کو بہت پسند کیا گیا اور اس پر شوبز شخصیات سے لے کر سیاستدانوں، نوجوان طلبہ، عام افراد اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے والے افراد نے بھی ویڈیوز بنائیں۔
‘پاوری’ ویڈیو مقبول ہونے کے بعد ویلاگر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپنی ویڈیو کے ریپ ورژن کی ایک اعر نئی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے۔ انہوں نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا تھا کہ ‘پاوری تو اب شروع ہوگی، آپ اندازہ لگائیں کہ کیا جلد آرہا ہے؟’
راتوں رات ’میم‘ بن جانے والی یہ لڑکی دراصل 19 سالہ دنانیر مبین ہیں۔ دنانیر کے گھر والے انھیں پیار سے ’جینا‘کہہ کر بلاتے ہیں۔ دنانیر کا تعلق پشاور سے ہے اور وہ خود کو ایک ’کونٹینٹ کریئٹر‘ کہتی ہیں جو اپنے بلاگز پر زندگی کے بارے میں شئیر کرنے کے علاوہ میک اپ فیشن اور لائف سٹائل سے لے کر ذہنی صحت کے مسائل سے متعلق ہر چیز پر بات کرتی ہیں۔ دنانیر کو اپنے خاندان والوں کے ساتھ وقت بِتانے کے علاوہ پینٹنگ اور وقتاً فوقتاً گلوکاری کرنا پسند ہے اور کتوں سے بہت پیار ہے۔ دنانیر کی انسٹا گرام پر شائع ہونے والی اس ویڈیو کو اب تک 20 لاکھ سے افراد دیکھ چکے ہیں اور وائرل ہونے کے بعد انسٹاگرام پر ان کے فالووز کی تعداد بڑھ کر تین لاکھ 37 ہزار ہو چکی ہے۔
دنانیر کا کہنا تھا کہ یہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ نہیں تھا۔ دنانیر بتاتی ہیں کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ نتھیا گلی گھومنے گئی ہوئی تھیں اور جب کھانا کھانے کے لیے رکیں اس وقت بس اچانک ہی اپنا موبائل فون نکال ک ویڈیو بنالی اور اپ لوڈ کر دی۔
جب ان سے ہوچھا گیا کہ کیا وہ عام طور پر بھی اسی انداز میں بات کرتی ہیں؟ تو دنانیر نے کہا کہ اس طرح برگر سٹائل میں بات کرنا میرا انداز نہیں ہے، میں ایسے بات نہیں کرتی اور صرف ویڈیو بنانے کے لیے یہ مزاحیہ انداز اختیار کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں ’مجھے ’پارٹی‘ کہنا آتا ہے اور مجھے پتا ہے کہ یہ ’پارری‘ نہیں پارٹی ہوتا ہے۔ ’میں نے تو صرف اپنے انسٹا گرام فالوورز کو ہنسانے کے لیے ایسا کیا۔‘ تاہم دنانیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ انکے گھر والے اور دوستوں میں سب کو پتا ہے کہ وہ ذرا مزاحیہ باتیں کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں عجیب و غریب تبصرے اور احمقانہ قسم کے مذاق کرتی رہتی ہوں اور جن لوگوں کے ساتھ کمفرٹیبل ہوتی ہوں، ان کے ساتھ میری یہی وائب ہوتی ہے۔ میں ان کے ساتھ بالکل جوکر کی طرح ہوتی ہوں۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’اب مجھے پتا چلا ہے کہ لوگوں کو میری شخصیت کی یہ سائیڈ زیادہ پسند ہے، لہذا مستقبل میں کوشش کروں گی کہ اپنے انسٹاگرام اور یوٹیوب پر یہی سائیڈ زیادہ دکھاؤں۔‘
دنانیر کہتی ہیں ’سچ بتاؤں تو جب میں ویڈیو اپ لوڈ کر رہی تھی، اس وقت مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنی وائرل ہو جائے گی۔‘ وہ بتاتی ہیں کہ وہ تو صرف لوگوں کو ہنسانا چاہتی تھیں اور ان کا خیال ہے کہ وہ اس مقصد میں کامیاب رہی ہیں۔ ’اتنا پیار مل رہا ہے کہ میرے سے ہصم نہیں ہو رہا لیکن اب میرے پاس ایک بڑا خاندان ہے جس کے لیے میں اپنے تمام فالورز کی بہت شکر گزار ہوں۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا گھر والوں کو معلوم ہے کہ انٹرنیٹ پر کتنی ’پارری‘ ہو رہی ہے؟ تو دنانیر کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں وہ بہت خوش قسمت ہیں کیونکہ اس وائرل ویڈیو سے پہلے بھی ان کے فیملی ممبران بلوچ نے میں ان کا بہت ساتھ دیتے ہیں، خاص کر میری اماں، انہون نے کہا کہ جب سے شوبز کے بڑے بڑے ستاروں نے میری ویڈیو ریکریٹ کی ہے، میری اماں کو تو یقین ہی نہیں آ رہا اور وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہیں۔‘
جب دنانیر سے پوچھا گیا کہ انکو اپنی ویڈیو پر بنایا گیا انڈین گلوکار کا ’میش اپ‘ گانا دیکھ کر کیسا لگا؟ تو انہوں نے کہا کہ جہاں دنیا بھر میں اتنی پریشانیاں اور اتنی تقسیم ہے، ایسے وقت میں سرحد پار پیار بانٹنے سے بہتر کیا ہو سکتا ہے؟ مجھے خوشی ہے کہ میری ویڈیو کے باعث اب ہم اور ہمارے ہمسائے مل کر ’پارٹی‘ کر رہے ہیں۔ یش نے اپنے میش اپ کی کیپشن میں لکھا ہے ’آج سے میں پارٹی نہیں صرف پارری کروں گا کیونکہ پارٹی کرنے میں وہ مزا نہیں جو پارری کرنے میں ہے۔‘
جب دنانیر سے پوچھا گیا کہ انکی ویڈیو پر بے شمار میمز بنیں، لیکن ان کی سب سے پسندیدہ میم کون سی ہے؟ اس بارے میں وہ کہتی ہیں کہ ناصرف دنیا بھر بلکہ پاکستان بھر کے کونے کونے سے لوگ میمز اور ویڈیوز ریکریٹ کرکے بھیج رہے ہیں اور میرا نہیں خیال کہ کوئی ایک ویڈیو میری پسندیدہ ہے، خاص کر جب پاکستانیوں کی بات آئے تو ’پاکستانی بہت اعلیٰ پائے کے میمز تخلیق کرتے ہیں اور وہ سب کے سب اتنے ہمہ گیر اور دل کو چھونے والے ہیں کہ میں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کر سکتی۔‘
دوسری طرف سوشل میڈیا پر #pawrihoraihai پیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے اور پاکستان کیا، انڈیا اور دنیا بھر میں عام لوگوں سے لے کر مشہور شخصیات حتیٰ کہ کئی نوعمر لڑکے لڑکیاں بھی اس ہیش میں اپنی ویڈیوز بنا بنا کر شئیر کر رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے ’یہ ہماری گاڑی ہے، یہ ہم ہیں اور اور ہم خوار ہو رہے ہیں تو کوئی خاتون اپنے بیٹی کی ویڈیو دکھا کر کہتی ہیں ’یہ میں ہوں، یہ میری بیٹی ہے اور یہاں ہماری نیندیں حرام ہو رہی ہیں‘۔ جہاں ایک بچے نے ویڈیو بنائی ’یہ ہماری کتابیں ہیں، یہ ہم ہیں اور یہ سر کھپائی ہو رہی ہے‘ وہیں ایک لڑکی نے کچھ ایسی ویڈیو اپ لوڈ کی ’یہ ہماری تنہائی ہے، یہ ہم ہیں اور ہم بور رہے ہیں۔‘ تاہم کچھ لوگ یہ بھی پوچھتے نظر آئے کہ بھائی یہ ’پارری‘ کیا چیز ہے؟ ہمارا خیال ہے کہ شاید ان لوگوں کو ابھی تک واٹس ایپ پر کسی نے دنانیر کی کلپ نہیں بھیجی اور وہ ’پارری‘ کرنے سے محروم رہ گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: