بشریٰ بی بی کی سہیلی فرح خان بھی سینیٹ الیکشن کے لیے میدان میں

لگتا ہے کہ خاتون اول بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرحت شہزادی عرف فرح خان کی بھی لاٹری نکلنے والی ہے کیوںکہ انہوں نے بھی مارچ میں سینیٹ الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے ہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح کروانے میں مرکزی کردار ادا کرنے والی فرحت شہزادی سابق چیئرمین ضلع کونسل احسن جمیل گجر کی اہلیہ ہیں جو کہ بشریٰ کے سابق خاوند خاور فرید مانیکا کے عزیز ترین دوست ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فرحت شہزادی عرف فرح خان نے 15 فروری کو بالکل آخری وقت پر الیکشن کمیشن لاہور کے دفتر میں اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔ تاہم فرح خان نے پی ٹی آئی خواتین کی نشست پر بطور امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ دوسری طرف معلوم ہوا یے کہ ابھی تک پی ٹی آئی کی طرف سے پارٹی ٹکٹ صرف ایک خاتون ڈاکٹر زرقا تیمور کو جاری ہوا ہے اور فرح خان کے حوالے سے ابھی کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔ واضح رہے کہ پنجاب سے سینیٹ کی کل 11 نشستوں پر پی ٹی آئی کی جانب سے 14 امیدوار میدان میں اتارے گئے ہیں۔ جنرل نشست پر اعجاز چوہدری، اعجاز حسین منہاس، جمشید اقبال چیمہ، محمد خان مدنی، ظہیر عباس کھوکھر، عون عباس، عمر سرفراز چیمہ، ڈاکٹر زرقا تیمور اور سیف اللہ نیازی نے کاغذات جمع کروائے ۔ ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر بیرسٹر علی ظفر اور عطا اللہ خان نیازی امیدوار ہوں گے۔ خواتین کی نشستوں پر مسز فرحت شہزادی، ڈاکٹر روبینہ اختر اور نیلم ارشاد نے کاغذات جمع کروائے ہیں۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی قیادت کی طرف سے میرٹ کی بجائے من پسند لوگوں کو سینیٹ ٹکٹ دئیے جانے پر پارٹی دھڑے بندی کا شکار ہے اور مختلف اراکین اسمبلی نے پارٹی قیادت کے فیصلوں کے خلاف بغاوت کر دی ہے۔ فرحت شہزادی عرف فرح خان کو پارٹی ٹکٹ تو نہیں دیا گیا لیکن انہوں نے سینیٹ الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے ہیں جس کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ہوگی۔ کہا جاتا ہے کہ فرح خان اور انکے شوہر احسن جمیل گجر خاتون اول کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کی وجہ سے حکومتی حلقوں میں بھی اہمیت رکھتے ہیں اور انکو با اثر تسلیم کیا جاتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر عظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کے نکاح میں احسن جمیل گجر نے بطور گواہ دستخط کیے تھے اور اس شادی میں بھی انکی بیوی فرح کابنیادی کردار تھا۔ فرح خان کو اکثر بشریٰ بی بی کے ساتھ مختلف مزاروں پر حاضری دیتے اور لاہور میں شیلٹر ہومز کا دورہ کرتے دیکھا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار احسن جمیل گجر اور فرح کے ذریعے خاتون اول سے مشورے اور ہدایات لیتے رہتے ہیں اور فرح خان سینیٹ انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا تازہ ترین فیصلہ بھی بنی گالہ کی طرف سے ہی آیا ہے۔
فرخ خان اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر ماضی میں تب خبروں کی زینت بنے تھے جب گجر پر اکتوبر 2018 میں پاکپتن کے ڈی پی او کو ٹرانسفر کروانے کا الزام عائد ہوا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ڈی پی او پاکپتن تبادلہ ازخود نوٹس کیس میں احسن جمیل گجر کو طلب کیا تھا اور چیف جسٹس ثاقب نثار نے دھمکی دی تھی کہ وہ انہیں کار سرکار میں مداخلت کے جرم پر جیل بھیج دیں گے۔ خیال رہے کہ ڈی پی او پاکپتن کو بشریٰ بی بی کے پہلے شوہر خاور مانیکا کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر احسن جمیل گجر نے آئی جی پنجاب سے ٹرانسفر کروا دیا تھا۔
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ احسن جمیل گجر ہے کون؟ یہ کس کا خاندانی دوست ہے؟ جواب میں احسن جمیل کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ احسن جمیل اس معاملے میں غیرمشروط معافی مانگتے ہیں۔ وہ مانیکا خاندان کے دوست ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ خاور مانیکا نامی شخص اتنا طاقتور کیسے ہو گیا کہ وہ ایک ڈی پی او کا تبادلہ کروادے اور یہ احسن جمیل پولیس کے بارے میں گندی زبان کیسے استعمال کرسکتا ہے؟ ،ہم قانون کی حکمرانی قائم کریں گے۔
یاد رہے کہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار کو یہ بتایا گیا تھا کہ ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ پنجاب کے وزیرِاعلی کے دفتر سے جاری ہوا۔ اس معاملے کی انکوائری رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے قریبی دوست احسن جمیل گجر نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو وزیر اعلی ہاؤس میں بلا کر اُنھیں خاور مانیکا کے پاکپتن ڈیرے پر جا کر معافی مانگنے اور معاملے کو سلجھانے کے بارے میں کہا تھا لیکن اُنھوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق احسن جمیل گجر نے پولیس حکام کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ بھی اختیار کیا تھا۔ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ جب تک پی ٹی آئی کی حکومت ہو گی پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہی ہوں گے حالانکہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے دفتر میں بیٹھ کر اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کیا یہ ہے نیا پاکستان جس کا دعویٰ عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے کیا تھا۔
تاہم بعد ازاں سپریم کورٹ نے ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے سے متعلق از خود نوٹس میں وزیر اعلی پنجاب، وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے بچوں کے گارڈین احسن جمیل گجر اور پنجاب پولیس کے سابق سربراہ کلیم امام کی معافی کو قبول کرلیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ مستقبل میں دوبارہ مداخلت یا سیاسی اثرو رسوخ استعمال کرنے کا واقعہ پیش آیا تو اس از خود نوٹس کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: