احسان اللہ احسان نے ملالہ یوسفزئی کو دھمکی کیوں دی؟

پاکستان کا فخر بننے والی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کو تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی جانب سی دی جانے والی تازہ دھمکی کی وجہ انکا بی بی سی کو ایک انٹرویو ہے جس میں انہوں نے پاکستانی لڑکیوں کو تعلیم دلوانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ تاہم احسان اللہ احسان کو ایک بہادر لڑکی کا یہ موقف ہضم نہیں ہوا اور اس نے ملالہ کو سنگین نتائج کی دھمکی دے ڈالی۔ یاد رہے کہ 2012 میں بھی سوات میں طالبان کی جانب سے ملالہ پر قاتلانہ حملے کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کی بات کرتی تھی۔ احسان اللہ احسان کی جانب سے تازہ دھمکی موصول ہونے کے بعد ملالہ یوسف زئی نے پاکستان فوج کے ترجمان سے یہ مختصر سوال کیا ہے کہ احسان اللہ احسان فوج کی حراست سے کیسے فرار ہوا؟
2012 سے برطانیہ میں مقیم 23 سالہ ملالہ یوسفزئی نے برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنے دورۂ طالب علمی، مستقبل کے بارے میں اپنی امنگوں اور اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بات کی۔ یاد رہے کہ آٹھ سال قبل ملالہ کو برمنگھم کے کوئین الزبتھ اسپتال میں زخمی حالت میں لایا گیا تھا۔ علاقے سوات میں انہیں طالبان نے اسکول جاتے ہوئے سر میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔ ان کا جرم یہ تھا کہ وہ کہتی تھیں کہ لڑکیوں کا اسکول جانا ضروری ہے۔
برمنگھم کے اسپتال میں زیر علاج رہنے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ جب ان کو ہوش آیا تو انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کتنے دن اسپتال میں رہیں گی اور انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ ان کی فزکس کی کتاب لا دیں کیوں کہ پاکستان میں ان کے امتحان قریب آ رہے ہیں۔ لیکن پھر اس کے بعد سے برمنگھم ہمارا دوسرا گھر بن گیا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ‘کہ سب سے پہلے ہمیں یہاں کا لہجہ سمجھنا تھا۔’ مقامی ‘برومی’ لہجے میں انہیں اب عبور حاصل ہو گیا ہے۔ اس کا مظاہرہ کرنے کےلیے انہوں نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے اقتباس سے ایک جملہ بھی دہرایا۔ ملالہ نے کہا کہ لندن میں ہونے کے باوجود سوات ہمیشہ میرا پہلا گھر ہے اور مجھے اپنی جان سے عزیز ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں جلد پاکستان جاؤں اور دوبارہ اپنا گھر دیکھوں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال ملالہ نے یونیورسٹی آف آکسفورڈ سے فلسفے، سیاسیات اور معاشیات میں ڈگری حاصل کی تھی۔ بہت سے دوسرے طالب علموں کی طرح ملالہ کو بھی یونیورسٹی کے ماحول میں خود کو ڈھالنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی زندگی کے بہترین دن وہ ہوتے ہیں جب آپ اپنے دوستوں کے ساتھ رہتے ہیں، گھومتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے زمانے میں زندگی کے ایک اندوہناک تجربے کے بعد انکے لیے یہ پہلا موقع تھا جب مجھے محسوس ہوا کہ میرا بچپن لوٹ آیا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ‘یونیورسٹی جانے سے قبل زندگی میں کوئی مزہ نہیں تھا لیکن جب میں یونیورسٹی گئی اور اپنی عمر کے لوگوں سے ملاقات ہوئی، اپنی عمر کے دوستوں سے ملی تو مجھے یہ احساس ہوا کہ ابھی میری اتنی عمر نہیں ہوئی اور اب بھی میں ان چیزوں سے لطف اندوز ہو سکتی ہوں جن کا مجھے حق ہے اور جو کہ ہر کوئی کر رہا ہے۔’
ملالہ کو کرونا وائرس کی وجہ سے اپنے گھر پر رہ کر ہی پیپرز دینے پڑے لیکن وہ اب بھی اپنے دوستوں سے رابطے میں ہیں اور ان سے ویڈیو کال کے ذریعے گپ شپ کرتی ہیں۔ ملالہ نے بتایا کہ اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد انہیں کچھ فارغ اوقات میسر آئے اور انہیں ‘بلیکاڈر’، ‘اونلی فولز اینڈ ہارسز’ اور ‘یس منسٹر’ جیسے پرانے ڈرامے دیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ‘میں برطانوی ڈراموں کی بہت شوقین ہوں لہٰذا میں وہ شوق سے دیکھتی ہوں۔’ انہیں ‘ویسٹ اینڈ’ کے مشہور گانے بھی پسند ہیں۔ اگر وہ بھٹک کر کسی ریتیلے جزیدے پر چلی جائیں تو وہاں وہ اپنے ساتھ جو گانے لے جانا پسند کریں گی ان میں ‘فینٹم آف دی اوپیرا’ کا ایک گانا بھی شامل ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ‘میں جب برطانیہ آئی تو میرے لیے یہ ثقافت بالکل نئی تھی اور میں یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ یہاں کی موسیقی اور فنون لطیفہ میں کون سی چیز مجھے اچھی لگتی ہے کیا نہیں۔
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنی نجی زندگی اور عوامی زندگی کو الگ رکھتی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’گھر میں ایک مختلف ملالہ ہوتی ہے۔ میں گھر میں بہت حکم چلاتی ہوں، لیکن مثبت انداز میں‘۔ میں اپنے بھائیوں کو ہمیشہ سمجھاتی رہتی ہوں۔۔انہیں شاید اس کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ لڑکوں کو بہت سمجھانا پڑتا ہے۔’ انہوں نے کہا کہ ان کے ابا ضیا الدین خواتین کے حقوق کے زبردست حامی ہیں انہیں اپنی بہنوں کے ساتھ روا رکھا گیا رویہ بالکل پسند نہیں تھا اور انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ میرے ساتھ اسی طرح کا سلوک ہو جیسا کہ میرے بھائیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اپنے والدین کے رشتے پر وہ کہتی ہیں۔ جس طرح پاکستان میں وہ پہلی مرتبہ ملے وہ کہانی بڑی خوبصورت ہے۔ ان کے پاس ‘ٹنڈر’ جیسے ملاقات کرنے کے ایپس نہیں تھے۔ وہ ملنے کےلیے باہر نہیں جا سکتے تھے۔
ملالہ کا کہنا ہے کہ شادی سے پہلے میری والدہ کبھی کبھی میرے والد کے گھر آتی تھیں اور وہ ایک فاصلے سے ایک دوسرے کو چوری چھپے دیکھ لیتے تھے۔ ان کے پیار کی کہانی کچھ اس طرح سے ہے۔’ ملالہ نے بتایا کہ جب وہ چھوٹی تھیں تو بہت سوچتی تھیں کہ ‘ایک دن جب میں وزیر اعظم بن جاؤں گی تو سب کچھ ٹھیک کر دوں گی۔”اب مجھے پتا چلا ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے اور بہت پیچیدگیاں ہیں۔’ انہوں نے بتایا کہ ‘فی الحال میری توجہ لڑکیوں کی تعلیم پر ہے اور اس کے بعد معلوم نہیں۔ میں 20 سال بعد سیاست میں آنے پر غور کر سکتی ہوں۔ اس کےلیے بہت وقت پڑا ہے۔’
پاکستان میں کس چیز نے انہیں انسانی حقوق کی کارکن بننے پر مجبور کیا اس کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ انہیں ہمیشہ یہ خوف رہتا کہ انہیں ساری زندگی اسی ماحول میں رہنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ‘آپ اپنے اندر ایک قوت محسوس کرتے ہیں، گو کہ آپ بہت چھوٹے ہیں۔ میں اب بھی چھوٹی ہوں میں صرف پانچ فٹ کی ہوں۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: