کیا سدپارہ کی جان نیپالی کوہ پیماوں کی وجہ سے گئی؟

کوہ پیمائی کے ماہرین نے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ موسم سرما میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی سر کرنے کی کوشش میں لاپتہ ہونے والے علی سدپارہ اور ان کے دو غیرملکی ساتھیوں کی جان ان نیپالی کوہ پیماؤں کی وجہ سے گئی جنہوں کچھ ہی ہفتے پہلے کے ٹو کو سر کیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فکسڈ لائن یا رسی جس کے ذریعے کے 2 تک پہنچا جانا تھا اسے لگانے کی ذمہ داری 16 جنوری کو کے ٹو سر کرنے والی نیپالی کوہ پیما ٹیم کے ذمہ تھی، اب اس امکان کا اظہار کیا جا رہا یے کہ انہوں نے اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد رسی اتار دی تھی تا کہ ان کے بعد موسم سرما میں کے ٹو کو سر کرنے کا اعزاز کسی اور کے پاس نہ چلا جائے۔
یاد رہے کہ سرکاری طور پر لاپتا ہونے والے علی سدپارہ اور دیگر 2 کوہ پیماؤں جان اسنوری اور جے پی موہر کی موت کا اعلان کردیا گیا ہے۔ 5 فروری کو لاپتا ہونے والے ان کوہ پیماؤں پر کیا گزری اور وہ کس حادثے سے دوچار ہوئے، اس بارے میں یقیناً کوئی حتمی طور پر نہیں بتا سکتا۔ تاہم ماہر کار کوہ پیما کہتے ہیں کہ تحقیق کی جانی چاہیئے کہ آیا یہ کوئی حادثہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی سازش تھی۔ ماہر کوہ پیما اس بات پر متفق ہیں کہ سدپارہ کی مہم میں بہت سے واقعات غیر معمولی، غیر متوقع یا مشکوک ہیں جن کی تحقیقات بہت ضروری ہیں۔ پاکستان کے ایک سینئر عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما نذیر صابر نے ‘کے ٹو‘ اور ماؤنٹ ایوریسٹ سمیت دنیا کی کئی بلند چوٹیاں کامیابی سے سر کی ہیں۔ وہ نیپالیوں کی لگائی گئی رسی کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہیں۔ ایک ویڈیو میں وہ واضح طور پر کہتے نظر آتے ہیں کہ نیپالیوں نے جو رسی لگائی تھی وہ اس کا ایک ایک انچ اتار کر واپس لے گئے تھے۔ پھر وہ سوال کرتے ہیں کہ علی سدپارہ کی ٹیم میں کون تھا جو یہ رسی لگاتا؟ جان اسنوری فراسٹ بائٹ کا شکار تھا، موہر اتنا تجربہ کار نہ تھا جو اتنی اونچائی پر رسی لگاتا، ساجد واپس آچکا تھا، اکیلا علی سدپارہ کیا کچھ کرتا؟۔ ایک اور کوہ پیما اور محقق عمران حیدر تھہیم نے تفصیل سے رسی کے حوالے سے تمام امکانات کا جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر نیپالی کوہ پیماؤں کے رسی نہ لگانے سے متعلق فی الحال کوئی ثبوت موجود نہیں تو رسی لگانے سے متعلق بھی تو کوئی ٹھوس ثبوت کسی کے پاس نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ساجد سدپارہ کے پاس صرف 8200 میٹر تک کی معلومات ہیں اس سے آگے کیا ہوا ہوگا اس کا اسے بھی علم نہیں ہے‘۔
سوال یہ یے کہ کیا نیپالیوں کے اس دعوے کو من و عن تسلیم کر لینا چاہیے کہ انہوں نے رسی لگائی تھی؟ عمران حیدر کہتے ہیں کہ جتنے بھی بڑے پہاڑ ہیں ان پر ساز و سامان کے استعمال کے بغیر کوہ پیمائی ناممکن ہوتی ہے۔ سب سے پہلے کوہ پیماؤں کی حفاظت کےلیے بیس کیمپ سے چوٹی تک مختلف ٹکڑوں میں مضبوط رسی لگائی جاتی ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ کوہ پیما کی لائف لائن رسی لگا کر بنائی گئی ایک فکسڈ لائن ہوتی ہے۔ پہاڑ کی اونچائی کو مدنظر رکھ کر ایک کیمپ سائٹ سے دوسری کیمپ سائٹ تک نہایت مضبوطی سے ایک فکسڈ لائن لگائی جاتی ہے جس پر حفاظت کے ساتھ کوہ پیما چڑھائی کرتے ہیں۔ یہ فکسڈ لائن منجھے ہوئے کوہ پیما لگاتے ہیں جنہیں lead climber کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اس کام کے خصوصی کورسز کیے ہوتے ہیں۔ کے ٹو جیسے مشکل اور خونی پہاڑ کی مہم جوئی کرنے والے تقریباً تمام کوہ پیما لازمی طور پر اتنے تربیت یافتہ ہوتے ہیں کہ وہ ضرورت پڑنے پر فکسڈ لائن خود لگانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ ماؤنٹ ایوریسٹ پر کوئی اور غیر تربیت یافتہ کوہ پیما بھی محض فٹنس کے بل بوتے پر کلائمبنگ کرسکتا ہے لیکن ’کے 2‘ پر ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے اور صرف تربیت یافتہ کوہ پیما ہی یہاں کامیاب ہوسکتا ہے۔
اس سال ’کے ٹو‘ پر آئی ہوئی ٹیموں میں سب سے پہلے جان اسنوری اور علی سدپارہ کی ٹیم نے ایڈوانس بیس کیمپ یعنی 5300 میٹر سے کیمپ 3 یعنی 7300 میٹر تک 5 دسمبر سے 13 جنوری کے درمیان رسی لگائی اور اسی دوران خود کو موسم اور اونچائی سے بھی ہم آہنگ کرتے رہے۔ نامعلوم وجوہات کی بنا پر جان اسنوری نے 14 جنوری کی پہلی ویدر ونڈو یعنی بہتر موسم کو استعمال نہیں کیا اور چوٹی کی جانب آگے نہیں بڑھے۔ جب کہ نیپالی ٹیم نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر 16 جنوری کو چوٹی سَر کرکے ریکارڈ بنالیا۔
فکسڈ لائن کی تنصیب کا جائزہ لیں تو دستیاب معلومات کے مطابق ایڈوانس بیس کیمپ سے کیمپ 3 تک علی سدپارہ کی لگائی ہوئی فکسڈ لائن کو باقی تمام نیپالی کوہ پیماؤں نے استعمال کیا جب کہ وہاں 7300 میٹر سے آگے 8611 میٹر یعنی ’کے ٹو‘ کی چوٹی تک جتنی بھی فکسڈ لائن لگانی تھی اسے نیپالی شرپاؤں نے اپنے ذمے لیا تھا۔ تمام 10 شرپاؤں نے اپنے اپنے حصے تقسیم کرلیے تھی۔ اس ضمن میں یقیناً سب کوہ پیماؤں کی باہمی رضامندی شامل ہوگی۔
عمران حیدر کہتے ہیں کہ مجھے قوی یقین ہے کہ نیپالی شرپاؤں نے علی سدپارہ کی لگائی ہوئی فکسڈ لائن جان اسنوری سے یہ کہہ کر استعمال کی ہوگی کہ کیمپ 3 سے آگے جو فکسڈ لائن ہم لگائیں گے وہ آپ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ لہٰذا فکسڈ لائن کے معاملے میں یہ باہمی تعاون زبانی طور پر طے کیا گیا ہوگا۔ جبھی تو جان اسنوری نے ایک مرتبہ بات چیت کے دوران بتایا تھا کہ ڈیتھ زون کےلیے مجھ سے نیپالی شرپا Nims Dai نے 700 میٹر رسی لی تھی اور ہم وہی فکسڈ لائن استعمال کریں گے۔ اب چونکہ جان اسنوری ٹیم ڈیتھ زون میں لاپتا ہوئی ہے لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ وہ نیپالیوں کی لگائی ہوئی فکسڈ لائن کے رحم و کرم پر ہی تھے۔
یہ بات تو طے ہے کہ کیمپ 3 سے بوٹل نیک تک لازمی فکسڈ لائن لگی ہوئی تھی کیوں کہ اگر نہ لگی ہوتی تو ساجد سدپارہ بتا دیتے کہ رسی نہیں لگی تھی۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ کیمپ 3 سے 8200 میٹر تک جہاں پر وہ علی سدپارہ ٹیم کو چھوڑ کے واپس آگئے تھے فکسڈ لائن موجود تھی۔
اس کے بعد 2 اہم سوال جنم لیتے ہیں۔ پہلا سوال یہ کہ کیا بوٹل نیک سے آگے فکسڈ لائن تھی یا نہیں؟ اور کہیں اس فکسڈ لائن یعنی رسی کو واپسی پر اتار تو نہیں لیا گیا تھا؟ علی سدپارہ اور ساتھی اب دنیا میں نہیں ہیں لہٰذا ان دونوں سوالوں کے جواب اب صرف نیپالیوں کے پاس ہیں۔ ساجد سدپارہ کے پاس اس کا جواب ہرگز نہیں ہے کیوں کہ وہ 8250 میٹر سے آگے نہیں گئے اور جہاں سے ساجد سدپارہ واپس ہوئے وہاں سے چوٹی تک کی فکسڈ لائن نظر نہیں آتی۔ یہ جاننے کےلیے وہیں جانا پڑتا ہے اور ظاہر ہے کہ وہاں تک وہ گئے نہیں۔ اب فرض کرتے ہیں کہ بوٹل نیک سے آگے فکسڈ لائن لگائی ہی نہیں گئی تھی اور نیپالیوں نے وہاں سے چوٹی تک فری کلائمب یعنی فکسڈ لائن کے بغیر چڑھائی کی، تو کیا یہ ممکن ہے؟، تو اس کا جواب ہے کہ جی ہاں یہ ممکن ہے۔ بعض اوقات بوٹل نیک سے اوپر تازہ برف یا پاؤڈر اسنو موجود ہوتی ہے جس پر چڑھنا آسان ہوتا ہے۔ تجربہ کار کوہ پیما وہاں سے بغیر فکسڈ لائن کے نکل جاتے ہیں۔ لیکن یہ بہت کم ہوتا ہے کیوں کہ عموماً اس مقام پر بِلو آئس یعنی پکی برف ہوتی ہے جس پر پاؤں مشکل سے ٹکتے ہیں لہٰذا پھسلنے سے بچنے کےلیے فکسڈ لائن ضروری ہوتی ہے۔ امکان یہ بھی ہے کہ 16 جنوری کو جب نیپالیوں نے چوٹی سَر کی تو انہیں وہاں نرم برف ملی چنانچہ انہوں نے فکسڈ لائن نہیں لگائی۔
اب ان دو باتوں میں سے صرف ایک بات سچ ہوسکتی ہے کہ نیپالیوں نے بوٹل نیک سے آگے فکسڈ لائن لگائی ہی نہیں یا پھر پاکستانی کوہ پیما نذیر صابر کی یہ بات درست ہے کہ نیپالیوں نے عارضی طور پر رسی لگائی جسے وہ واپسی پر اتار کر لے گے اور یہ بات علی سدپارہ کی ٹیم کو نہیں بتائی حالانکہ رسی ان ہی سے لی گئی تھی اور وہ کیمپ 4 تک علی سدپارہ کی فکسڈ لائن استعمال کرچکے تھے۔ ان کی یہ بددیانتی اب ایک جرم بن چکی ہے جس میں 3 تجربہ کار کوہ پیما اپنی جان گنوا چکے ہیں لہٰذا اس حوالے سے نیپالیوں سے پوچھ گچھ ضروری ہے۔
اب اس صورت حال میں یہی لگتا ہے کہ جب سدپارہ اور جان اسنوری ٹیم وہاں پہنچی تو انہیں مجبوراً رسی کے بغیر فری کلائمب کرنا پڑی اور اس کے نتیجے میں امکان ہے کہ وہ پھسل کر گرگئے۔ اس امکان کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ جب بوٹل نیک سیکشن پر ٹیم پہنچی تو یقیناً علی سدپارہ ٹیم کی قیادت کر رہے ہوں گے اور انہوں نے اس انتہائی خطرناک صورت حال کو بھانپ لیا اور دوسری جانب ساجد سدپارہ پہلے ہی آکسیجن کی کمی کے باعث ہذیانی کیفیت کے زیرِ اثر تھے اور ان کا آکسیجن سلینڈر بھی کام نہیں کررہا تھا تو علی سدپارہ نے بیٹے کی حفاظت کے پیش نظر اسے واپس بھیج دیا۔ باپ کے حکم پر ساجد سدپارہ نے واپسی شروع کردی اور کیمپ 3 پر پہنچ کر جب ان کی طبیعت بہتر ہوئی تو انہوں نے نیچے بیس کیمپ پر رابطہ کیا۔ ان تمام مفروضات کے حق میں فی الحال کوئی ٹھوس ثبوت کسی کے پاس نہیں ہیں لیکن اگر اس حوالے سے باقاعدہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی جائے تو حقائق سامنے آسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close