میرا پبلک امیج یہ ہے کہ میں بہت ہی مضبوط عورت ہوں

یاسرہ رضوی کہتی ہیں کہ جنہوں نے تھیٹر کیا ہو ان کی اداکاری میں اس کی جھلک نظر آجاتی ہے ان کی باڈی لینگوئج اور لفظوں کی ادائی ہی الگ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈرامہ کم لکھا ہے اور شاعری تب کرتی ہوں جب آمد ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر میری شاعری کی ویڈیوز کو جتنا اچھا رسپانس ملتا ہے اسے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ نعمان اعجاز، ثمینہ احمد، نمرا بُچہ، ثروت گیلانی، اسما عباس اور وسیم عباس جیسے اداکاروں کے ساتھ کام کرنا کسی اعزاز سے کم نہیں۔ سب بہت بڑے اداکار ہیں جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ یاسرہ رضوی کے مطابق آج کل ویسے ہی ڈرامے لکھے جا رہے ہیں جیسے لوگ دیکھنا چاہتے ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ کہانیاں یکسانیت کا شکار ہیں کہیں نہ کہیں کچھ تو مختلف بن رہا ہے۔ پی ٹی وی کا دور اور اُس وقت کے لوگوں کا مزاج آج کے دور کے چینلز اور لوگوں کے مزاج سے مختلف ہے۔ اُس وقت جو ڈرامے بنے وہ اُس وقت کے حساب سے تھے آج جو ڈرامے بن رہے ہیں وہ آج کے حساب سے ہیں۔ ہر دور کے مختلف تقاضے ہوتے ہیں بس یہ چیز جس دن سمجھ آگئی تو پی ٹی وی کے ڈرامے کا آج کے ڈرامے سے موازنہ نہیں کیا جائے گا۔ یاسرہ کے مطابق جس طرح سے ٹی وی فلم الگ الگ میڈیم ہیں ویسے ہی ویب بھی الگ میڈیم ہے، میرا ویب کےلیے کام کرنے کا تجربہ بہت ہی دلچپسپ رہا ہے۔ ویب سیریز چڑیلز کی کہانی کسی کو پسند آئی کسی کو نہیں۔ سوشل میڈیا پر ملا جلا رسپانس آیا۔ پبلک کے ایک حصے کو تو یہ بھی لگا یہ کہ اس کا کونٹینٹ ہی پاکستانی نہیں ہے لیکن مجھے تو کونٹینٹ کافی پاکستانی لگا۔ ایک سوال کے جواب میں یاسرہ رضوی نے کہا کہ میں نے اپنے سے دس سال کم عمر لڑکے سے شادی کی، یہ اسٹیپ لوگوں کےلیے کسی اچنبھے سے کم نہیں تھا۔ میں بچپن سے ہی اپنے فیصلے خود کر گزرتی ہوں، کبھی کوئی فیصلہ کرتے وقت کسی کے مشورے کی ضرورت ہو تو کر لیتی ہوں۔ یاسرہ کا کہنا ہے کہ میرا پبلک امیج یہ ہے کہ میں بہت ہی مضبوط عورت ہوں۔ ہمیں جو بھی کردار آفر ہوتے ہیں ان کا تعلق عام زندگی سے ہی ہوتا ہے، اگر اسکرپٹ کو ڈھنگ سے پڑھ اور سمجھ لیا جائے تو کام کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ یاسرہ کہتی ہیں کہ انہیں اپنی آواز کو اثاثہ سمجھنا چاہیے کیوں کہ ان کی آواز کا کردار ہے ان کی شاعری کی ویڈیوز اور اداکاری میں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہر جگہ ہر ملک میں عورتوں کو مختلف نوعیت کے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ لیکن باہر کے ملکوں میں مردوں اور عورتوں کو شخصی آزادی حاصل ہے جس کی جنگ پاکستان میں عورتوں کو مسلسل لڑنا پڑتی ہے۔ ان کے مطابق چائلڈ ابیوز اور ویمن ٹریفکنگ جیسے موضوعات پر ڈرامے بن رہے ہیں۔ اگر پورا ڈرامہ نہ بھی بنے لیکن کچھ کردار ایسے حساس موضوعات کی عکاسی تو کر رہے ہوتے ہیں۔ یاسرہ رضوی کہتی ہیں کہ جو لوگ مجھے نہیں جانتے ان کو میں غصے والی لگتی ہوں، حالانکہ میں ہر معاملے میں بیلنس رکھنے کی قائل ہوں اور اپنی پاور کا کبھی غلط استعمال نہیں کرتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close