اوپن ووٹ سے اراکین اسمبلی خطرے میں پڑ جائیں گے

سپریم کورٹ میں سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹنگ سے کروانے کے لیے دائر کردہ صدارتی ریفرنس کی مخالفت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے وکیل سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت اوپن بیلٹنگ نہیں بلکہ ’خفیہ رائے شماری‘ ہی ہوسکتی ہے اور اگر سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹنگ سے کروانے کے بارے میں کوئی فیصلہ دیا گیا تو پھر پارلیمان کے ارکان ’ڈیپ سٹیٹ کے رحم وکرم پر ہوں گے‘۔ اُنھوں نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں 20 پریزائیڈنگ افسران کے ’لاپتہ‘ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’جو ریاست اپنے افسران کو تحفظ فراہم نہیں کر سکی وہ کیسے ارکان کو تحفظ فراہم کرے گی۔‘
سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران اپوزیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے رضا ربانی نے اپنے دلائل میں کہا کہ اگر ’خفیہ رائے شماری کا حق بھی چھین لیا گیا تو اراکین اسمبلی ’ڈیپ سٹیٹ‘ کے ہاتھوں مشکل میں ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس لیے ڈالے گے ووٹ قابل شناخت نہیں ہونے چاہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ڈیپ سٹیٹ کی رسائی بیلٹ پیپر تک ہوتی ہے‘، جس پر بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیے کہ ایسا کوئی معاملہ عدالت کے سامنے نہیں ہے کیونکہ بیلٹ پیپر پولنگ سٹیشن پر ہی سیل کیے جاتے ہیں۔ لہکن رضا ربانی کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپرز سیل کیے جانے کے باوجود ’ڈیپ سٹیٹ کی ان تک رسائی ہوتی ہے یہ آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں‘، جس پر جسٹس اعجاز الااحسن نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین کے تحت مجموعی طور پر بیس الیکشن ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے انتحابات بھی آئین کے تحت ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آئین سازوں نے صرف وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کا الیکشن اوپن بیلٹ سے رکھا۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ آئین میں سینیٹ کے لیے خفیہ انتخابات سوچ سمجھ کر رکھے گے، انکا کہنا تھا کہ انتخابات کے مختلف سیٹ ہوتے ہیں، ایک سیٹ وزیراعظم و وزرائے اعلیٰ کا انتخاب ہے، ایک سیٹ چیئرمین سینٹ و اسپیکرز کے انتخابات سے متعلق ہے، ان انتخابات کے لیے خفیہ کا طریقہ کار موجود ہے۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں پارٹی پالیسی سے بالاتر بھی ووٹ ڈالا جاتا ہے، اس لیے آئین نے آرٹیکل 226 کے تحت تحفظ دیا ہے، چونکہ سینیٹ وفاق کا ہاؤس ہے، یہ وفاقی یونٹس کا تحفظ کرتا ہے۔
رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ سیاسی جماعتوں کی نہیں بلکہ وفاق کی نمائندگی کرتا ہے، سیاسی جماعتوں کے فورم محتلف ہیں، قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلیاں براہ راست سیاسی جماعتوں کے فورم ہیں، سینیٹ کا تصور یکسر مختلف ہے۔ عدالت میں اپنے دلائل دیتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ قومی اسمبلی آبادی کی اکثریت کی نمائندہ ہوتی ہے، سینیٹ میں وفاقی یونٹس کی متناسب نمائندگی ہوتی ہے، سینیٹ وفاقی یونٹس کے حقوق کا محافظ ہے۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں رکن اسمبلی کی نااہلی سے متعلق 63 (اے) کی کوئی بار نہیں، سینیٹ سے متعلق حفیظ پیرزادہ کی متناسب نمائندگی سے متعلق تقریر قومی اسمبلی سے متعلق ہے، سینیٹ سے متعلق متناسب نمائندگی کی نہیں بلکہ قومی اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کی نمایندگی کی بات کی۔ ان کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی دلیل یہ ہے کہ متناسب نمائندگی صرف ووٹ گننے سے متعلق ہے، اگر سیاسی پارٹیاں تقسیم ہیں تو صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کی سینیٹ میں کیسے نمائندگی ہوگی، اس پر رضا ربانی نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ کسی پارٹی کی آپ کو صحیح متناسب نمائندگی نظر آئے۔ رضا ربانی نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی بڑی سیاسی جماعت ہے، مجھے صحیح تعداد کا اندازہ نہیں لیکن شاید 5 یا 6 نشتیں زیادہ ہوں، اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پنجاب میں اتحاد بھی کیا ہے۔ اسی دوران رضا ربانی نے کہا کہ اسپیکر اور چیئرمین سینٹ کے الیکشن خفیہ ووٹنگ سے ہوتے ہیں، اسپیکر اور چیرمین سینٹ کے عہدے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوتے ہیں، سیاسی وابستگی سے بالاتر عہدے کے لیے ووٹنگ کا عمل خفیہ رکھا گیا، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سیاسی اتحاد خفیہ نہیں ہوتے، جہاں کسی انفردای شخص سے اتحاد ہو وہاں خفیہ رکھا جاتا ہے، ساتھ ہی جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی اے کی 6 نشستیں بنتی ہیں اور اسے 2 ملتی ہیں تو تب قانون کا اطلاق کہاں ہوتا ہے۔پھر متناسب نمائندگی کہاں گئی۔ انہوں نے کہا کہ آئین بنانے والوں کی متناسب نمائندگی سے متعلق دانشمندی کہاں گئی۔
ان عدالتی ریمارکس پر رضا ربانی نے کہا کہ یہ ریاضی کا سوال نہیں اور نہ یہ اے، بی یا پھر سی کی بات ہے، یہ سینیٹ ہے، یہ وفاق کا معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات سیاسی اتحاد خفیہ بھی ہوتے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیوایم اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہدہ ہوا ہے، پی ٹی آئی کراچی میں جلد مردم شماری کے لیے فنڈز دے گی، بدلے میں ایم کیو ایم سینیٹ کے لیے پی ٹی آئی کو ووٹ دے گی، کیا عدالت اس عمل کو کرپشن قرار دے گی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دییے کہ تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ لیں گیے، لیکن سیاسی اتحاد خفیہ نہیں رکھے جائیں۔ سماعت کے دوران رضا ربانی نے کہا کہ ہم جاگیردارانہ اور بدصورت سرمایہ دارانہ معاشرے میں رہ رہے ہیں، کسی بھی بات کو سیاق وسباق سے ہٹ کر نہیں دیکھا جاسکتا۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ حالیہ ضمنی الیکشن نیں تو ریاست اپنے 20 ریٹرننگ افسران کو تحفظ نہیں دے سکی، رضا ربانی نے کہا کہ دنیا کی تاریخ اختلاف رائے کرنے والوں سے بھری پڑی ہے، اختلاف رائے کرنے والے نتائج کی پرواہ نہیں کرتے، ڈکٹیٹر کے خلاف بھی لوگوں نے کھل کر اختلاف رائے کیا، آئین میں اختلاف رائے پر کوئی نااہلی نہیں ہوتی۔
ان کی بات پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایسا کوئی معاملہ عدالت کے سامنے نہیں ہے، بیلٹ پیپر پولنگ اسٹیشن پر ہی سیل کیے جاتے ہیں، جس پر رضا ربانی نے کہا کہ سیل کیے جانے کے باوجود ڈیپ اسٹیٹ کی ان تک رسائی ہوتی ہے یہ آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، اس بنا پر بھی ووٹ قابلِ شناخت نہیں ہونا چاہیے۔ اس پر رضا ربانی نے کہا کہ آئین میں تو آرٹیکل 10 اے بھی ہے، شفاف ٹرائل ہوتا تو لاپتا افراد کا مسئلہ نہ ہوتا، عدالتوں کی کوشش کے باوجود لاپتا افراد کا مسئلہ جوں کا توں ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ آئین پرعمل نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا یہ آئین شکنی 1973 میں ہی شروع نہیں ہو گئی تھی؟ جس پر رضا ربانی نے کہا کہ کسی مخصوص دور کی بات نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو 10 نشتیں ملنا تھیں اور نہ ملیں تو یہ ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوگی، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کم از کم تحقیقات تو ہونی چاہیے کہ ہارس ٹریڈنگ ہوئی یا نہیں ہوئی، آج تک ہارس ٹریڈنگ پر کوئی سزا ملی، نہ نااہلی ہوئی، بادی النظر میں ہارس ٹریڈنگ کے شواہد پر ووٹ دیکھا جانا چاہیے۔
اس پر رضا ربانی نے کہا کہ قابل شناخت بیلٹ پیپرز آرٹیکل 226 کی خلاف ورزی ہوں گے، الیکشن کمیشن پر کوئی الزام نہیں لگانا چاہتا، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ’ڈیپ اسٹیٹ‘ کی رسائی بیلٹ پیپر تک ہوتی ہے، قابل شناخت بیلٹ پیپرز ڈیپ اسٹیٹ کی پہنچ میں ہوگا۔ ان کی بات پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا تھیلوں میں بند بیلٹ پیپرز تک رسائی ہوتی ہے، جس کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ ڈیپ اسٹیٹ کی رسائی اب ملک سے باہر بھی ہوگئی ہے، ڈیپ اسٹیٹ اراکین سینیٹ اور اسمبلی کو بلیک میل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب تو انسان موجود نہ بھی ہو تو اس کی جعلی ویڈیو بن جاتی ہے، جس پر جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیے کہ کسی کی بھی ویڈیو بنانا اتنا آسان کام نہیں ہے، جیت ہمیشہ انصاف کی ہوتی ہے، جس کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ انصاف کے ملنے تک رکن اسمبلی خود کشی کرچکا ہوگا۔ جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ الیکشن لڑنے والے کو مضبوط اعصاب کا مالک ہونا چسہیئے۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 23 دسمبر کو صدر مملکت کی منظوری کے بعد سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا تھا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کی وزیرِ اعظم کی تجویز کی منظوری دی تھی اور ریفرنس پر دستخط کیے تھے۔ عدالت عظمیٰ میں دائر ریفرنس میں صدر مملکت نے وزیر اعظم کی تجویز پر سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی تجویز مانگی ہے۔ ریفرنس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ آئینی ترمیم کے بغیر الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرنے کے لیے رائے دی جائے۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں صدارتی ریفرنس کی مخالفت کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اوپن بیلٹ کا طریقہ کار اپنانے کے لئے آئینی ترمیم ضروری ہے اور سپریم کورٹ اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close