حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کے لیے اہلیت کے دوہرے معیار


وزیراعظم عمران خان کے نئے پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کے لیے لیے اہلیت کے دوہرے معیار اس وقت بے نقاب ہوگئے جب الیکشن ٹریبونل نے اپنی دوہری شہریت چھپانے والے فیصل واوڈا کو سینیٹ انتخابات لڑنے کے لیے اہل قرار دے دیا اور پرویز رشید کو اس لیے نااہل قرار دے دیا کہ انہوں نے اپنے پنجاب ہاؤس کے واجبات کلیئر نہیں کروائے تھے۔ یعنی حلفیہ جھوٹ بولنے اور دھوکہ دہی کرنے والا واوڈا صادق اور امین قرار پایا جبکہ پنجاب ہاؤس کا ڈیفالٹر نااہل قرار پایا حالانکہ اس نے اپنے واجبات کلیئر کروانے کے لیے آخری دن تک ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ یہ اور بات کہ متعلقہ حکام کو ہدایت تھی کہ وہ کسی بھی صورت پرویز رشید سے واجبات وصول نہیں کریں گے۔ افسوسناک بات یہ ہے ک پہلے ریٹرننگ افسر نے واوڈا کے خلاف دائر اعتراضات سرے سے سننے سے ہی انکار کر دیا تھا اور اب الیکشن ٹریبیونل نے یہ کہہ دیا ہے کہ کسی بھی امیدوار کے کاغذات نامزدگی سے متعلق فیصلہ کرنے کے ہمارے اختیارات محدود ہیں۔
یاد رہے کہ فیصل واوڈا کو عمران خان نے سینیٹ کا ٹکٹ اس لئے دیا ہے کہ وہ بطور ایم این اے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ہاتھوں اپنی دوہری شہریت کے معاملے پر جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے کی وجہ سے نااہل ہونے جا رہے ہیں۔ تاہم 23 فروری کے روز الیکشن ٹربیونل نے عمران خان کے قریب ترین شمار کیے جانے والے ارب پتی فیصل واوڈا کو سینیٹ الیکشن کے لیے اہل قرار دے دیا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ میڈیا کو الیکشن ٹریبونل کی کارروائی کور کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں صرف فیصلہ سنایا گیا۔ الیکشن ٹریبونل نے سینیٹ الیکشن کے لیے فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی کی منظوری پر ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف قادر خان مندوخیل کی اپیل پر سماعت کی اور اسے مسترد کردیا۔ حیران کن طور ہر ٹریبیونل نے پی ٹی آئی رہنما کی نامزدگی کو درست ٹھہراتے ہوئے انہیں سینیٹ الیکشن کے لیے اہل قرار دے دیا۔ تاہم الیکشن ٹریبیونل نے یہ نہیں کہا کہ فیصل واڈا پر لگائے جانے والے الزامات غلط ہے بلکہ اس کا کہنا تھا کہ کسی بھی امیدوار کے کاغذات نامزدگی سے متعلق فیصلہ کرنے کے ہمارے اختیارات محدود ہیں لہٰذا اپیل کنندہ چاہے تو اسکے خلاف ایک آئینی دراخوست دائر کر سکتا ہے۔ سماعت کے موقع پر الیکشن ٹریبونل نے میڈیا کوبھی کوریج سے روک دیا تھا اور عدالتی عملے نے میڈیا نمائندوں کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کی ہدایت کر دی تھی۔
یاد رہے کہ سینیٹ انتخابات کے لیے تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی جانب سے جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ پپیلز پارٹی کے رہنما قادر مندوخیل کی جانب سے فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔ قادر خان مندوخیل کی جانب سے دائر درخواست میں فیصل واوڈا کو نااہل قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ فیصل واوڈا نے اپنی امریکی شہریت سے متعلق حقائق چھپائے اس لئے جو جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے کی وجہ سے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ قادر خان مندوخیل نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے ریٹرننگ افسر کے سامنے واوڈا کے خلاف اعتراضات دائر کیے مگر انہوں نے سرے سے کوئی اعتراض ہی سننے سے انکار کر دیا، لہذا ریٹرننگ افسر کا اقدام غیر قانونی اور غیرآئینی ہے اور فیصل واوڈا حقائق چھپانے پر عوامی عہدے کے لیے نااہل ہیں لہذا ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں اور انہیں سینیٹ الیکشن کے لیے نا اہل قرار دیا جائے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا 2018ء کے عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت امریکی شہری تھے اور ان کا الیکشن کمیشن میں جمع کرایا جانے والا حلف نامہ جعلی تھا کیونکہ اسمیں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ 11 جون 2018ء کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے۔ کاغذات کی اسکروٹنی کے وقت بھی ان کی امریکی شہریت برقرار تھی۔ فیصل واوڈا نے اپنے کاغذات نامزدگی میں حلفاً کہا تھا کہ وہ صرف پاکستانی شہری ہیں تاہم دستاویزات سے ثابت ہوا جب انہوں نے کاغذات جمع کرائے وہ امریکی شہری تھے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ثابت ہوجائے کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے تو واوڈا نااہل ہوجائیں گے۔ واضح رہے کہ 2018 میں سپریم کورٹ نے ن لیگ کے سینیٹرز سعدیہ عباسی اور ہارون اختر کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت دہری شہریت پر نااہل قرار دیا تھا، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ واضح کر دیا تھا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت امیدواروں کے پاس غیر ملکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ ہونا چاہئے۔ اسی بات پر سپریم کورٹ نے کئی ارکان پارلیمنٹ کو نا اہل قرار دیا تھا اس لئے فیصل واوڈا کو بھی سیٹ چھن جانے کا ڈر لگا ہوا تھا لہذا عمران خان نے انہیں سینٹر بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
دوسری جانب سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ ن کو تب ایک بڑا دھچکا لگ گیا جب الیکشن ٹربیونل نے مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید کی نااہلی کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی۔ یاد رہے کہ پرویز رشید پنجاب ہاوس اسلام آباد کے 96 لاکھ روپے کے نادہندہ قرار پائے تھے جس کے بعد جب 8 پارٹی رہنماؤں نے پیسے ڈال کر 96 لاکھ کا بندوبست کیا تھا لیکن انکا موقف ہے کہ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود ان سے واجبات وصول نہیں کئے گئے تاکہ انکو نااہل قرار دلوایا جا سکے۔ پرویز رشید نے سینیٹ الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا اقدام ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کیا تھا۔ پرویز نے ایڈووکیٹ اعظم نذیر تارڑ کی وساطت سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریٹرنگ آفیسر نے غیر قانونی طور پر ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ 95 لاکھ کی رقم جمع کروانے کے لیے تیار ہیں مگر رقم جمع نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پنجاب ہاؤس سے رقم وصول کرنے کا مطالبہ کیا گیا لیکن مجھے جان بوجھ کر بینک کی معلومات نہیں دی گئیں۔ پرویز نے درخواست میں الیکشن کمیشن اور ریٹرنگ آفیسر کو فریق بنایا تھا۔ تاہم 23 فروری کو الیکشن کمیشن نے دلائل مکمل ہونے پر پرویز رشید کی اپیل مسترد کر دی اور انہیں سینیٹ الیکشن کے لیے نا اہل قرار دے دیا۔ تاہم پاکستانی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کو پہلے ہی یقین تھا کہ پرویز رشید کو اس مرتبہ سینٹ الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف نے پرویز رشید پر اہم قومی راز افشاں کرنے، اداروں کے خلاف بات کرنے اور پنجاب ہاوَس کے 95 لاکھ روپے کے نادہندہ ہونے کی بنیاد پر اعتراضات داخل کیے تھے۔ دوسری طرف پرویز رشید کا کہنا ہے کہ انہیں ان خفیہ قوتوں کی ایما پر پر نااہل قرار دیا گیا ہے جو ماضی میں بھی ان کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ پرویز کا کہنا تھا کہ پاکستانی سسٹم عمران خان کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ واضح رہے کے پرویز رشید نہ صرف نواز شریف کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں بلکہ مریم نواز کے سیاسی اتالیق بھی مانے جاتے ہیں۔ مریم بھی انہیں اپنا استاد مانتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ جاتا ہے کہ انکے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کے پیچھے دراصل پرویز رشید ہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک پرویز رشید کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ یاد ریے کہ ماضی میں پرویز رشید کا نام ڈان لیکس میں بھی آیا اور ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ فوجی قیادت کے ساتھ ہونے والی اعلی سطح حکومتی میٹنگ سے متعلق معلومات پرویزرشید نے ڈان اخبار کو فراہم کیں۔ اس سکینڈل کے بعد پرویز رشید کو وزارت اطلاعات سے ہٹا دیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Close