بد تمیز خلیل الرحمٰن قمر دوبارہ خواتین سے جھگڑ پڑے


عورت کو دو ٹکے کا انسان قرار دینے والے اور اپنی گالیوں کی وجہ سے بدنام ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر نے ایک مرتبہ پھر ایک ٹی وی شو میں ’شادیوں اور طلاق‘ کے معاملے پر بحث کے دوران خاتون مہمان سے بدتمیزی کر ڈالی اور بعد ازاں پروگرام ادھورا چھوڑ کر چلے گئے۔
معلوم ہوا یے کہ خلیل الرحمٰن قمر نجی ٹی وی کے پروگرام میں سماجی رہنماؤں ایلیا زہرہ اور ناہید بیگ کے ہمراہ شریک تھے۔ پروگرام میں شادیوں، طلاق اور مرد و خواتین کے ازدواجی مسائل سمیت خاندانی زندگی پر بحث کے دوران میزبان نے ایک واقعہ بیان کیا کہ انہیں امریکا کے سفر کے دوران ایک عمر رسیدہ خاتون ملی تھیں، جنہوں نے چار شادیاں کیں اور ہھر چاروں شوہروں سے طلاق بھی لی۔
بعد ازاں میزبان نے پروگرام میں بحث کا آغاز ڈراما نگار خلیل الرحمٰن قمر سے کیا تو انہوں نے میزبان سے کہا کہ وہ مغربی ممالک کے قصوں کو پاکستانی معاشرے سے منسلک نہ کریں۔ خلیل قمر نے میزبان کو بتایا کہ انہیں مذکورہ موضوع چھیڑنے کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی امریکی خاتون کی جانب سے چار شادیوں کا ذکر پاکستان لڑکیوں کے سامنے کرنا ضروری تھا۔ ڈراما نگار نے میزبان کو کہا کہ وہ چار شادیاں کرنے والی خاتون کو ان کی جانب سے ’لعنت‘ بھیجیں۔ اس دوران میزبان کی جانب سے درمیان میں بولنے کی کوشش پر خلیل الرحمٰن قمر نے انہیں جھاڑ پلادی کہ وہ انہیں روکیں مت۔
پروگرام میں شریک سماجی رہنماؤں ایلیا زہرہ اور ناہید بیگ نے میزبان کے سوالوں پر یہ مووف اپنایا کہ خواتین کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ طلاق کے بعد دوسری شادی کریں۔
خواتین رہنماؤں کے مطابق بعض اوقات کچھ گھرانوں میں خواتین کو بچے پیدا کرنے کی مشینیں سمجھا جاتا ہے اور بیٹی کی پیدائش پر بھی انہیں تضحیک اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں خلیل الرحمٰن قمر نے وضاحت کی کہ وہ کسی بھی خاتون کی چار شادیوں کے خلاف نہیں ہیں، اگر کسی خاتون کی شادی کسی غلط مرد ہوگئی یا کچھ اور مسائل ہیں تو وہ خاتون طلاق لے سکتی ہیں اور وہ دوسری شادی کر سکتی ہیں۔ ڈراما نگار کے مطابق مذہب اسلام اور قانون نے بھی خواتین کو طلاق اور شادیوں کی اجازت دی ہے، تاہم کسی بھی طرح مغربی اور مشرقی خواتین کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
بعد ازاں خلیل الرحمٰن قمر میزبان کی جانب سے بار بار چار شادیوں کا ذکر کیے جانے پر بھی برہم ہوئے اور میزبان کو جھاڑ پلادی کہ وہ مذہب کے خلاف بات کر رہے ہیں۔ خلیل قمر نے پروگرام کے درمیان میں میزبان اور مہمانوں پر الزام عائد کیا کہ وہ مرد کی چار شادیوں کے خلاف بات کرکے مذہب کے خلاف بات کر رہے ہیں؟ جس پر خاتون مہمان ایلیا زہرہ نے درمیان میں بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ہم میں سے کسی نے بھی مذہب کے خلاف بات نہیں کی۔ لیکن خاتون مہمان کی جانب سے وضاحت کےلیے درمیان میں بولے جانے پر خلیل قمر برہم ہوگئے اور انہوں نے نہ صرف میزبان بلکہ مہمانوں کے خلاف بھی سخت لہجے میں تبصرہ کیا اور مائیک اتار کر پروگرام کے درمیان سے اٹھ کر چلے گئے۔
اسی دوران میزبان نے خلیل الرحمٰن قمر سے مہمانوں کو بھی بولنے کا موقع دینے اور ان کے ساتھ تمیز سے بات کرنے کی درخواست کی، تاہم ڈراما نگار میزبان اور مہمانوں پر برہمی کا اظہار کرکے چلے گئے۔ بعد ازاں خلیل قمر کی خواتین مہمانوں سے بد تمیزی پر سوشل میڈیا صزرفین نے ڈراما ساز کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ پروگرام کے میزبان نے بھی اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ خلیل قمر کو خواتین سے بات کرنے کا سلیقہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ خلیل الرحمٰن قمر نے گزشتہ برس بھی مارچ 2020 میں ایک ٹی وی پروگرام کے دوران سماجی رہنما ماروی سرمد کے خلاف نازیبا گفتگو کا استعمال کیا تھا۔ عورت مارچ پر بحث کے دوران ماروی سرمد کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا تھا جس پر انہیں خوب تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ خلیل الرحمٰن قمر نے ماروی سرمد کو ’گھٹیا عورت‘ کہتے ہوئے ان کے خلاف انتہائی نامناسب زبان استعمال کی تھی۔ ماروی نے پروگرام میں ’میرا جسم، میری مرضی‘ کا نعرہ لگایا تو خلیل الرحمٰن قمر مزید غصے میں آگئے اور انہوں نے انتہائی بدتمیزی سے خاتون رہنما کو بولا کہ ’بیچ میں مت بولو تم، تیرے جسم میں ہے کیا، اپنا جسم دیکھو جاکے‘۔ اس پر کوئی تھوکتا بھی نہیں ہے۔ خواتین کے حوالے سے خلیل الرحمان قمر کا ماضی ہمیشہ سے داغدار ہے۔ ان کی جانب سے ٹی وی چینل اور فون کالز پر خواتین کو دی گئی گالیاں اور ٹھرک بھری گفتگو سوشل میڈیا پر آج بھی وائرل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: