کیا اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ میں ڈیل کی باتیں سچ ہیں؟


سینیٹ الیکشن سے پہلے پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد کے مرکزی رہنماؤں کی جانب سے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کی مخالفت پر مبنی بیانیہ بتدریج تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے باہمی تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ نگار یاد دلاتے ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سب سے سخت بیانیہ لے کر چلنے والے میاں نواز شریف نے بھی اپنی گزشتہ چار تقاریر میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کوئی بات نہیں کی حالانکہ اس سے پہلے وہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کا نام لے کر ان کے سیاسی کردار پر تنقید کرتے چلے آ رہے تھے۔ 23 فروری کے روز نواز شریف لندن میں میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کی اور اس سے پہلے ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا۔ میاں صاحب نے دونوں مواقع پر ڈسکہ الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے گفتگو کی لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرنے سے گریز کیا۔ ان کی تنقید کا محور عمران خان حکومت رہی حالانکہ ان کے ماضی کے بیانیے کے مطابق ان کی اصل لڑائی اسٹبلشمنٹ سے ہے اور عمران خان صرف ایک مہرہ ہے۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کے دوران جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ وہ 2021 کو الیکشن کا سال دیکھتے ہیں یا 2022 کو تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ان حالات میں شاید اگلے چند ماہ میں ہی الیکشن ہوجائیں۔‘ نواز شریف نے کہا کہ لیگی ورکرز نئے الیکشن کے لیے تیار رہیں۔ انکا مذید کہنا تھا کہ اب تک سات ضمنی انتخابات ہوئے ہیں اور پی ٹی آئی ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی جس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ اگلے الیکشن میں میں عمران خان کا کیا حال ہوگا۔ نواز شریف نے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے اپنے ویڈیو پیغام میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈسکہ میں ’ووٹ چوری‘ میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دے تاکہ آئندہ کوئی عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی جرات نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ 20 پریزائیڈنگ آفیسرز قانون کا مذاق اڑاتے ہوئے ووٹ کے ڈبوں کے ساتھ غائب کر دیے گئے اور جب وہ 14 گھنٹوں کے بعد دھند سے نمودار ہوئے تو ان پولنگ سٹیشنوں پر ووٹنگ کی شرح 80 فیصد تک پہنچ چکی تھی حالانکہ ڈسکہ کے باقی تمام حلقوں میں یہ شرح 35 فیصد رہی۔ نواز شریف کے مطابق ڈسکہ واقعے نے 2018 کے الیکشن میں ووٹ چوری کے تمام منصوبوں کو بے نقاب کر دیا ہے

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ رزلٹ میں تاخیر ہو جائیں تو جان لو کہ گڑبڑ ہورہی ہے اور نتائج تبدیل کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا ڈسکہ میں عوام نے اپنی رائے کا واضح اظہار کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ پر اعتماد کا اظہار کیا۔

ماضی میں الیکشن کمیشن کو 2018 کی دھاندلی کا ذمہ دار قرار دینے والے نواز شریف نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ کس کے کہنے پر اسکے عملے کو اغوا کیا گیا اور کس کے کہنے پر چیف سیکریٹری، آئی جی پنجاب اور سیالکوٹ اور ڈسکہ کے پولیس حکام نے الیکشن کمیشن کے ساتھ آئینی فرائض کی انجام دہی میں تعاون نہیں کیا؟‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے پہلے ڈسکہ الیکشن کے اگلے روز مریم نواز نے بھی ایک پریس کانفرنس کے دوران الیکشن کمیشن کے کردار کی تعریف کی تھی حالانکہ وہ ماضی میں الیکشن کمیشن کو عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس لٹکانے کا ذمہ دار قرار دیتی رہی ہیں۔ اس حوالے سے لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ دس کا الیکشن سے پہلے پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد کی قیادت کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ وہ ضمنی الیکشن میں نیوٹرل رہے گی اور اپوزیشن کو اس کی جانب سے کوئی مسئلہ درپیش نہیں آئے گا۔ دس کا الیکشن سے فوری پہلے فوجی ترجمان نے بھی ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا تھا کہ فوج غیر سیاسی ہے اور اس کا کسی بھی حوالے سے کوئی سیاسی کردار نہیں۔ لیگ ذرائع کہتے ہیں کہ شاید اسی وجہ سے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی صرف ایک سیٹ جیتنے میں کامیاب ہو سکی اور نوشہرہ میں اپنے گھر سے ہی ہار گئی۔

اسی طرح سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور رانا ثناللہ خان کے اسٹیبلشمنٹ سے متعلق حالیہ مثبت بیانات پر بھی کئی حلقے حیران ہیں اور سوال کر رہے ہیں کہ آیا پی ڈی ایم اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے سے پیچھے ہٹ گئی ہے اور اگر ایسا ہے تو اس کی وجہ کیا کوئی ڈیل ہے۔ کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی مرکزی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک بار پھر ملک کی طاقت ور ریاستی قوتوں کے ساتھ اپنے معاملات تھیک کرنے میں لگ گئی ہیں اور موجودہ بیانات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

یاد ریے کہ اقتدار سے نکلنے کے بعد نواز شریف نے ڈھکے چھپے لفظوں میں فوجی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں دونوں اطراف کے باہمی تعلقات میں نیشب وفراز آتے رہے۔ یہاں تک کہ نواز شریف کو علاج کیلئے لندن جانے کی اجازت مل گئی جس کے کچھ عرصے بعد ن لیگ نے جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی بھی حمایت کی۔ تاہم اس حمایت کے بدلے جو وعدے کیے گئے تھے وہ پورے نہ ہونے کے بعد گزشتہ برس نواز شریف نے اچانک پی ڈی ایم کے اجلاس میں ارمی چیف جنرل قمر باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ فیض حمید پر تنقید کے نشتر چلائے۔ بعد ازاں انہوں نے گوجرنوالہ کے جلسے میں بھی فوج پر تنقید جاری رکھی، اور انہیں الیکشن 2018 میں دھاندلی کے ذریعے عمران کو برسر اقتدار لانے کا الزام عائد کر دیا۔ اس تنقید کا مقتدر حلقوں میں بہت برا منایا گیا اور پاکستانی میڈیا پر نواز شریف کی تقریر دکھانے یا اسے شائع کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی جو آج دن تک برقرار ہے۔

ڈسکہ کے ضمنی الیکشن والے دن بھی لیگی کارکنوں نے دھاندلی ہونے کے بعد باجوہ مخالف نعرے لگائے، جو سوشل میڈیا پر شیئر بھی کیے گئے۔ لیکن ابھی ان نعروں کی گونج عوام کے حافظے میں باقی تھی کہ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے ملک کے طاقت ور اداروں کو کلین چٹ دے دی۔ ساتھ ہی ‘سلیکٹرز اور سلیکٹڈ‘ دونوں کو سبق سکھانے کا عزم رکھنے والے بلاول بھٹو زرداری کی پیپلز پارٹی کے ایک اہم رکن اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جی ایچ کیو کو بالکل ہی غیر جانبدار قرار دے دیا۔ اس پیش رفت کے بعد کئی حلقوں میں پی ڈی ایم کے فوجی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی یوسف رضا گیلانی کے اس بیان کی حمایت کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ تاہم اسکے ساتھ وہ اپنے اس بیانیے کا اعادہ بھی کرتی ہے، جس کے مطابق فوج کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ گیلانی ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں اور ان کا بیان سیاسی فہم و فراست کی عکاسی کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کے مطابق ‘یوسف رضا پیپلز پارٹی کی پوزیشن یہ ہے کہ آرمی کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیے اور آئین کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نا تو آئینی طور پر ہے اور نہ ہی ہونا چاہیے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے خود بھی اس بات کی وضاحت کی ہے کہ فوج کا سیاست سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ تو ہمیں فوجی ترجمان کی بات کو وزن تو دینا چاہیے اور ان کے اس بیان کو صرف زبانی جمع خرچ نہیں سمجھنا چاہیے۔‘‘

کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ فوج غیر جانبدار رہے۔ انہوں نے کہا، ”ہماری یہ خواہش بھی ہے اور توقع بھی، کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی آئینی حدود میں رہے گی۔ یہی بات اسٹیبلشمنٹ اور اداروں کے لیے بھی بہتر ہے اور ملک کے لیے بھی۔ پاکستانی فوج پہلے ہی جان پر کھیلتے ہوئے اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے لڑ رہی ہے۔ تو یہ اس کے لیے کسی بھی طور بہتر نہیں ہو گا کہ کوئی اس کو سیاست میں گھسیٹے یا اسے سیاست میں ملوث کرے۔‘

دوسری جانب مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ اس نے نواز شریف کے بیانیے کو چھوڑا نہیں ہے اور رانا ثناء اللہ کا بیان اس بات کی عکاسی نہیں کرتا کہ پارٹی کے دل میں اسٹیبلشمنٹ کے لیے کوئی نرم گوشہ پیدا ہو گیا ہے۔ پارٹی کے رہنما اور پارلیمانی ایوان بالا کے رکن سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کے بیان میں کوئی نرم گوشے والی بات نہیں ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ رانا ثناء اللہ خود ڈسکہ میں موجود تھے اور وہاں الیکشن مانیٹر کر رہے تھے۔ وہ پنجاب کی الیکشن سیاست کو سمجھتے ہیں۔ اگر وہ کہہ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا اس دھاندلی میں کوئی ہاتھ نہیں، تو ہم زبردستی کسی پر الزام لگانے کے لیے تو نہیں بیٹھے۔ یہ ملک اور سیاست دونوں کے لیے اچھی بات ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں ملوث نہیں۔‘‘ سینیٹر جاوید عباسی کا مزید کہنا تھا کہ نوشہرہ میں بھی انتخابات ہوئے ہیں، ”وہاں سے بھی ہمیں یہی پتہ چلا ہے کہ انتخابات انتہائی صاف اور شفاف ہوئے ہیں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ملکی سیاست میں ملوث نہیں اور اگر ایسا ہے تو یہ ملک، سیاست اور مسلم لیگ ن سب کے لیے بہتر ہے۔‘‘

تاہم کچھ ناقدین مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی طرف سے ان وضاحتوں کو ماننے سے انکاری ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ دونوں اپوزیشن جماعتوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مک مکا کر لیا ہے اور دونوں ہی اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے چکر میں ہیں۔ جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے سابق ترجمان اور مولانا فضل الرحمان کے بہت بڑے ناقد حافظ حسین احمد نے کہا کہ نواز شریف کا بیانیہ رانا ثناء اللہ کے بیان کے بعد ‘ڈوب گیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف نواز شریف اسٹیبلشمنٹ پر اور پورے سسٹم پر تنقید کر رہے ہیں جبکہ رانا ثناء اللہ الیکشن کمیشن کی تعریف و توصیف میں لگے ہوئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی الیکشن سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ایسے کوئی شواہد ملے ہیں کہ وہاں ہونے والی دھاندلی میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی ہاتھ تھا۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ ن لیگ بھی اسٹیبلشمنٹ کو رام کرنے کے چکر میں ہے اور پیپلز پارٹی بھی اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

حافظ حسین احمد کا مزید کہنا تھا کہ آصف زرداری چاہتے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کو اسی طرح سینیٹ کا چیئرمین منتخب کرا دیا جائے جس طرح صادق سنجرانی کو کروایا گیا تھا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اُسوقت تو پی ٹی آئی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تھی۔ اب پی ٹی آئی یہ کیسے برداشت کر لے گی کہ گیلانی سینیٹ کے چیئرمین بن جائیں۔ انہون نے کہا کہ عمران خان تو کافی عرصے سے خواب دیکھ رہے ہیں، کہ سینیٹ میں ان کی اکثریت ہو۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ اس کے ساتھ ہے۔ مگر عمران خان اس صورتحال کو برداشت نہیں کریں گے اور سیاسی ماحول میں آنے والے دنوں میں مزید حدت آئے گی۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس صورت حال نے جے یوآئی ایف اور پی ڈی ایم میں شامل دوسری اسٹیبلشمنٹ مخالف جماعتوں کے لیے ایک عجیب صورت حال پیدا کر دی ہے اور وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر ن لیگ اور پی پی پی کیا چاہتی ہیں؟ کئی تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس صورت حال سے پی ڈی ایم کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کو دھچکا لگے گا اور عوام یہاں تک کہ خود مسلم لیگ ن کے کارکن بھی اس بیانیے کو شبے کی نظر سے دیکھیں گے۔ تمام دوسری جانب ایسے تجزیہ کار بھی موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر اپوزیشن نے واقعی عمران خان کو اقتدار سے نکالنا ہے تو انہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے معاملات بہتر کرنا ہوں گے اور اس وقت یہی کوشش جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close