اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کے دوران کونسی غذائیں لینی چاہئیں؟

دواؤں میں سب سے زیادہ کیمیکل سے لبریز اور طاقت ور دوائیں اینٹی بائیوٹک ہوتی ہیں جن کا استعمال بیکٹیرئیل انفیکشن کے خاتمے کےلیے کیا جاتا ہے، ان دواؤں کے استعمال کے دوران ڈائریا یا جگر کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے، اینٹی بائیوٹک کے استعمال کے دوران دواؤں کے منفی اثرات کو زائل کرنے کےلیے کچھ غذائیں انسانی صحت کےلیے معاون ثابت ہوتی ہیں جب کہ کچھ غذائیں مزید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
اینٹی بائیوٹک دوائیں انسانی جسم میں ہونے والے وائرل، بیکٹیرئیل انفیکشن کے خاتمے اور اسے بڑھنے سے روکنے کےلیے استعمال کی جاتی ہیں، ان میں کچھ دوائیں پورے جسم سے بیکٹیریا نکال پھینکنے کےلیے استعمال کی جاتی ہیں جب کہ کچھ صرف مخصوص بیکٹیریا کی افزائش روکنے کےلیے ہوتی ہیں۔ اکثر اوقات ان دواؤں کے استعمال سے آنتوں میں موجود گُڈ بیکٹیریا یعنی کے انسانی صحت کےلیے ضروری اور مثبت بکٹیریا کو بھی نقصان پہنچتا ہے جنہیں سائنسی زبان میں ’ گَٹ مائیکروبائیو ٹا ‘ کہا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ایک ہفتے کے دوران لی گئی اینٹی بائیوٹکس ایک سال تک انسانی جسم پر منفی اثرات چھوڑ سکتی ہیں، اینٹی بائیو ٹکس کے استعمال سے آنتوں میں موجود گُڈ بیکٹیریا کے خاتمے کے نتیجے میں موٹاپا اور وزن میں اچانک اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ اینٹی بائیوٹک کے استعمال کے دوران مجموعی صحت برقرار رکھنے اور معدے، آنتوں کے نظام کو متاثر ہونے سے بچانے کےلیے بہتر اور ڈاکٹروں کی تجویز کردہ مثبت غذاؤں سے مدد لی جا سکتی ہے۔ ڈائریا، معدے میں موجود گُڈ بیکٹیریا کو متاثر ہونے اور جسم میں موجود پروبائیوٹکس کو اینٹی بائیو ٹک کے مضر اثرات سے بچانے کےلیے ایسی غذاؤں کا استعمال کرنا لازمی ہے جن میں قدرتی طور پر پرو بائیوٹکس اور اینٹی بائیو ٹکس کے مضر اثرات سے بچنے کی صلاحیت موجود ہو۔ اینٹی بائیو ٹک کے استعمال کے دوران فرمینٹڈ فوڈ یعنی کہ پانی یا سرکے میں بھیگی ہوئی غذا کا استعمال کرنا چاہیے، ان غذاؤں میں پنیر، دہی، کمچی، اچار اور مختلف چٹنیاں وغیرہ شامل ہیں۔ طبی و غذائی ماہرین کے مطابق فرمینٹد فوڈ صحت کےلیے اور پرو بائیوٹک حاصل کرنے کےلیے نہایت مفید غذائیں ہیں، ان کے استعمال سے انسانی معدے کی صحت بگڑنے کے بچائے بہتر ہوتی ہے، مزید پرو بائیو ٹک حاصل کرنے کےلیے دہی کا براہ راست یا بطور رائتہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فائبر معدے کی صحت، کولیسٹرول لیول متوازن اور مضر صحت مادوں کے اخراج کےلیے معاون ہے، فائبر سے بھر پور غذاؤں کے استعمال سے نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔ فائبر کی زیادہ سے زیادہ مقدار حاصل کرنے کےلیے چکی کے آٹے کی روٹی، براؤن بریڈ، خشک میوہ جات، بیج، دالیں، بیریز، بروکولی، مٹر ، کیلا اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں۔ فائبر کا استعمال دواؤں کے مضر اثرات کو کم کرتا ہے اور دواؤں کے ہضم ہونے میں آسانی پیدا کرتا ہے اینٹی بائیو ٹک دواؤں کے ختم ہوتے ہی فائبر سے بھر پور غذاؤں پر زیادہ زور دیں۔ جن غذاؤں میں کیلشیم پایا جاتا ہے ان کے استعمال سے اینٹی بائیو ٹک دواؤں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ کیلشیم کا استعمال متعدد اینٹی بائیو ٹک کے ہضم ہونے میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے جب کہ دہی کا استعمال کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اس میں مختلف اینٹی بائیوٹک کے خلاف کوئی منفی بیکٹیریا نہیں پایا جاتا۔ ماہرین کے مطابق اینٹی بائیو ٹک کے استعمال کے دوران چکوترے سمیت ایسی غذاؤں سے بالکل پر ہیز کرنا چاہیے جن میں کیلشیم پایا جاتا ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: