کمپیوٹر کی غلطی؛ سیکڑوں قیدی مہینوں تک رہائی سے محروم

امریکی ریاست ایریزونا میں سیکڑوں قیدی اپنی رہائی کی تاریخ گزر جانے کے باوجود کئی مہینوں سے قید ہیں، جس کی وجہ کمپیوٹر پروگرام کی خامیاں ہیں جنہیں تقریباً ڈیڑھ سال بعد بھی دور نہیں کیا گیا۔
خبروں کے مطابق ’ایریزونا ڈپارٹمنٹ آف کریکشنز‘ (محکمہ جیل خانہ جات) نے پوری اسٹیٹ کی جیلوں میں قیدیوں کی معلومات اور ان کی رہائی سے متعلق امور کو خودکار بنانے کےلیے 2019 میں ایک خصوصی سافٹ ویئر ’ایریزونا کریکشنل انفارمیشن سسٹم‘ (اے سی آئی ایس) بنوایا تھا۔ اگرچہ اس سافٹ ویئر کی تیاری پر ایریزونا گورنمنٹ کی جانب سے 24 ملین ڈالر خرچ کیے گئے لیکن آزمائش کے دوران اس میں ہزاروں تکنیکی خرابیاں سامنے آئیں جن کے بارے میں وہاں کے عملے نے اعلی حکام کو بتا دیا۔ تاہم ایریزونا محکمہ جیل خانہ جات کے اعلی حکام نے عملے کی تمام شکایات اور تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے، نومبر 2019 سے یہ سافٹ ویئر استعمال کرنا شروع کردیا۔ تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اے سی آئی ایس‘ میں 14 ہزار تکنیکی خامیاں سامنے آئی تھیں جن کے بارے میں اعلی حکام کو خبردار بھی کردیا گیا تھا۔ لیکن حکام نے تمام ملازمین کو ’خاموش رہنے‘ کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس سافٹ ویئر پر خطیر رقم خرچ ہوچکی ہے لہٰذا اس کا استعمال ہر صورت میں شروع کردیا جائے گا۔ اسی دوران امریکی کانگریس نے قیدیوں کی رہائی سے متعلق ایک نیا قانون بھی منظور کرلیا جس کے تحت کچھ مخصوص شرائط پر پورے اترنے والے قیدیوں کی سزا میں کمی کرتے ہوئے انہیں کچھ پہلے رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ لیکن ’اے سی آئی ایس‘ کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے کے باوجود بھی نئے قانون کے مطابق کی گئی تبدیلیوں پر عملدرآمد نہیں کر پایا۔ یہ صورتِ حال گزشتہ 16 ماہ سے جوں کی توں برقرار ہے اور ایریزونا کی جیلوں میں سیکڑوں قیدی صرف سافٹ ویئر کی خرابی کے باعث قید ہیں، حالانکہ ان کی رہائی کا وقت گزرے ہوئے بھی کئی مہینے گزر چکے ہیں۔ ویسے تو سافٹ ویئر کی خرابی سے دنیا میں تقریباً روزانہ ہی کچھ نہ کچھ مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن یہ واقعہ اس لحاظ سے مختلف اور زیادہ سنگین ہے کیوں کہ سافٹ ویئر کی خرابی نے سیکڑوں قیدیوں کو مہینوں تک رہائی سے محروم رکھا ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: