ڈسکہ دھاندلی میں کونسے حکومتی لوگ بے نقاب ہونے والے ہیں؟


ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں دھاندلی کے اصل حکومتی منصوبہ سازوں کا بچنا اب مزید مشکل ہو گیا یے کیوںکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے متعلقہ ایجنسیوں سے اُن 20 پریزائڈنگ افسران کے موبائل فون نمبرز کی کالز کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے جو ڈسکہ میں الیکشن کے روز پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں سے بھرے تھیلوں سمیت گہری دھند میں ’’گم‘‘ کر دیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے ابھی دھانلی میں ملوث ان 20 پریزائڈنگ آفیسرز کی سزاوں کا تعین کرنا ہے جس سے پہلے یہ تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ انہوں نے دھند میں غائب ہونے کا فیصلہ کن لوگوں کے دباؤ پر کیا تاکہ اصل منصوبہ سازوں تک بھی پہنچا جائے۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے رابطہ کیا ہے جس کے بعد پی ٹی اے نے حکومت سے رابطہ کیا ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ الیکشن کمیشن کو متعلقہ معلومات فراہم کرنا ہے یا نہیں۔ قانون کے تحت ہر سرکاری ادارہ اور ایجنسی کا فرض ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں معاونت کرے تاکہ آزاد اور شفاف الیکشن کرائے جا سکیں۔
الیکشن کمیشن کے کسی حکم کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تاوقتیکہ سپریم کورٹ آف پاکستان اس پر حکمِ امتناع جاری نہ کر دے یا پھر اسے کالعدم قرار دیدے۔ وجہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے کسی بھی فیصلے کی اہمیت ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق مساوی ہوتی ہے اور اس پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
چنانچہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ہر صورت میں الیکشن کمیشن کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان 20 پریذائیڈنگ افسران کا ٹیلی فون ڈیٹا دینا پڑے گا جس سے ان لوگوں کے نام سامنے آ جائیں گے جو الیکشن کے روز دھاندلی کے لیے ان کی ڈوریاں ہلا رہے تھے۔ ان لوگوں کے ٹیلی فون ریکارڈ تک الیکشن کمیشن کی رسائی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اسکی مدد سے دھند میں غائب ہونے والے 20؍ پریزائڈنگ افسران کی الیکشن خے دن کی سرگرمیوں کا پتہ چل سکے گا، یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ یہ لوگ پولنگ اور ووٹوں کی گنتی کے بعد ریٹرننگ افسر کے پاس جانے کی بجائے کس جگہ پر اور کس کے کہنے پر اکٹھے ہوئے تھے اور پھر انہوں نے رات کہاں گزاری۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن پہلے ہی فیصلہ کر چکا ہے کہ ان 20 پریزائڈنگ افسران کے خلاف مثالی کاروائی کی جانی ہے تاکہ ان کو نشان عبرت بنایا جا سکے۔ اسی لیے ان کے ٹرائل کا معاملہ سیشن کورٹ بھیجا جائے گا۔ اس سے پہلے نون لیگ نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ ’’گمشدہ‘‘ پریزائڈنگ افسران نتائج کو حتمی شکل دینے کیلئے ریٹرننگ افسران کے پاس جانے کی بجائے غائب ہوگئے اور ایک مقامی فارم ہائوس پر جمع ہوئے جہاں متعلقہ بِیس پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج تبدیل کیے گئے۔ اگلی صبح 6 بجے تک یہ پریزائڈنگ افسران غائب رہے اور ریٹرننگ افسر اور الیکشن کمیشن ان کا کھوج لگانے میں ناکام رہا۔ ای سی پی پولیس اور سویلین انتظامیہ کے تمام متعلقہ حکام سے رابطہ کرتا رہا لیکن کوئی دستیاب نہیں تھا۔ الیکشن کے اگلے دن ای سی پی نے اپنی پریس ریلیز میں بتایا کہ صرف چیف سیکریٹری پنجاب سے رات تین بجے ایک مرتبہ رابطہ ہوا تھا لیکن وہ بھی کمیشن کو گمشدہ پریزائڈنگ افسران کی معلومات فراہم نہ کر سکے۔ آئی جی پولیس پنجاب، کمشنر اور آر پی او گجرانوالہ، متعلقہ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او سے بھی کمیشن نے رابطہ کیا لیکن یہ بھی دستیاب نہیں تھے۔ چنانچہ الیکشن کمیشن نے ڈسکہ کے الیکشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس کو چار مارچ کو طلب کرلیا اور ساتھ ہی کمشنر اور آر پی او گجرانوالہ کو ہٹانے جبکہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او، دو اسسٹنٹ کمشنر اور دو ڈی ایس پیز کو معطل کرنے کا حکم دیا۔
الیکشن کمیشن کو ابھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اِن سویلین انتظامیہ کے عہدیداروں اور پولیس افسران کیخلاف انکوائری کمیشن کود کرے گا یا ان کا معاملہ وفاقی اور پنجاب حکومت کو تحقیقات کیلئے بھیجے گا۔ اگر ای سی پی نے ان افسران کیخلاف خود انکوائری کا فیصلہ کیا تو یہ صورتحال اُن حکومتی لوگوں کیلئے باعثِ پریشانی ہوگی جنہوں نے ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں دھاندلی کی منصوبہ بنایا اور اس پر پس پردہ رہتے ہوئے عمل بھی کیا۔
اس معاملے سے آگاہ ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت الیکشن کمیشن کی جانب سے معطل کیے گے اور ہٹائے گئے سول اور پولیس افسران کیخلاف کارروائی کرنے اور آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب کو طلب کرنے کے فیصلوں سے کافی پریشان ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ اگر ان افسران کو آزاد انکوائری کا سامنا کرنا پڑا تو یہ اُن افراد کے نام بتا دیں گے جن کے کہنے پر وہ دھاندلی میں مدد کر رہے تھے۔ چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کو یقین ہے کہ یہ افسران اپنے تئیں کام نہیں کر رہے تھے اور انہیں وزیر اعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری، فردوس عاشق اعوان اور عثمان ڈار کی جانب سے مسلسل ہدایات موصول ہو رہی تھیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کی رات 20 پولنگ اسٹیشنز کے ریٹرننگ افسران کے دھند میں غائب ہو جانے کا منصوبہ بھی وزیراعظم کی نگرانی میں کام کرنے والے خفیہ ادارے انٹیلی جنس بیورو نے تشکیل دیا تھا جس میں سپیشل برانچ کے اہلکاروں نے اس کی مدد کی۔ لیکن جس حرکت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو سخت کاروائی کرنے پر مجبور کیا وہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے فون نہ سننا اور ان کے احکامات پر عملدرآمد نہ کرنا تھا۔ اسی لئے ان دونوں افسران کو الیکشن کمیشن نے 4 مارچ کو اسلام آباد طلب کر رکھا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب اب چار مارچ کو بچ جاتے ہیں یا گھر جاتے ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: