الیکشن کمیشن نے حکومتی امیدوں پر پانی پھیر دیا

سینیٹ الیکشن سے ایک روز پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اس اعلان نے حکومتی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے کہ وقت کی کمی کے باعث 3 مارچ کو ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں آئین اور قانون کے مطابق خفیہ رائے شماری کا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ لہذا اب سینیٹ الیکشن میں ڈالے جانے والے ووٹوں پر کسی قسم کا کوئی بارکوڈ یا سیریل نمبر لگانے کے امکانات مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں، جیسا کہ حکومت نے سپریم کورٹ سے صدارتی ریفرنس پر آنے والی رائے کے بعد مطالبہ کیا تھا۔

یکم مارچ کو الیکشن کمیشن کے اجلاس کے حوالے سے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی رائے پر عملدرآمد کے لیے ای سی پی نے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں سپیشل سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی اور پنجاب کے جوائنٹ صوبائی الیکشن کمشنر سعید گل شامل ہیں۔ لیکن الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ تین رکنی کمیٹی آئندہ چار ہفتوں میں تجاویز پیش کرے گی کہ سینیٹ کے آئیندہ انتخابات میں ٹیکنالوجی کیسے استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں نادرا، ایف آئی اے، اور آئی ٹی کی وزارت سے بھی مدد لی جائے گی۔ یاد رہے کہ صدر مملکت نے اوپن بیلٹنگ کے لیے سپریم کورٹ سے رائے مانگی تھی اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی رائے سے مشروط ایک صدارتی آرڈیننس بھی جاری کیا تھا۔ اس ریفرنس کے جواب میں یکم مارچ کو عدالت عظمیٰ نے ایوان بالا کے انتخابات میں خفیہ رائے شماری برقرار رکھنے مگر ووٹنگ کا عمل شفاف بنانے کی رائے دی تھی۔ تاہم حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے ہی سپریم کورٹ کی اس ’تاریخی‘ رائے کا خیر مقدم کیا گیا اور دونوں فریق اسے اپنے، اپنے حق میں ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھ رہے تھے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے فوری بعد حکومتی وزرا کے وقت نے چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ سینٹ الیکشن میں ڈالے جانے والے بیلٹ پیپرز پر خفیہ بار کوڈ یا سیریل نمبر لگایا جائے تاکہ سپریم کورٹ کی رائے کی روشنی میں میں ووٹ ڈالنے والے کا پتہ چل سکے۔ حکومتی وزرا فواد چودھری اور بابر اعوان کا موقف تھا کہ عدالت کے فیصلے سے ان کے موقف کو تقویت ملی ہے جس میں الیکشن کمیشن کو ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ووٹنگ کے عمل کو شفاف بنانے حکم دیا گیا ہے اور یہ ریمارکس دیے گئے ہیں کہ ووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رہ سکتا۔ تاہم اب اس حکومتی خواہش پر پانی پھر گیا ہے اور الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ وقت کی کمی کے باعث ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے بھی سپریم کورٹ نے ایک رائے دی ہے اور کوئی فیصلہ جاری نہیں کیا جس پر عمل درآمد کرنا الیکشن کمیشن کی مجبوری ہو۔

جبکہ دوسری طرف حزب مخالف کی جماعتوں نے 3 مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات سے قبل سپریم کورٹ کے فیصلے کو حکومت کی ایک بڑی شکست قرار دیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ سینیٹ الیکشن کا طریقہ کار بدلنے کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے جو کہ پارلیمنٹ کا حق ہے اور اس حوالے سے عدالت کوئی فیصلہ نہیں دے سکتی۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے ذریعے جو سوال بھیجا گیا تھا اس کا جواب نفی میں ملا ہے اور صدارتی ریفرنس کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں شامل ایک جج جسٹس یحیی آفریدی نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ صدارتی ریفرنس اس قابل بھی نہیں کہ اس کو سنا جائے چونکہ جو نکتہ صدر پاکستان نے ریفرنس میں اٹھایا وہ قانونی نہیں ہے۔
صدارتی ریفرنس پر فیصلہ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے چار ایک کی اکثریت سے سنایا جس میں جسٹس یحیی آفریدی نے اختلافی نوٹ لکھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سینیٹ کے انتخابات آئین کے تحت ہوں گے اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہوگی کہ اسے شفاف بنایا جائے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سینیٹ انتخابات آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت ہوں گے۔ ‘سینیٹ انتخابات آئین اور قانون کے تحت ہوتے ہیں۔۔۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ شفاف اور کرپٹ باتوں سے الیکشن کو محفوظ بنائے۔’ عدالت نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کے لیے تمام اقدامات کر سکتا ہے اور انتخابی عمل سے کرپشن ختم کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ ‘تمام ادارے الیکشن کمیشن کیساتھ تعاون کے پابند ہیں۔۔۔ ووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رہ سکتا۔’ اس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کرسکتا ہے جبکہ تمام ادارے الیکشن کمیشن کے پابند ہیں۔ فیصلے کے مطابق ‘بیلٹ پیپر کا خفیہ ہونا حتمی نہیں ہے۔۔۔ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنا سکتا ہے۔‘

دوسری طرف فیصلے کے بعد اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ ‘سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے، خیر مقدم کرتے ہیں۔ ‘عدالت کی جانب سے بیلٹ کی سیکریسی دائمی نہ ہونے کی رائے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ تین مارچ کے سینٹ انتخابات کے لیے عدالت نے واضح طور الیکشن کمیشن کو ٹیکنالوجی کے استعمال کرنے کا کہہ دیا ہے۔’ تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے حکومتی مطالبہ رد کیے جانے کے بعد اپوزیشن کی جانب سے اٹارنی جنرل آف پاکستان سے استعفی مانگا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے سینیٹ الیکشن پرانے طریقہ کار پر کروانے کے اعلان کو حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کی بڑی شکست قرار دیا ہے۔ اس موقع پر مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت کو سینیٹ الیکشن سے پہلے ہی شکست کا سامنا ہے۔ ‘ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ آئین، ووٹ چوروں کی چالبازیوں، بدنیتی پہ مبنی ریفرنسوں اور سازشی آرڈینینسوں سے بہت بالاتر ہے۔ انہون نے کہا کہ اب کھمبے نوچتی کھسیانی بلیاں ٹیکنالوجی کا واویلا کر رہی ہیں۔ یاد رکھو کہ کوئی آر ٹی ایس اور ڈسکہ دھند ٹیکنالوجی اب نہیں چلے گی! ووٹ کی طاقت سے ڈرتے کیوں ہو؟’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: