کیا سینٹ الیکشن سے کپتان حکومت کے زوال کا آغاز ہوگا؟

سپریم کورٹ کی جانب سے سینیٹ الیکشن آئین کے تحت خفیہ رائے دہی کے طریقہ کار پر کروانے کا فیصلہ آتے ہی حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ ایوان بالا کے الیکشن نتائج میں بڑے اپ سیٹ کے امکانات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ شاید اسی وجہ سے حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو اپنی مرضی کا رنگ دینے کی کوشش میں الیکشن کمیشن سے یہ مطالبہ کردیا ہے کہ وہ سینٹ الیکشن میں ڈالے جانے والے بیلٹ پیپرز پر بارکوڈ یا سیریل نمبر لگائے حالانکہ آئین میں اسکی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر بتادیا ہے کہ سینیٹ کا الیکشن آئین کے تحت ہوگا اور خفیہ رائے شماری کا طریقہ کار اپنایا جائے گا لہذا بیلٹ پیپرز پر کوئی بار کوڈ لگانے یا سیریل نمبر لگانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اس سے ووٹ کے خفیہ رہنے کی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔

ان حلات میں اپوزیشن حلقے سینٹ الیکشن میں حکومت کے لیے بڑے اب سیٹ کے امکانات ظاہر کر رہے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ اسلام آباد سے سینٹ کی سیٹ کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی وزیراعظم عمران خان کے امپورٹڈ مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ کو ہرانے جا رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو عمران حکومت شدید مشکلات کا شکار ہو جائے گی اور معاملہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی طرف چلا جائے گا جس کے بعد اپوزیشن سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی منصوبہ بندی کیے بیٹھی ہے۔

موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی اپنے تازہ ترین تجزیہ میں کہتی ہیں کہ جو بے مول تھے وہ ان مول اور جو بے وقعت تھے وہ گراں قدر ہو رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں میں ’پاوری‘ ہو رہی ہے اور وہ آنے والے دنوں کے خوش کُن خیال سے نہال دکھائی دے رہے ہیں۔ موسم بدل رہا ہے اور محکمۂ زراعت کہلانے والا محکمہ موسمیات بھی۔ وہ کہتی ہیں کہ لانگ مارچ کا موسم بھی قریب ہے اور اس موسم کے تقاضے بھی الگ ہیں۔ چنانچہ محکمہ موسمیات کے سیانوں نے بھی بھانپ لیا ہوگا کہ اس سے زیادہ دریاؤں کے سامنے بند باندھنے کی کوشش کی گئی تو سیلاب کو روکا نہ جا سکے گا بلکہ تباہی ہو گی۔ لہذا بہتری اسی میں ہے کہ حالات اور وقت کی نزاکت کو سمجھا جائے۔ ان حالات میں حکومت کی کشتی بیچ منجدھار میں ہے، کشتی پار لگ گئی تو لگ گئی۔۔۔ نہیں تو ادارے کا آگے پیش آنے والے حالات و واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔

سینیٹ انتخابات سے قبل حکومت کی اوپن بیلٹ کی ناکام انتخابی چال پر سپریم کورٹ کی آئین کے مطابق رائے اور دوسری جانب ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں حکومتی دھاندلی پر الیکشن کمیشن کے دلیرانہ فیصلوں سے یہی تائثر مل رہا یے کہ اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہو جانے کی اپوزیشن کی مراد بر آئی ہے۔ یعنی فی الحال ہر طرف سے صدا ہے کہ اب کی بار ادارہ سیاست سے لا تعلق ہے۔ اور شاید اسی لیے الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ نے حکومتی خواہش کے برعکس فیصلے دیے ہیں۔ یہ خبر البتہ حکومتی حلقوں میں اضطراب پیدا کر چکی ہے کہ یہ آنا فانا ہواؤں کا رُخ کیوں بدل رہا ہے۔

عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ آصف زرداری پھر بھاری پڑنے لگے ہیں اور نواز شریف بھی کافی حد تک مطمئن دکھائی دے رہے ہیں۔ جوڑ توڑ اس وقت اپنے عروج پر ہے، رابطے آخری مراحل میں اور وعدے یقین دہانیوں میں بدل رہے ہیں۔ ان حالات میں سینیٹ کی ایک نشست تمام انتخابات پر بھاری ہو چکی ہے۔ پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتیں اپنے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے انتخاب پر فخر و تحسین، داد و تعریف کے ڈونگرے برسا رہی ہیں اور گیلانی صاحب اس سینیٹ الیکشن کا مرکز بن چکے ہیں۔ سابق سیاست دان ہوں یا خاندانی اثر و رسوخ، ذاتی مراسم ہوں یا آپسی وضع داری۔۔۔ گیلانی صاحب ہر امتحان پر پورا اترتے ہیں۔ سو اپنی سی کوشش اور کاوش جاری ہے کہ کہیں کسی وقت تیر نشانے پر لگے۔ خفیہ ووٹ میں گیلانی صاحب پُراُمید ہیں کہ فتح اُن کا مقدر بنے گی اور یہی اسٹیبلشمنٹ کے بظاہر نیوٹرل رہنے کا ٹیسٹ بھی ہو گا۔ پی ڈی ایم اس صورت حال پر ہر گھڑی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایک طرف نامعلوم اور معلوم کالوں پر نظر تو دوسری جانب اپنے گھر میں شامل افراد پر۔ عجیب بات یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ابھی تک یا تو عدالت کے فیصلے کی منتظر تھی یا وہ خود بھی حکومت اور اپوزیشن کے اندر کی توڑ پھوڑ کا اندازہ لگانا چاہتی ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے مطابق ن لیگ کے دو اراکین اسمبلی کو بیلٹ خالی رکھنے کا پیغام ملا ہے اور تصدیق کی صورت وہ پیغامات میڈیا کے سامنے رکھے جائیں گے۔ خفیہ ووٹ کی صورت اپوزیشن پُراُمید ہے کہ بیس سے پچیس افراد پی ڈی ایم کے امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں جن میں سے چھ یا سات نادرن پنجاب سے ہیں اور محض وعدے پر راضی ہیں۔ اپوزیشن اراکین اس بارے میں یقین دہانی دینے سے قاصر ہیں کیونکہ اُن کے ہاں مشکل وقت میں ثابت قدم رہنے والے ساتھیوں کو مایوس کرنا بھی درست نہیں۔ اب اگر شہباز شریف جیل سے باہر آگئے تو وہ مفاہمت کی راہ اختیار کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے اندر صورت حال مخدوش ہے تاہم اپوزیشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کسی ہل جُل نہ ہونے کے باعث ایک متاثر کُن جوش اور جذبے سے انتخابی مہم میں حصہ لے رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سینیٹ انتخابات کے بعد اور لانگ مارچ سے پہلے کچھ اور تبدیلیاں بھی رونما ہو سکتی ہیں۔ وہ تبدیلیاں کچھ اور ’اعتدال پسندی‘’ کا تقاضا کر سکتی ہیں، پارلیمنٹ کو تھوڑی سی اور ’آزادی‘’، ان ہاؤس تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے جس کے لیے ن لیگ تیار نہیں۔ ماضی کے کچھ واقعات کی طرح امکان ہے کہ آصف زرداری قلیل المدتی سیٹ اپ کے لیے اپوزیشن کو تیار کر لیں اور شفاف انتخابات کی راہ ہموار ہو جائے۔ بہر حال اس ساری صورتحال میں ملک کے طاقتور ترین ادارے کا آزاد اور معتدل رہنا ضروری ہو گا۔

تاہم سینیٹ انتخابات میں سب سے بڑا مقابلہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خزانہ حفیظ شیخ کے درمیان ہوگا، قومی اسمبلی کے 341 ارکان اسلام آباد سے سینیٹ کی ایک جنرل نشست پر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، جیت کے لیے 171 ووٹ درکار ہوں گے، حکومتی اتحاد 181 ارکان جبکہ اپوزیشن اتحاد 160 ارکان پر مشتمل ہے۔
سینیٹ انتخابات 2021ء میں سب کی نظریں اسلام آباد کی جنرل نشست پر جمی ہیں جہاں دو ہیوی ویٹس مدمقابل ہیں۔ قومی اسمبلی کے 341 ارکان اسلام آباد کی ایک جنرل اور ایک خاتون نشست کے لیے حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے اسلام آباد کی جنرل نشست پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نامزد کیا تو حکومت نے ان کے مقابلے میں وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو میدان میں اتارا۔

بظاہر تو نمبر گیم میں حکومت کو قومی اسمبلی میں برتری حاصل ہے تاہم ارکان اسمبلی کی حکومت سے ناراضی اور ارکان سے ذاتی تعلقات کی بدولت سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو یقین ہے کہ وہ سینیٹ کی جنرل نشست پر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی کامیابی کے لیے خود وزیراعظم عمران خان اور کابینہ کے سینیئر ارکان ناراض حکومتی ارکان سے ملاقاتیں کررہے ہیں، حفیظ شیخ کہتے ہیں یہ دو اتحادوں کا مقابلہ ہے، حکومتی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کامیابی حاصل کریں گے ۔
قومی اسمبلی میں نمبر گیم کی بات کی جائے تو 342 کے ایوان میں 341 ارکان ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔ حکومتی اتحاد 181 ارکان جبکہ اپوزیشن اتحاد 160 ارکان پر مشتمل ہے۔ جنرل سیٹ پر امیدوار کو جیت کے لیے 171 ووٹ درکار ہوں گے۔
تحریک انصاف کے قومی اسمبلی میں 157 ارکان ہیں، اتحادی ایم کیو ایم کے 7، مسلم لیگ ق اور بلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ پانچ ، جی ڈی اے کے تین، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک ایک رکن شامل ہے ۔ چار آزاد ارکان میں سے دو آزاد ارکان بھی حکومتی اتحاد میں شامل ہیں ۔

اپوزیشن اتحاد کی بات کی جائے تو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے 83، پیپلزپارٹی کے 55، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی مینگل کے پانچ اور اے این پی کا ایک رکن شامل ہے ۔ اپوزیشن اتحاد کو دو آزاد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ حکومتی اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق اور جی ڈی اے تو تحریک انصاف کے امیدوار حفیظ شیخ کی حمایت کر اعلان کرچکی ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کی جانب سے سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری کے ذریعے کروانے کے بعد اپوزیشن کو امید ہے کہ ناراض حکومتی ارکان کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ ویسے بھی اپوزیشن امیدوار یوسف رضا گیلانی کو جیت کے لیے حکومتی اتحاد سے گیارہ ووٹ حاصل کرنا ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: