موجودہ حکومت مجھے اڑانے کی کوششوں میں مصروف ہے

پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت سمجھے جانے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ فاشسٹ ریاستیں جانتی ہیں کہ اب ٹینک سے زیادہ طاقتور میڈیا ہے اور اِس لیے میسولینی سے لے کر ہٹلر تک سب نے میڈیا کو کنٹرول کیا اور آج بھی ففتھ جنریشن وار کے نام پر میڈیا کو کنٹرول کیا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ ففتھ جنریشن وار کی اصطلاح پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ استعمال کرتی ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ کچھ ایسا ہی معاملہ آج جناح کے پاکستان میں بھی دیکھنے میں آ ر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے ہم پاکستان میں نہیں بلکہ کسی گٹر میں رہ رہے ہیں اور اگر میں اس صورتحال کے ذمہٰ داران کا نام لوں گا تو میرے خلاف ایک نیا صدارتی ریفرنس دائر کر دیا جائے گا اور مجھے اڑا دیا جائے گا۔

یہ ریمارکس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کی فُل کورٹ کے سامنے اپنے کیس میں دلائل دیتے ہوئے دیے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر اور میرے اہل خانہ پر دو سال سے جھوٹے الزامات کی بمباری کی جا رہی ہے اور خوئی پوچھنے والا نہیں حالانکہ یہ میری ذات کا معاملہ نہیں تھا بلکہ سُپریم کورٹ کے ایک جج اور اُس کے اہلخانہ کا معاملہ تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے فُل کورٹ کے ججز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اُنکی جگہ خود کو رکھ کر سوچیں کہ اگر یہ سب کچھ اُنکے یا اُنکے اہلخانہ کے ساتھ ہوتا تو وہ کیا کرتے اور کیا سوچتے؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ذات کی نہیں بلکہ سُپریم کورٹ کی ساکھ کا مُقدمہ لڑ رہے ہیں کیونکہ حکومت وقت چاہتی یے کہ مُناسب موقع ملنے پر مُجھے اُڑا دے۔ اسی وجہ سے مجھے داغدار کرنے کی کوشش کی گئی اور میرے بیوی بچوں پر دھوکہ دہی کہ الزامات لگائے گئے۔ ایسا کہتے ہوئے جسٹس عیسیٰ کی آواز فرط جذبات سے بھرا گئی اور انکی آنکھوں میں آنسو آ گے۔ اس موقع پر جسٹس عُمر عطا بندیال نے جسٹس فائز عیسیٰ کو صبر کرنے کا کہتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ جذباتی مت ہوں، ہم آپ کو سُن رہے ہیں۔ جسٹس منظور ملک نے بھی اپنی نسبتاً باریک آواز میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مُخاطب کرکے کہا کہ آپ جو کہنا چاہتے ہیں کہیں ہم آپ کو سُننے کے لیے ہی بیٹھے ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ تھوڑا توقف کرکے دوبارہ گویا ہوئے اور کہا کہ کیا یہ قائد اعظم مُحمد علی جناح کا پاکستان ہے اور کیا یہ ملک آج اُنکے ویژن کے مُطابق چل رہا ہے؟ یہاں تو وفاقی دارلحکومت اسلام آباد سے دِن دیہاڑے صحافی اغوا ہورہے ہیں، صحافیوں پر تشدد ہورہا ہے اور ابہیں قتل کیا جا رہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر چند سالوں کے بعد ایک ملٹری ڈکٹیٹر کو اپنی طاقت کی ہوس بُجھانی ہوتی ہے اور وہ آئین اور جمہوریت پر شب خون مار دیتا ہے لیکن ایسے لوگوں کا کوئی احتساب نہیں ہوتا۔ جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اُنکا دِل خون کے آنسو روتا ہے کیونکہ انہوں نے مُلک کو دولخت ہوتے اور پاکستان کی نوے ہزار فوج کو بھارتی فوج کے سامنے اپنے قدموں میں ہتھیار پھینکتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں حمود الرحمان کمیشن میں جو کُچھ سامنے آیا وہ پاکستانی میڈیا میں رپورٹ کرنے کی اجازت نہیں تھی اور کہا گیا کہ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ فاشسٹ ریاستیں جانتی ہیں کہ ٹینک سے زیادہ طاقتور میڈیا ہے اور اِس لیے ہی میسولینی سے لے کر ہٹلر تک سب نے میڈیا کو کنٹرول کیا اور آج بھی ففتھ جنریشن وار کے نام پر میڈیا کو کنٹرول کیا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ ففتھ جنریشن وار کی اصطلاح پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ استعمال کرتی ہے۔

اس موقع پر جسٹس عُمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ یہ ایک علمی بحث ہے لہذا آپ براہِ مہربانی اپنے دلائل اپنے کیس تک محدود رکھیں۔ جسٹس عطا کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے ہمیں اُس پر افسوس ہے لیکن اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے تو اِس عدالت میں کیس لے کر آئے، قانون اپنا راستہ بنائے گا اور ہم اپنے اختیار کا بھرپور استعمال کریں گے۔ تاہم جسٹس بندیال شاید بھول گے کہ اسلام اباد سے اغوا ہونے والے سینیئر صحافی اور کورٹ رپورٹنگ کرنے والے مطیع اللہ جان کے اغوا کا مُقدمہ بھی سُپریم کورٹ کے چیف جسٹس گُلزار کے سامنے زیرِ سماعت ہے لیکن آج تک نہ تو پولیس اغوا کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر پائی ہے اور نہ ہی نادرا کے ریکارڈ سے اغوا کاروں کی شناخت کروا پائی ہے۔

جسٹس فائز عیسی کا مزید کہنا تھا کہ جب ٹیکنالوجی موجود ہے تو اُس سے فائدہ کیوں نہیں اُٹھایا جاتا اور اُن کے کیس کی نظرِ ثانی اپیلوں کی سماعت براہِ راست ٹی وی پر دکھانے کا حُکم کیوں نہیں دیا جاتا؟ جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں میڈیا کو کنٹرول کیا جا چُکا ہے اور وہ بہت سارے معاملات رپورٹ نہیں کرپا رہا۔ جسٹس عُمر عطا بندیال نے عدالتی سماعت براہِ راست نشر کرنے پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ٹی وی کیمرے آپکے کاغذات کو فوکس کریں گے اور کیا بینچ کے ججز کی ایک دوسرے سے سرگوشیاں بھی نشر ہورہی ہوں گی۔ جسٹس بندیال کا کہنا تھا کہ ایسا عملی طور پر کرنے میں تکنیکی وسائل کی دستیابی کو بھی دیکھنا ہوگا۔ یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے کیس کی کاروائی براہ راست پی ٹی وی پر نشر کرنے کی درخواست کر رکھی ہے تاکہ لوگوں کو اصل حقائق معلوم ہوسکیں۔

اِس کے بعد جسٹس بندیال نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بُلا کر پوچھا کہ آپ خود دلائل دیں گے کیونکہ پہلے تو وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم نے دلائل دیئے تھے؟ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ میں وفاق سے ہدایت لے کر بتاوں گا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے مُداخلت کرتے ہوئے کہا کہ دس رُکنی بینچ دو دِن سے بیٹھا ہوا ہے اور آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں کہ وفاق کو ابھی تک پتہ ہی نہیں؟ یہ تو بہت عجیب بات ہے۔ جسٹس عُمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ یہ نظرِ ثانی اپیلیں ہیں جِن میں بہت مُختصر دلائل ہوں گے اِس لیے آپ فوری طور پر وفاق سے ہدایت لے کر بتائیں تاکہ ہم نوٹس کریں۔ فُل کورٹ کے سربراہ جسٹس بندیال کا مزید کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کی حکومتی وکیل بعد میں آ کر کہے کہ میں نے تو کیس سُنا ہی نہیں اِس لیے ہمیں جلد از جلد جواب دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: