کپتان نے محمد بن سلمان کی حمایت کا بلنڈر کیوں مارا؟

عمران خان حکومت نے خارجہ محاذ پر ایک اور بڑا بلنڈر مارتے ہوئے حال ہی میں امریکہ کی جانب سے سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کا ذمہ دار قرار دیے جانے والے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا اعلان کیا ہے جس سے جو بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے معاملات مزید خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے پاکستان کے اس اقدام کو سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں پائی جانے والی سرد مہری کو ختم کرنے کی ایک کوشش قرار دیا یے لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایسے معاملے میں سعودی ولی عہد کی حمایت سے گریز کرنا چاہیے تھا جہاں قتل کا الزام لگایا جا رہا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے پاکستان امریکہ سے مزید دور ہو جائے گا۔ دوسری جانب حکومتی ناقدین یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر کپتان حکومت کو ایسی کیا مجبوری آن پڑی تھی کہ اس نے کشمیر کے معاملے پر بھارت کا ساتھ دینے والے سعودی ولی عہد کی حمایت کر کے امریکی ناراضی مول لے لی؟ یاد ریے کہ امریکہ نے حال ہی میں وہ انٹیلی جنس رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خشوگی کے قتل کے احکامات دیے تھے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے امریکی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس میں غلط معلومات بیان کی گئی ہیں۔
سعودی عرب کے اس موقف کے بعد پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں سعودی ولی عہد کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب نے تو جمال خشوگی کے قتل کو قانون اور اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں مذید کہا کہ سعودی عرب نے اس واقعے کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بھی خاطر خواہ اقدامات کیے ہیں لہذا پاکستان سعودی ولی عہد کے ساتھ کھڑا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر اور تجزیہ کار رسول بخش رئیس کا خیال ہے کہ پاکستان کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ باہمی تعلقات میں حالیہ سردی مہری کے باوجود سعودی عرب کو ایک قریبی دوست اور اتحادی سمجھتا ہے۔ سول بخش کے بقول کسی ایک ملک کی طرف سے دوسرے ملک کے حمایت کا اظہار بے وجہ نہیں ہوتا اس لیے پاکستان کا بیان اسلام آباد اور ریاض کے درمیان پیدا ہونی والی سرد مہری کو دور کرنے کی کوشش ہے۔ تجزیہ کار زاہد حسین کا بھی یہی کہنا ہے کہ پاکستان کا اس معاملے میں سعودی عرب کی حمایت کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے اور یہ بیان توقع کے عین مطابق ہے کیوں کہ پاکستان سعودی عرب کا قریبی دفاعی شراکت دار ہے اور اسلام آباد اور ریاض کے تعلقات اب بھی مستحکم ہیں۔ تاہم رسول بخش ریئس نے کہا کہ پاکستان کو جمال خشوگی کے معاملے پر خاموش رہنا چاہیے تھا کیوں کہ سعودی عرب کے مؤقف کے باوجود دنیا جمال خشوگی کے قتل کے پسِ منطر اور اس سے جڑے حقائق سے بخوبی واقف ہے۔ دوسری خانب زاہد حسین نے کہا کہ جمال خشوگی کے معاملے پر واشنگٹن اور ریاض کے درمیان تناؤ کے باوجود دونوں ملکوں کے تعلقات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا کیوں کہ سعودی عرب امریکہ کی مشرقِ وسطی پالیسی کا اہم محور ہے۔ ان کے بقول اگرچہ جو بائیڈن انتظامیہ نے انسانی حقوق اور خشوگی کے معاملے پر ایک سخت مؤقف ضرور اختیار کیا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تناؤ کی صورتِ حال عارضی ہو گی کیوں کہ مشرقِ وسطیٰ سے متعلق امریکہ کی پالیسی کے حوالے سے سعودی عرب کا کردار اہم رہے گا۔ زاہد حسین کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ کے سعودی عرب سے متعلق تازہ اقدامات کے باوجود امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات منقطع ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ ان کے بقول انسانی حقوق اپنی جگہ لیکن بین الاقوامی تعلقات میں انسانی حقوق کے معاملات کے باوجود کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کا بنیادی محور اپنے مفادات کا تحفظ ہی ہوتا ہے۔

تاہم وزارت خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر یہ موقف اختیار کیا کہ جمال خشوگی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا جانے والے سعودی ولی عہد کی حمایت میں پاکستان وزارت خارجہ کا بیان بالکل غیر ضروری ہے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ وزارت خارجہ کے اہلکار کا موقف تھا کہ چیزیں اتنی آسان نہیں ہیں جتنی کے بیان کی جا رہی ہیں اور امریکہ اب سعودی عرب کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کررہا ہے جس کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔ امریکہ سے آنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا نام ان 76 سعودی عہدے داروں کی فہرست میں شامل ہے جن پر صحافی جمال خشوگی قتل کے الزام میں امریکی ویزا پابندیاں عائد کی گئیں ہیں. بائیڈن انتظامیہ نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں سعودی عرب کے شہریوں کے خلاف سخت پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے سابق سعودی انٹیلیجنس اہلکار احمد العسیری کو بھی ان افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے.
بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان 76 سعودی شہریوں میں وہ سعودی عہدے دار بھی شامل ہیں جو امریکہ میں رہائش پذیر سعودی شہریوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوششوں میں ملوث تھے.

کہا جا رہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ان سخت اقدامات کا مقصد بظاہر اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کی تکمیل ہے۔۔اس سے پہلے ان کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا جاتا تھا کہ وہ اپنے عرب اتحادی اور سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرتے رہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے بائیڈن کے بہت سارے فیصلے پچھلی حکومت کے موقف کے بالکل مخالف ہیں۔

یاد رہے اس سے قبل خشوگی کی منگیتر خدیجہ چنگیز نے کہا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان کو بلاتاخیر قتل کی سزا دی جانی چاہیے۔ ترکی سے تعلق رکھنے والی محقق خدیجہ چنگیز نے عالمی راہنماﺅں سے التجا کی تھی کہ وہ اپنے آپ کو ولی عہد شہزادے سے دور کر لیں اور سعودی عرب پر سخت پابندیاں عائد کریں.
بائیڈن انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ضروری ہے کہ تمام عالمی رہنما اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا وہ شہزادہ محمد بن سلمان سے ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ میں سب سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر قاتل ولی عہد شہزادہ سلمان کو سزا دینے کی مہم چلائیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: